Book Name:Bughz-o-Keena

عزت نہیں ۔ (مراۃ المناجیح ،  ۱ / ۱۷۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                                                                   صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

افضل کون؟

           حضرت عبداﷲ ابن عمرورضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ رسولُ اللہصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے عَرْض کی گئی کہ لوگوں میں سے کون افضل ہے؟  فرمایا: ہر سلامت دل والا ،  سچی زبان والا۔ لوگوں نے عَرْض کی: سچی زبان والے کو تو ہم جانتے ہیں ، یہ سلامت دل والا کیا ہے ؟ فرمایا: ہُوَ التَّقِیُّ النَّقِیُّ لَا اِثْمَ فِیْہِ وَ لَا بَغْیَ وَلَا غِلَّ وَ لَاحَسَدَ یعنی وہ ایسا ستھرا ہے جس پر نہ گناہ ہو،  نہ بغاوت،  نہ کینہ اور نہ حَسَد۔ (سنن ابن ماجہ، کتاب الزھد،  باب الورع، ۴ / ۴۷۵، الحدیث: ۴۲۱۶)

جنّتی آدمی

          حضرتِ سَیِّدُنا اَنس رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ ہم خاتَمُ الْمُرْسَلین،  رَحمَۃٌ لِّلْعٰلمین صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہِ بے کس پناہ میں حاضر تھے کہ آپ  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:  ’’ یَطْلُعُ عَلَیْکُمُ الْاٰنَ مِنْ ہٰذَا الْفَجِّ رَجُلٌ مِّنْ اَہْلِ الْجَنَّۃِ  ‘‘   ابھی تمہارے پاس اس راستے سے ایک جنتی آدمی آئے گا۔ اسی وقت ایک انصاری صاحب وہاں آئے جن کی داڑھی وضو کے پانی سے تَر تھی،  انہوں نے بائیں ہاتھ میں اپنی جوتیاں اٹھا رکھی تھیں ۔ دوسرے دن پھر نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے پہلے دن کی طرح ارشاد فرمایا اور وہی شخص آئے،  تیسرے دن بھی ایسا ہی ہوا۔حضرتِ سیدنا عبد اللہ بن عَمرو  رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ میں اس اَنصاری کے پاس پہنچا اور پوچھا: کیا آپ میری مہمان نوازی کرسکتے ہیں ؟ انہوں نے ہامی بھر لی اورمجھے اپنے ساتھ لے گئے۔میں تین راتیں ان کے پاس رہا ، اس دوران میں نے انہیں رات کو قیام کرتے  (یعنی نوافل ادا کرتے ہوئے )  نہیں دیکھا، ہاں ! یہ ضرور دیکھا کہ جب وہ بستر پر کروٹیں بدلتے توذکرُ اللہ کرتے یہاں تک کہ نماز فجر کا وقت ہوجاتا اور وہ اچھی بات کرتے یا خاموش رہتے ۔جب تین راتیں اسی طرح گزر گئیں تو میں نے ان کے عمل کو کم جاناچنانچِہ میں نے ان سے کہا کہ میں نے سرکار صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:  ’’ یَطْلُعُ عَلَیْکُمُ الْاٰنَ رَجُلٌ مِّنْ اَہْلِ الْجَنَّۃِ  ابھی تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آئے گا  ‘‘ پھر تینوں مرتبہ آپ ہی آئے تو میں نے سوچا کہ آپ کے پاس رہ کر آپ کا عمل دیکھوں ، لیکن مجھے تو آپ کا کوئی زیادہ عمل دکھائی نہیں دیا۔ جب میں واپس ہونے لگا تو انہوں نے مجھے بلایا اور کہا: میرا عمل تو وہی ہے جو آپ دیکھ چکے ہیں لیکن میں اپنے دل میں کسی مسلمان کے لئے کینہ نہیں رکھتا اور نہ ہی کسی مسلمان کو ملنے والی نعمتِ الٰہی پر حسدکرتا ہوں ۔ حضرتِ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا: یہی وہ وصف ہے جس نے آپ کو اس مقام پر پہنچا دیا ۔ (شعب الایمان، باب فی الحث علی ترک الغل والحسد، ۵ / ۲۶۴، الحدیث: ۶۶۰۵دون بعض الجمل)

اللہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔

                                                                                                                                                اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

         میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  اس بشارت افروز حکایت سے دُنیا سے بے رغبتی اور اپنے دل کو باطِنی گناہوں بالخصوص بُغْض وکینہ سے پاک رکھنے کی فضیلت معلوم ہوئی۔

خطاؤں کو میری مٹا یاالٰہی

مجھے نیک خَصلت بنا یاالٰہی

 (وسائل بخشش ص ۹۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                     صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

جسم کے ساتھ ساتھ دل بھی ستھرا رکھنا ضروری ہے

            ظاہری جسم اورلباس کی صفائی ستھرائی اپنی جگہ لیکن دل کی پاکیزگی کی اپنی اہمیت ہے ۔ سرکارِ عالی وقار،  مدینے کے تاجدارصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکا



Total Pages: 30

Go To