$header_html

Book Name:Rehnuma e Mudarriseen

الْمُؤْمِنِ خَیْرٌ مِّنْ عَمَلِہٖیعنی مسلمان کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے ۔ ‘‘  (المعجم الکبیر، الحدیث :  ۵۹۴۲، ج۶، ص۱۸۵، داراحیاء التراث العربی)اورمدرس پڑھانے میں کیاکیانیت کرسکتا ہے ؟اس کے بارے میں ایک مدنی مذاکرہ کے دوران قبلہ شیخ طریقت ، امیراہلسنّت ، عالِم نیت حضرت علامہ مولاناابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی  مَدَّظِلُّہُ الْعَالِی سے سوال کیا گیا تو آپ نے بہت سی نیتوں کی طرف توجہ دلائی ۔  اُن میں سے چند (معمولی تغیر و تبدل کے ساتھ)یہاں پیش کی جاتی ہیں :

            {1}رضائے ربُّ الانام کو پیش نظر رکھتے ہوئے اِس نیت سے پڑھاؤں گا کہ’’ مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے  ۔ ‘‘ اِنْ شَآء اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ {2}ممکن ہوا تو پڑھانے کی اجرت نہیں لوں گا  ۔ {3}اگر اجرت لی بھی تو اپنے اہل ِ وعیال کی کفالت اور سوال سے بچنے کی نیت سے لوں گا کہ اگر میں مجبور نہ ہوتا تو کبھی اجرت نہ لیتا  ۔ {4}تعظیمِ علم کے لئے صاف ستھرے کپڑے پہنوں گا ۔ {5}سادگی کو برقرار رکھتے ہوئے سنت کی تعظیم کے لئے اہتمام سے عمامہ باندھوں گا ۔  {6 ۔ 7}  تعظیمِ علم اور سنت پر عمل کے لئے خوشبو استعمال کروں گا ۔ {8}درجہ میں جانے سے پہلے وضو کر لیا کروں گا ۔  {9}درجہ میں داخل ہوتے وقت سلام کروں گا  ۔ {10} بیٹھنے کے لئے جیسی نشست بنائی گئی ہوگی بیٹھ جاؤں گا ، عالیشان نشست کے لئے مطالبہ نہیں کروں گا ۔ {11}مدنی منوں (یعنی طلبہ) کی کوئی بات ناگوار گزری تو صبر کروں گا  ۔ {12} جان بوجھ کر اَمرد کو اپنے قریب نہیں بٹھاؤں گا  ۔ {13}قراٰن مجیداوردینی کتب کا ادب کروں گا  ۔ {14}درس کی جگہ کابھی ادب کروں گا  ۔ {15}مدنی منوں کا سبق توجہ سے سنوں گا  ۔ {16} اگرانہیں سبق سمجھ نہ آیا تودوبارہ سمجھانے میں عار محسوس نہیں کروں گا ۔ {17}اگر ناظم صاحب یامجلس کی کوئی بات ناگوار گزری تو خاموش رہ کر صبر کروں گا ۔ {18} کسی مدرس کی کمزوریاں معلوم ہونے کی صور ت میں ان کا چرچا نہیں کروں گا ۔ {19}درجے یا مکتب میں بیٹھ کر کسی مدرس یا مجلس کے کسی فرد بلکہ کسی بھی مسلمان کی غیبت نہیں کروں گا  ۔ {20} مدرسہ کے جدول پر عمل کروں گا ۔ {21}مدنی منوں کو سزا دینے میں شرعی اجازت سے تجاوز نہیں کروں گا ۔  {22}کسی کی حق تلفی نہیں کروں گا ۔ {23}اگر مجھ سے نادانستہ طور پر کسی کی حق تلفی ہوگئی تو معافی مانگنے میں دیر نہیں کروں گا ۔ {24} اپنا وقت فضول کاموں میں ضائع نہیں کروں گا بلکہ پڑھائی اور مدنی کاموں میں مشغول رہوں گا ۔ {25}اپنے علم پر عمل کرنے کے لئے مدنی انعامات پر عمل کروں گا اور{26}دعوت ِ اسلامی کے راہِ خدا میں سفر کرنے والے مدنی قافلوں میں سفر کیاکروں گا ۔  اِنْ شَآءاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ

