Book Name:Bughz-o-Keena

میرے نزدیک کوئی شہر آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے شہر سے زیادہ مَبْغُوض نہ تھا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم اب وہی شہر میرے نزدیک سب شہروں سے زیادہ محبوب ہے۔ ‘‘    (صحیح البخاری، کتاب المغازی، باب وفد بنی حنیفۃ، ۳ / ۱۳۱، الحدیث۴۳۷۲)

{2} حضرت ہند بنت عتبہ  (زوجہ ابوسفیان بن حرب)  رضی اللہ تعالٰی عنہاجو حضرتِ سیِّدُنا امیر حمزہ  رضی اللہ تعالٰی عنہ  کا کلیجا چبا گئی تھیں ، ایمان لاکر کہنے لگیں : یارسولَاللہصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ! روئے زمین پر کوئی اہلِ خیمہ میری نگاہ میں آپصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کے اہلِ خیمہ سے زیادہ مَبْغُوض نہ تھے لیکن آج میری نگاہ میں رُوئے زمین پر کوئی اہلِ خیمہ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اہلِ خیمہ سے زیادہ محبوب نہیں ۔ ‘‘   (صحیح البخاری، کتاب مناقب الانصار، باب ذکر ہند بنت عتبۃ، ۲ / ۵۶۷، ، الحدیث۳۸۲۵)

          {3}حضرت صفوان بن اُمیہ  رضی اللہ تعالٰی عنہ  کا بیان ہے کہ حُنَین کے دن رسول اللہ  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مجھے مال عطا فرمایا،  حالانکہ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  میری نظر میں مَبْغُوض ترین خلق تھے۔ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّممجھے عطا فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم میری نظر میں محبوب ترین خَلْق ہوگئے۔  (جامع الترمذی، کتاب الزکاۃ، باب ماجاء فی اعطاء المؤلفۃ قلوبہم، ج۲، ص۱۴۷، الحدیث۶۶۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                   صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

بُغْض وعناد رکھنے والا یہودی کیسے مسلمان ہوا؟

    ہمارے بُزُرگانِ دین رَحِمَھُمُ اللہُ المُبین بھی نبی کریم رَء ُوفٌّ رَّحیم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے بُغْض وکینہ رکھنے والوں کے بُرے سلوک پرایساصَبْر فرماتے تھے کہ بالآخر سامنے والا شرمندہ ہوکر بُغْض وکینہ سے رہا ہوکر ان کی محبت واُلفت میں گرفتار ہوجاتا تھا۔بطورِ مثال ایک حکایت ملاحظہ کیجئے : چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا مالک بن دینار عَلَیْہِ رَحمَۃُاللّٰہ الغفّار نے ایک مکان کرائے پر لیا ۔ اُس مکان کے بالکل مُتَّصِل ایک یہودی کا مکان تھا۔وہ یہودی بُغض وعِناد کی بنیاد پرپرنالے کے ذَرِیعے گندا پانی او رغَلاظت آپ رَحمَۃُ اللّٰہِ تعالٰی علیہ کے کاشانہ عظمت میں ڈالتا رہتا مگر آپ رَحمَۃُ اللّٰہِ تعالٰی علیہ خاموش ہی رَہتے۔ آخرِکا ر ایک دن اُس نے خود ہی آکر عَرض کی : جناب !میرے پرنالے سے گرنے والی نَجاست کی وجہ سے آپ کوکوئی شکایت تو نہیں ؟  آپ رَحمَۃُ اللّٰہِ تعالٰی علیہ نے نہا یت ہی نرمی کے ساتھ فرمایا  : پرنالے سے جو گندَگی گر تی ہے اُس کو جھاڑودے کر دھوڈالتا ہوں۔ اس نے کہا : آپ کو اتنی تکلیف ہونے کے با وُجُود غُصّہ نہیں آتا؟  فرمایا: آتا تو ہے مگر پی جاتا ہوں کیونکہ خدائے رحمنعَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ محبت نشان ہے: وَ  الْكٰظِمِیْنَ  الْغَیْظَ  وَ  الْعَافِیْنَ  عَنِ  النَّاسِؕ-وَ  اللّٰهُ  یُحِبُّ  الْمُحْسِنِیْنَۚ (۱۳۴)   (پ  ۴، اٰل عمران: ۱۳۴)   (ترجَمہ کنزالایمان : اور غصّہ پینے والے او رلوگو ں سے در گزر کرنے والے اور نیک لوگ اللّٰہ کے محبوب ہیں ۔) یہ جواب سن کر وہ یہودی مسلمان ہوگیا۔  (تذکِرۃُ الاولیاء ص۵۱)

نگاہِ ولی میں وہ تا ثیر دیکھی

بدلتی ہزارو ں کی تقدیر دیکھی

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                   صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

مجھے آپ سے بُغْض تھا

          مشہورصَحابی حضرتِ سیِّدُناابوالدّرْدا رضی اللہ تعالٰی عنہ کی کنیز نے ایک دن عَرْض کی: حُضور! سچ بتایئے کہ آپ انسان ہیں یا جِنّ؟  فرمایا : اَ لْحَمْدُ للّٰہعَزَّوَجَلَّ! میں اِنسان ہی ہوں ۔ کہنے لگی : مجھے تو انسان نہیں لگتے کیوں کہ میں چالیس دن سے لگاتار آپ کو زہرکھلا رہی ہوں مگر آپ کا بال تک بِیکا نہیں ہوا ! فرمایا : کیا تجھے معلوم نہیں جو لوگ ہر حال میں ذکْرُ اﷲ عَزَّوَجَلَّ کرتے رہتے ہیں اُن کو کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی اور میں اِسمِ اعظم کے ساتھ اللہعَزَّوَجَلَّ   کا ذِکْر کرتا ہوں ۔ پوچھا: وہ اِسمِ اعظم کونسا ہے؟  فرمایا  (میں ہر بار کھانے پینے سے قبل یہ پڑھ لیا کرتا ہوں ) : بِسْمِ اﷲِالَّذِیْ لَایَضُرُّ مَعَ اسْمِہٖ شَیْئٌ فِی الْاَ رْضِ وَ لَا فِی السَّمائِ وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْم۔ (یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نام سے شروع کرتا ہوں جس کے نام کی بَرَکت سے زمین و آسمان کی کوئی چیزنقصان نہیں پہنچا سکتی اور وہ سُننے والا جاننے والا ہے)

 



Total Pages: 30

Go To