Book Name:Bughz-o-Keena

صفّہ کے پاس تشریف لائے اور اِستفسار فرمایا:  ’’ تم نے صبح کس حال میں کی؟  ‘‘  انہوں نے  عَرْض کی: ’’ خیروبھلائی کے ساتھ۔ ‘‘  ارشاد فرمایا:  ’’ آج تم بہتر ہو  (اس وَقْت سے کہ) جب تمہارے پاس صبح کھانے کا ایک بڑا پیالہ اور شام دوسرا بڑا پیالہ لایا جائے گا اوراپنے گھروںپراس طرح پردے لٹکاؤگے جس طرح کعبے پر غلاف ڈالے جاتے ہیں۔ ‘‘ اصحابِ صفہ  ([1] ) رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم  عَرْض گزارہوئے: ’’ یارسولَ اللّٰہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ! کیاہمیں اپنے دین پرقائم رہتے ہوئے یہ نعمتیں حاصل ہوں گی؟  ‘‘  فرمایا:  ’’ ہاں۔ ‘‘   عَرْض کی: ’’ پھرتوہم اس وَقْت بہترہوں گے کیونکہ ہم صدقہ وخیرات کریں گے اور غلاموں کوآزاد کریں گے۔ ‘‘ آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: لَا بَلْ اَنْتُمُ الْیَوْمَ خَیْرٌ اِنَّکُمْ اِذَا طَلَبْتُمُوْہَا تَقَاطَعْتُمْ وَتَحَاسَدْتُمْ وَتَدَابَرْتُمْ وَتَبَاغَضْتُمْ نہیں! بلکہ تم آج بہتر ہو کیونکہ جب تم ان نعمتوں کو پاؤ گے تو آپس میں حَسَد کرنے لگو گے، باہم قَطع تعلقی کرنے کی آفت اور بُغْض وعداوت میں پڑجاؤ گے۔ (الزھد لہناد بن السری ،  باب معیشۃ اصحاب النبی صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ۲ / ۳۹۰، الحدیث۷۶۰ وحلیۃ الاولیاء، ۱ / ۴۱۶، حدیث: ۱۲۰۲)

آپس میں بغض وعداوت جڑ پکرلیتی ہے

          جب اٰلِ کِسْرٰی کے خزانوں کو امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس لایا گیا تو آپ رونے لگے،  حضرت سیِّدُنا عبد الرحمن بن عَوْف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی: یا امیر المؤمنین  (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) ! کس چیز نے آپ کو رُلایا ہے؟  آج تو شکر کا دن ہے،  فرحت و سُرور کا دن ہے۔ حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: مَا کَثُرَ ہٰذَا عَنْدَ قَوْمٍ اِلَّا اَ لْقَی اللہُ بَیْنَہُمُ الْعَدَاوَۃَ وَ الْبَغْضَائَ  یعنی جس قوم کے پاس بھی اس (مال)  کی کثرت ہو جائے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کو بغض و عداوت میں مبتلا فرما دیتا ہے۔ (المصنف لابن ابی شیبۃ،  کتاب الزہد، باب کلام عمر بن الخطاب ، ۸ / ۱۴۷، الحدیث: ۵، ملخصاً)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                   صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 (۳)   سلام ومصافحہ کی عادت بنالیجئے

          مسلمان سے ملاقات کے وَقْت سلام ومصافحہ کرنے کی بڑی فضیلت ہے نیز آپس میں ہاتھ ملانے سے کینہ ختم ہوتا ہے اور ایک دوسرے کو تحفہ دینے سے محبت بڑھتی اور عداوت دور ہوتی ہے،  نبی مُکَرَّم، نُورِ مُجسَّم،  رسول اکرمصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:  تَصَافَحُوْا یَذْہَبِ الْغِلُّ وَ تَہَادَوْا تَحَابُّوْا وَتَذْہَبِ الشَّحْنَاءُ  مصافحہ کیا کرو کینہ دور ہوگا اور تحفہ دیا کرو محبت بڑھے گی اور بُغْض دور ہوگا ۔ (موطأ امام مالک، کتاب حسن الخلق، ۲ / ۴۰۷،  الحدیث: ۱۷۳۱)

            مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : یہ دونوں عمل بہت ہی مُجَرَّب (یعنی تجربہ شدہ)  ہیں جس سے مصافحہ کرتے رہو اس سے دشمنی نہیں ہوتی ۔ اگر اتفاقاً کبھی ہو بھی جائے تو اس کی برکت سے ٹھہرتی نہیں ۔یونہی ایک دوسرے کو ہدیہ دینے سے عداوتیں ختم ہوجاتی ہیں ۔ (مراٰۃ المناجیح، ۶ / ۳۶۸)

مدنی پھول:   مُصافَحَہ کرتے  (یعنی ہاتھ ملاتے)  وَقْت سنّت یہ ہے کہ ہاتھ میں رُومال وغیرہ حائل نہ ہو،  دونوں ہتھیلیاں خالی ہوں اور ہتھیلی سے ہتھیلی ملنی چاہئے۔  (بہارِ شریعت،  ج۳،  حصہ۱۶، ص۴۷۱ ملخصًا)  

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                   صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

  (۴) بے جا سوچناچھوڑ دیجئے

    بعض حُکَماء کا قول ہے: ’’ تین چیزوں میں غور نہ کر (۱)  اپنی مفلِسی و تنگدستی  (اور مصیبت) پر ، اس لئے کہ اس میں غور کرتے رہنے سے تیرے



[1]    صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کا معمول تھا کہ ضروریاتِ زندگی پوری کرنے کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ معلّمِ اعظم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ کی بارگاہِ بے کس پناہ میں حاضر ہوکر علمِ دین بھی حاصل کیا کرتے تھے۔مگر مختلف علاقوں سے تعلُّق رکھنے والے 60سے 70 صحابہ کرام ایسے تھے جو سرکارِ مدینہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم کے درِاقدس پر پڑے رہتے اور آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکی صحبت میں رہ کر علمِ دین سیکھا کرتے تھے۔ ان کی رہائش ایک چھنے ہوئے چبوترے میں تھی جسے عربی میں صُفَّہ کہتے ہیں لہذا !ان نفوسِ قدسیہ کو اصحاب ِ صُفّہ کہا جاتا تھا ۔ سب سے زیادہ احادیث روایت کرنے والے سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بھی ان خوش نصیبوں میں شامل تھے۔رحمتِ عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمان کے اخراجات کے کفیل تھے ۔(ماخوذ از مرأۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح ، ۷/ ۳۵)



Total Pages: 30

Go To