            مدرس کی شان وعظمت اورقراٰن مجیدپڑھانے کے فضائل کے سلسلے میں اللہ  عَزَّوَجَلَّکے حبیب، حبیب لبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کے کثیر فرامین مبارکہ موجودہیں جن میں سے چند یہاں پیش کئے جاتے ہیں :

        {1}جس نے کِتَابُ اللّٰہ میں سے ایک آیت سکھائی یا علم کا ایک ’’باب‘‘ سکھایا تو اللہ  عَزَّوَجَلَّ اس کے ثواب کو قیامت تک کے لئے جاری فرما دے گا ۔ ‘‘

(کنزالعمال، کتاب العلم ، الباب الاول ، الحدیث : ۲۸۷۰۰، ج۱۰، ص۶۱، دارالکتب العلمیۃ)

        {2} تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو خود قراٰن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے  ۔ ‘‘

 (صحیح البخاری، کتاب فضائل القراٰن ، باب خیرکم من ۔  ۔ الخ، الحدیث :  ۵۰۲۷، ج۳، ص۴۱۰، دارالکتب العلمیۃ)

        اس حدیث شریف میں مذکور قراٰن  مجید پڑھانے کی فضیلت پانے کے لئے اس حدیث شریف کے راوی حضرت سیدنا ابوعبدالرحمن عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن 38سال سے زیادہ عرصہ تک لوگوں کوقرآن کریم کی تعلیم دیتے رہے ۔ (نزہۃ القاری شرح صحیح البخاری، ج۵، ص۲۶۹ملخصًا، فریدبک سٹال)

        {3}بے شک  اللہ  عَزَّوَجَلَّ اور اس کے فرشتے لوگوں کو خیر کی تعلیم دینے والے پر رحمت بھیجتے ہیں حتی کہ چیونٹیاں اپنے سُوراخوں میں اور مچھلیاں سمندر میں اس کے لئے دعا ئے مغفرت کرتی ہیں ۔ ‘‘(المعجم الکبیر، الحدیث  : ۷۹۱۲، ج۸، ص۲۳۴، داراحیاء التراث العربی)

            ان مبارک فرامین سے قراٰنِ کریم پڑھانے کے فضائل معلوم ہوئے ۔  مگریادر ہے کہ یہ فضائل اوراجروثواب اسی وقت حاصل ہوسکتے ہیں جبکہ پڑھانے والا اہل ہو یعنی قراٰن کریم کودُرست تلفظ اورصحیح مخارج کے ساتھ پڑھائے  ۔ کیونکہ غلط طریقے پرپڑھانابجائے ثواب کے وعیدوعذاب کاباعث ہے ۔  پیشِ نظر کتاب بنام ’’رہنمائے مدرسین‘‘اسی ضرورت کی بنا پرتحریرکی گئی  ۔ جس کی پیشکش کاسہرامجلس مدرسۃ المدینہ اورمجلس المدینۃ العلمیۃ کے سرہے جبکہ دارالافتاء اہلسنّت سے اس کی شرعی تفتیش کروائی گئی ہے  ۔ اس کتاب میں مدرسین اسلامی بھائیوں کو رہنمائی فراہم کی گئی ہے کہ وہ کس طرح طلبہ کو ’’مدنی قاعدہ‘‘ احسن اندازمیں آسانی کے ساتھ پڑھاسکتے ہیں ۔ چونکہ تبلیغ قراٰن وسنت کی عالمگیرغیرسیاسی تحریک ’’دعوتِ اسلامی ‘‘کے مدارس بنام ’’مدرستہ المدینہ‘‘میں قراٰنِ مجید کو تجویدومخارج کے ساتھ پڑھانے کے لئے ’’مدنی قاعدہ ‘‘ رائج ہے اس لئے کتاب میں دیاگیاطریقہ کارورہنمائی’’مدنی قاعدہ‘‘ کے اسباق کے مطابق ہے ، مگریہ کتاب تعلیم قراٰن کوعام کرنے کاجذبہ رکھنے والے ہرمدرس کے لئے ’’رہنما‘‘کی حیثیت رکھتی  ۔

یہی ہے آروزکہ تعلیم  قراٰں عام ہوجائے

ہراک پرچم سے اونچاپرچم اسلام ہوجائے

 

 



Total Pages: 39

Go To
$footer_html