Book Name:Bughz-o-Keena

فرمانِ طہارت نشان ہے: اِنَّ اللہَ لَا یَنْظُرُ اِلٰی صُوَرِکُمْ وَاَمْوَالِکُمْ وَلٰکِنْ یَنْظُرُ اِلٰی قُلُوْبِکُمْ وَاَعْمَالِکُمْ یعنیاللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اوراَموال کی طرف نظر نہیں فرماتا بلکہ وہ تمہارے دلوں اور اعمال کی طرف نظر فرماتا ہے۔ (صحیح مسلم، باب تحریم ظلم المسلم وخذلہ واحتقارہ…الخ،  ص ۱۳۸۶حدیث۲۵۶۴ )

        حُجَّۃُ الْاِسْلام حضرت سیِّدُنا امام محمدبن محمد بن محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہِ الوالی    ’’ منہاج العابدین  ‘‘ میں یہ حدیث نقل کرنے کے بعدلکھتے ہیں : دل ربّ العٰلمین کی نظر کا مقام ہے تو اس شخص پر تعجب ہے جو ظاہری چہرے کاخیال رکھے،  اسے دھوئے،  میل کچیل سے سُتھرا رکھے تاکہ مخلوق اس کے چہرے کے کسی عیب پر مطلع نہ ہو مگر دل کا خیال نہ رکھے جو ربّ العٰلمین کی نظر کا مقام ہے! چاہیے تو یہ تھا کہ دل کو پاکیزہ رکھتا،  اسے آراستہ کرتا تاکہ ربّ العٰلمین کواس میں کوئی عیب نہ دکھائی دے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ دل توگندگی،  پلیدی اور غلاظت سے لبریز ہے مگر جس پر مخلوق کی نظر پڑتی ہے اس کے لیے کوشش ہوتی ہے کہ اس میں کوئی عیب و قباحت نہ پائی جائے! (منہاج العابدین ص۶۸)

مِرے دل سے دُنیا کی چاہت مٹا کر

کر اُلفت میں اپنی فنا یاالٰہی

 (وسائل بخشش ص ۷۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                   صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

میں تمہارے پاس صاف سینہ آیا کروں

          سرکارِ دو عالم، نُورِ مجَسَّم  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکافرمانِ اُلفت نشان ہے: لَا یُبْلِغْنِیْ اَحَدٌ مِّنْ اَصْحَابِیْ عَنْ اَحَدٍ شَیْئًا،  فَاِنِّی اُحِبُّ اَنْ اَخْرُجَ اِلَیْکُمْ وَاَنَا سَلِیْمُ  الصَّدْرِیعنی مجھے کوئی صحابی کسی کی طرف سے کوئی بات نہ پہنچائے،  میں چاہتا ہوں کہ تمہارے پاس صاف سینہ آیا کروں ۔  (سُنَنِ ابی داوٗد، کتاب الادب، ۴ / ۳۴۸، الحدیث ۴۸۶۰)

           مُحَقِّق عَلَی الِاْطلاق ،  خاتِمُ المُحَدِّثین ،  حضرتِ علّامہ شیخ عبدُالحقّ مُحَدِّث دِہلوی علیہ ر حمۃ  اللہِ  القوی حدیثِ پاک کے اس حصّے  ’’ مجھے کوئی صَحابی کسی کی طرف سے کوئی بات نہ پہنچائے ‘‘ کی وَضاحت کرتے ہوئے فر ما تے ہیں : ’’ یعنی کسی کی کوتاہی ، فعلِ بد،  عادتِ بد، اُس نے یہ کیا یا اُس نے یہ کہا ،  فُلاں اس طرح کہہ رہا تھا ۔ ‘‘  (اشعۃ اللّمعات، ۴ / ۸۳ )  حدیث شریف کے اس حصّے ’’ میں چاہتا ہوں کہ تمہارے پاس صاف سینہ آیا کروں  ‘‘  کی تشریح کرتے ہوئے مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان  فرماتے ہیں : یعنی کسی کی عداوت،  کسی سے نفرت دل میں نہ ہوا کرے۔ یہ بھی ہم لوگوں کے لیے بیانِ قانون ہے کہ اپنے سینے (مسلمانوں کے کینے سے)  صاف رکھو تاکہ ان میں مدینے کے انوار دیکھو ،  ورنہحُضُور ( صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)   کا سینۂ رحمت،  نورِ کرامت کا گنجینہ ہے وہاں کَدُورَت (یعنی بُغُض و کینے)  کی پہنچ ہی نہیں ۔  (مراٰ ۃ المناجیح ، ۶ / ۴۷۲)

اللہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر بے شمار دُرودیں ہوں اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔ ٰامین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                   صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

اپنے دل پر غور کرلیجئے

          ہر اسلامی بھائی کو چاہئے کہ پہلی فرصت میں اپنے گھر بار،  عزیز واقارب ، محلہ داروں ، مارکیٹ یا دفتر میں ساتھ کام کرنے والوں ،  ساتھ پڑھنے والوں الغرض جن جن سے اس کا واسطہ پڑتا ہے ، ان کے بارے میں اپنے دل کو پوری دیانتداری سے ٹٹولے کہ بلاوجہ شرعی کہیں کسی کی دشمنی تو نہیں چھپی ہوئی؟ اسے نقصان پہنچانے کی خواہش تو موجود نہیں ؟ اگر اسے نقصان پہنچے تو خوشی تو نہیں محسوس ہوتی ؟  اس کی غیبت، چغل خوری ، حق تلفی اوردل آزاری کا سلسلہ تو نہیں ؟ اگر ان سوالات کا جواب ہاں میں ملے تو فوراً توبہ کیجئے اور کینے سے بچنے کے لئے کوشاں ہوجائیے۔غوروفکر کا یہ عمل ہرروز نہیں تو کم از کم ہرہفتے ایک بار ضرور کرنے کی مدنی التجا ہے ۔

ہمارا مَدَنی مقصد: مجھے اپنی اور ساری دُنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے ۔  اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ

 



Total Pages: 30

Go To