Book Name:Bughz-o-Keena

حضرت حمزہ  رضی اللہ تعالٰی عنہ کے قاتل اور ان کی ناک،  کان کاٹنے والے،  ان کی آنکھیں پھوڑنے والے،  ان کا جگر چبانے والے بھی اس مجمع میں موجود تھے وہ ستم گار جنہوں نے شمع نبوت کے جاں نثارپروانوں حضرت بلال، حضرت صہیب،  حضرت عمار،  حضرت خباب،  حضرت خبیب،  حضرت زید بن دثنہ  رضی اللہ تعالٰی عنہم  وغیرہ کو رسیوں سے باندھ باندھ کر کوڑے مار مار کر جلتی ہوئی ریتوں پر لٹایا تھا، کسی کو آگ کے دہکتے ہوئے کوئلوں پر سلایا تھا،  کسی کو چٹائیوں میں لپیٹ لپیٹ کر ناکوں میں دھوئیں دیئے تھے،  سینکڑوں بار گلا گھونٹا تھا۔ یہ تمام جوروجفا اور ظُلْم و ستمگاری کے پیکر،  جن کے جسم کے رونگٹے رونگٹے اور بدن کے بال بال ظُلْم وعدوان اور سرکشی و طغیان کے وبال سے خوفناک جرموں اور شرمناک مظالم کے پہاڑ بن چکے تھے۔ آج یہ سب کے سب دس بارہ ہزار مہاجرین و انصار کے لشکر کی حراست میں مُجرِم بنے ہوئے کھڑے کانپ رہے تھے اور اپنے دلوں میں یہ سوچ رہے تھے کہ شاید آج ہماری لاشوں کو کتوں سے نچوا کر ہماری بوٹیاں چیلوں اور کووں کو کھلا دی جائیں گی اور انصارو مہاجرین کی غضب ناک فوجیں ہمارے بچے بچے کو خاک و خون میں ملاکر ہماری نسلوں کو نیست و نابود کر ڈالیں گی اور ہماری بستیوں کو تاخت و تاراج کرکے تہس نہس کر ڈالیں گی ان مجرموں کے سینوں میں خوف وہراس کا طوفان اُٹھ رہا تھا۔ دہشت اور ڈر سے ان کے بدنوں کی بوٹی بوٹی پھڑک رہی تھی، دل دھڑک رہے تھے،  کلیجے منہ میں آگئے تھے اور عالَمِ یاس میں انہیں زمین سے آسمان تک دھوئیں ہی دھوئیں کے خوفناک بادل نظر آرہے تھے۔ اسی مایوسی اور ناامیدی کی خطرناک فضا میں ایک دم شہنشاہِ رسالت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی نگاہ رحمت ان پاپیوں کی طرف متوجہ ہوئی اور ان مجرموں سے آپ نے پوچھا :  ’’ بولو! تم کو کچھ معلوم ہے کہ آج میں تم سے کیا معاملہ کرنے والا ہوں ؟  ‘‘

          اس دہشت انگیز اور خوفناک سوال سے مجرمین حواس باختہ ہو کر کانپ اُٹھے لیکن جبینِ رحمت کے پیغمبرانہ تیور کو دیکھ کر اُمید و بیم کے محشر میں لرزتے ہوئے سب یک زبان ہوکر بولے: ’’  اَخٌ کَرِیْمٌ وَابْنُ اَخٍ کَرِیْمٍ آپ کرم والے بھائی اور کرم والے باپ کے بیٹے ہیں ۔ ‘‘ سب کی للچائی ہوئی نظریں جمالِ نبوت کا منہ تک رہی تھیں اور سب کے کان شہنشاہ نبوت کا فیصلہ کن جواب سننے کے منتظر تھے کہ اک دم دفعۃً فاتح مکہ نے اپنے کریمانہ لہجے میں ارشاد فرمایا :

لَاتَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ فَاذْھَبُوْا اَنْتُمُ الطُّلَقَاءُ           آج تم پر کوئی الزام نہیں ،  جاؤ تم سب آزاد ہو۔

 (المواہب اللدنیۃ و شرح الزرقانی،  باب غزوۃ الفتح الاعظم،  ۳ / ۴۴۹ملخصًا)

          بالکل غیرمتوقع طورپر ایک دم اچانک یہ فرمان رسالت سن کر سب مجرموں کی آنکھیں فرطِ ندامت سے اشکبار ہوگئیں اور ان کے دلوں کی گہرائیوں سے جذبات شکریہ کے آثار آنسوؤں کی دھار بن کر ان کے رخسار پر مچلنے لگے اور کفار کی زبانوں پر لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ کے نعروں سے حرمِ کعبہ کے درودیوار پر ہر طرف انوار کی بارش ہونے لگی۔ ناگہاں بالکل ہی اچانک اور دفعۃً ایک عجیب اِنقلاب برپا ہوگیا کہ سماں ہی بدل گیا،  فضا ہی پلٹ گئی اور ایک دم ایسا محسوس ہونے لگا کہ  

جہاں تاریک تھا،  بے نور تھا اور سخت کالا تھا

کوئی پردے سے کیا نکلا کہ گھر گھر میں اجالا تھا

 (سیرت مصطفیٰ، ص۴۳۸ تا ۴۴۱)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                   صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

بُغْض وعناد محبت میں بدل گیا

                   ہمارے مدنی سرکار مدینے کے تاجدار صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے کردار وعمل کی بلندیاں دیکھ کر آپ کے دشمن بھی بالآخر آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے حد درجہ محبت کرنے لگتے تھے ،  اس کی تین جھلکیاں ملاحظہ کیجئے:

           {1}حضرت ثمامہ بن اُثال یمامی رضی اللہ تعالٰی عنہجو اہل یمامہ کے سردار تھے ایمان لاکر کہنے لگے:  ’’  خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم میرے نزدیک روئے زمین پر کوئی چہرہ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے چہرے سے زیادہ مبغوض نہ تھا۔ آج وہی چہرہ مجھے سب چہروں سے زیادہ محبوب ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم میرے نزدیک کوئی دین آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دین سے زیادہ بُرانہ تھااب وہی دین میرے نزدیک سب دینوں سے زیادہ محبوب ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم



Total Pages: 30

Go To