Book Name:Bughz-o-Keena

درمیان برابری کا سلوک کرو حتّٰی کہ بوسہ لینے میں بھی  (برابری کرو) ۔ (الجامع الصغیر،  ص۱۱۷حدیث۱۸۹۵)

          ماں باپ کو چاہیے کہ ایک سے زائد بچے ہونے کی صورت میں انہیں کوئی چیز دینے اورپیار محبت اور شفقت میں برابری کا اصول اپنائیں ۔بلاوجہِ شرعی کسی بچے بالخصوص بیٹی کو نظر انداز کر کے دوسرے کو اس پر ترجیح نہ دیں کہ اس سے بچوں کے نازُک قلوب پر بُغْض وحَسَد کی تہہ جم سکتی ہے جو ان کی شخصی تعمیر کے لئے نہایت نقصان دہ ہے ۔ معلمِ اخلاق صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ہمیں اولاد میں سے ہر ایک کے ساتھ مُساوی سلوک کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنا نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ میرے والدرضی اللہ تعالٰی عنہ نے مجھے اپنا کچھ مال دیا تو میری والدہ حضرت عمرہ بنتِ رواحہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے کہا : میں اس وَقْت تک راضی نہ ہوں گی جب تک کہ آپ اس پر رسولاللہصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو گواہ نہ کر لیں ۔ چنانچہ میرے والد مجھے شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی بارگاہ میں لے گئے تاکہ آپصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو مجھے دئیے گئے صدقے پر گواہ کر لیں ۔ سرورِ کونینصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ان سے پوچھا : کیا تم نے اپنے تمام بیٹوں کے ساتھ ایسا ہی کیا ہے ؟ میرے والد محترم رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عَرْض کی: ’’ نہیں ۔ ‘‘ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے ڈرواور اپنی اولاد میں انصاف کرو ۔یہ سن کر وہ واپس لوٹ آئے اور وہ صدقہ واپس لے لیا ۔ (صحیح مسلم، کتاب الھبات ، باب کراہۃ تفضیل بعض الاولاد فی الھبۃ، الحدیث۱۶۲۳، ص۸۷۸)

چھوٹی بہن کو قتل کر ڈالا

          پنجاب  (پاکستان) کے شہر کا ایک سچا واقعہ ہے کہ ایک گھرانے میں بیٹا پیدا ہوا، جو سب گھر والوں کی آنکھ کا تارا تھا، والدین اس پر جان چھڑکتے تھے ۔کچھ ہی عرصہ بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں بیٹی سے نوازا تو وہ سب گھر والوں کی نگاہوں کا مرکز بن گئی جس کے نتیجے میں بیٹے کی طرف توجہ کم ہوگئی۔یہ کوئی بڑی بات نہیں تھی مگر بیٹا اس بات کو شدت سے محسوس کرنے لگاکہ اب میرے ناز نخرے نہیں اٹھائے جاتے بلکہ چھوٹی بہن کو ہی لاڈ پیار کیا جاتا ہے ۔بڑھتے بڑھتے یہ احساس بُغْض وکینے اور حَسَد میں تبدیل ہوگیا ۔اب وہ وقتا فوقتاً چھوٹی بہن کو مارنے پیٹنے لگا تھا اور نت نئے طریقوں سے اُسے تنگ کرنے کی کوشش کرتا ۔والدین نے اسے معمول کی بات سمجھا اور نظر انداز کیا ۔کئی سال یونہی گزر گئے، پھر ایک دن ایسا دلخراش واقعہ پیش آیا جس نے سارے شہر والوں کو ہلا کر رکھ دیا ۔ہوا یوں کہ بھائی نے گھروالوں کو بتائے بغیر چھوٹی بہن کو سیر کے بہانے سائیکل پر بٹھایا اور نہر کی طرف لے گیا اور وہاں جاکر بہن کو نہر میں دھکادے دیا ، وہ ’’  بھیا!بچاؤ، بھیا! بچاؤ ‘‘ کی آوازیں لگاتی رہی مگر اس پر سنگدلی غالب آچکی تھی بلکہ وہ اتنی دور تک نہر کنارے اس کے ساتھ ساتھ چلتا رہا


 

 



Total Pages: 30

Go To