Book Name:Bughz-o-Keena

جب تک اس کے ڈوبنے کا یقین نہیں ہوگیا ۔ پھر وہ گھر واپس لوٹ آیا اور دل ہی دل میں خوش تھا کہ اب سب صرف اور صرف مجھے پیار کیا کریں گے ۔جب گھر والوں کو بچی کہیں دِکھائی نہ دی تو اس کی تلاش شروع ہوئی۔اِعلانات کروائے گئے ، شہر کا چپہ چپہ چھان مارا مگر بچی نہ ملی ۔ پولیس کو بھی اِطلاع دے دی گئی ۔تفتیش شروع ہوئی تو تیسرے ہی روز بچے نے راز اُگل دیا کہ کس طرح اور کس وجہ سے اس نے اپنی چھوٹی بہن کو موت کے گھاٹ اُتارا تھا ۔جس نے بھی سُناوہ سکتے میں آگیا ، والدین پر تو گویا قیامت ٹوٹ پڑی تھی ،  بیٹی تو دُنیا سے جاہی چکی تھی اب بیٹا بھی سلاخوں کے پیچھے جاتادکھائی دے رہا تھا لہٰذا اُسے معاف کرکے قانون سے رہائی دِلوا دی گئی ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                   صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

اگر کوئی ہم سے کینہ رکھتا ہوتو کیا کرنا چاہئے؟

          بعض اوقات کسی اسلامی بھائی کو سُنی سنائی باتوں کی بنیاد پر یہ خیال ستانے لگتا ہے کہ فلاں شخص مجھ سے کینہ رکھتا ہے یا حَسَد کرتا ہے حالانکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا محض اس کی بدگمانی یا وہم ہوتا ہے ۔کیونکہ کینہ ہویا حَسَد !اس کا تعلُّق باطِن سے ہے اور کسی کی باطِنی کیفیات کا یقینی پتا چلانا ہمارے اِختیار میں نہیں ہے ۔اس لئے حسنِ ظن کی عادت بنالی جائے کہ حسنِ ظن میں کوئی نقصان نہیں اور بدگمانی میں کوئی فائدہ نہیں ۔ ہاں ! اگر کسی کی حرکات وسکنات اور بُرے سلوک سے آپ کو واضح طور پر محسوس ہو کہ یہ مجھ سے کینہ رکھتا ہے تو بھی عَفْوودرگزر سے کام لیجئے اور حسنِ سلوک سے اس کی  دشمنی کو دوستی میں بدلنے کی کوشش کیجئے ۔حضرت سَیِّدُنا امام غزالی علیہ رحمۃ اللہِ الوالی لکھتے ہیں : جس کے ساتھ کینہ بَرتاگیا اس کی تین حالتیں ہیں :  (۱)  اس کا وہ حق پورا کیا جائے جس کا وہ مستحق ہے اور اس میں کسی قسم کی کمی زیادتی نہ کی جائے اسے عَدل کہتے ہیں اوریہ صالحین کا انتہائی درجہ ہے ۔ (۲)  عَفْو ودرگزر اور حُسنِ سُلوک کے ذریعے اس کے ساتھ نیکی کی جائے یہ صِدِّیْقِین کاطرزعمل ہے۔ (۳)  اس کے ساتھ ایسی زیادتی کرنا جس کا وہ مستحق نہیں یہ ظُلْم ہے اورکمینے لوگوں کا طریقہ ہے۔ (احیاء العلو م،  کتاب ذم الغضب والحقد والحسد، ۳ /  ۲۲۴ )

بچالو! نارِ دوزخ سے بچارے حاسدوں کو بھی

میں کیوں چاہوں کسی کی بھی بُرائی یارسولَ اللہ

 (وسائل بخشش ص ۲۴۷)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                   صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

فتح مکہ کے دن عام معافی کا اعلان کردیا

          دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ869 صفحات پر مشتمل کتاب  ’’ سیرتِ مصطَفیٰ  ‘‘ کے صفحہ438پرہے: فتح مکہ کے بعد تاجدارِ دوعالَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے شہنشاہ اسلام کی حیثیت سے حرمِ الٰہی میں سب سے پہلا دربارِعام منعقد فرمایا جس میں افواجِ اسلام کے علاوہ ہزاروں کفارومشرکین کے خواص و عوام کا ایک زبردست اِزدحام (یعنی ہجوم)  تھا۔ شہنشاہ کونین صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس ہزاروں کے مجمع میں ایک گہری نگاہ ڈالی تو دیکھا کہ سرجھکائے،  نگاہیں نیچی کئے ہوئے لَرزاں و تَرساں اشرافِ قریش کھڑے ہوئے ہیں ۔ ان ظالموں اور جفاکاروں میں وہ لوگ بھی تھے جنہوں نے آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکے راستوں میں کانٹے بچھائے تھے۔ وہ لوگ بھی تھے جو بارہا آپ پر پتھروں کی بارش کرچکے تھے۔ وہ خونخوار بھی تھے جنہوں نے بار بار آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر قاتلانہ حملے کئے تھے۔ وہ بے رحم و بے درد بھی تھے جنہوں نے آپ کے دندانِ مبارک کو شہید اور آپ کے چہرئہ انور کو لہولہان کر ڈالا تھا۔ وہ اوباش بھی تھے جو برسہابرس تک اپنی بہتان تراشیوں اور شرمناک گالیوں سے آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے قلبِ مبارک کو زخمی کرچکے تھے۔ وہ سفاک و درندہ صفت بھی تھے جو آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکے گلے میں چادر کا پھندا ڈال کر آپ کا گلا گھونٹ چکے تھے۔ وہ ظُلْم و ستم کے مجسمے اور پاپ کے پتلے بھی تھے جنہوں نے آپ کی صاحبزادی حضرت (سیِّدَتُنا)  زینب رضی اللہ تعالٰی عنہا کو نیزہ مار کر اونٹ سے گرا دیا تھا اور ان کا حمل ساقِط ہوگیا تھا۔ وہ آپ کے خون کے پیاسے بھی تھے جن کی تشنہ لبی اور پیاس خونِ نبوت کے سوا کسی چیز سے نہیں بجھ سکتی تھی۔ وہ جفاکار و خونخوار بھی تھے جن کے جارحانہ حملوں اور ظالمانہ یلغار سے بار بار مدینہ منورہ کے درودیوار دہل چکے تھے۔ حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پیارے چچا



Total Pages: 30

Go To