Book Name:Rehnuma e Mudarriseen

طریقۂ تَدْرِیْس

            مُدَرِّس کو چاہیے کہ٭  اس سبق میں قاعدے کے تمام قواعِد کے مطابق مدنی منّے کو یہ سبق ہجے او ر رواں دونوں طریقوں سے پڑھائے ۔ ٭اس سبق میں پچھلے تمام اسباق کے قواعِد اور حُرُوف کی ادائیگی کا خاص خیال رکھیے ۔ با لخصوص حُرُوفِ قریبُ الصَّوتیعنی ملتی جلتی آواز والے حُرُوف میں واضح فرق کروا ئیے ۔  یاد رکھیے کہ نمازمیں ان حُرُوف میں فرق نہ کرنے کی وجہ سے اگر معنیٰ فاسد ہو گئے تو نماز نہ ہوگی  ۔ ٭اس سبق کو دُرُست ادائیگی کے ساتھ مکمل کرواکر زبانی یاد کروائیے اور نماز کا عملی طریقہ بھی ضرور سمجھائیے ۔

طریقۂ تَدْرِیْس برائے ابتداءناظِرہ :

            اگر ناظرہ شروع کروانے سے پہلے مدنی قاعدہ مکمل اچھی طرح سمجھا کر قواعِد کے مطابق پڑھا چکے ہوں گے تو پھر مدنی منّے کو ناظرہ پڑھنے کے دوران زیادہ مشکل نہیں ہوگی ۔  قاعدہ ختم ہو جانے سے یہ نہیں سمجھ لینا چاہیے کہ مدنی منّا ہجوں میں ماہِر ہو گیا ہے ۔ لہٰذا قاعدہ ختم ہونے کے بعد کم از کم نِصْف پارہ ہجوں کے ساتھ ضرور پڑھایا جائے اور پھر اس کے بعد روز کے سبق میں سے تھوڑے سے حصے کے ہجے کروا دینا کافی ہے ۔  یہ سلسلہ عمّ پارہ کے ختم ہونے تک جاری رکھیے ۔  بعض مُدَرِّسین قاعدہ ختم ہونے کے بعد ہجوں کا سلسلہ ترک کردیتے ہیں جس سے مدنی منّے میں ہجے کرکے کلمات بنانے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے اوریہ چیزمُدَرِّس اور مدنی منّے کے لئے دشواری کا سبب بنتی ہے ۔

سبق سننے کا طریقہ :

            مُدَرِّس کو چاہیے کہ٭  ایک ایک مدنی منّے کا سبق سنے اس سے تَلَفُّظ کی غلطی اوردیگر اَغلاط کا اندازہ بخوبی ہو جاتا ہے اور ان اغلاط کو دُور کرنا بھی آسان ہو جاتا ہے ۔ ٭ سبق سننے کے دوران پنسل اپنے ہمراہ رکھیے اورجن قواعِد میں مدنی منّاغلطی کرے ان پرنشانات لگاکراصلاح کیجئے ۔ ٭ سبق کو واضح اور دُرُست تَلَفُّظ کے ساتھ پڑھنایعنی تمام حُرُوف اور ان کی حرکات ، مَخَارِج و صفات ، غنہ ومَدَّات، تفخیمو ترقیق اور ہونٹوں کا بلا ضرورت ادائیگی میں ہلانا ، الغرض اُن تمام باتوں پر مُدَرِّس کی کامل نگاہ ہونی چاہییجن کاتعلق ادائیگی سے ہے کیونکہ آگے چل کر اس سبق نے سبقی اور پھر منزل بننا ہے  ۔ اگر سبق کمزور رہا تو سبقی کمزور رہے گی اور اگر سبقی کمزور رہی تو منزل بھی کمزورہوجائے گی ۔ لہٰذا مُدَرِّس کو چاہیے کہ سبق مکمل تَوَجُّہ کے ساتھ خود سُنے ۔ اس معاملے میں غفلت برتنے سے بے شمار اَغلاط پُختہ ہو جائیں گی اور بعد میں ان غَلَطیوں کا اِزالہ بے حد مشکل ہوجائے گا  ۔ ٭ بعض مُدَرِّسین مدنی منّوں کو سبق یاد نہ ہو نے کی صورت میں مختلف قسم کی سزائیں دیتے ہیں مثلاًکان پکڑ لیجئے ، کرسی بن کر یاکھڑے ہوکر یاد کیجئے ، مرُغا بن جائیے یا درجے سے باہر کھڑے ہوکر یاد کیجئے وغیرہ وغیرہ  ۔ ان حالتو ں میں مدنی منّا سبق بالکل یاد نہیں کر پاتا ۔  لہٰذا ایسی سزائیں دینا دُرُست نہیں بلکہ مُدَرِّس کو چاہیے کہ مدنی منّے کا مکمل سبق سن کر پنسل سے نِشان لگاکر ان غَلَطیوں کی دُرُستگی کروائے  ۔ یاد رہے سبق میں کمزور مدنی منّے کو درجے کے کسی اور مدنی منّے کے پاس بٹھانے کے بجائے مُدَرِّس خود کمزوری دور کروائے کیونکہ استاذ زیادہ تجربہ کار ہوتا ہے  ۔

سبقی منزل سننے کا طریقہ :

            مُدَرِّس کو چاہیے کہ٭ سبقی اور منزل کی مقدارمدنی منّوں کی ذہنی صلاحیت کو مدّنظر رکھتے ہوئے مقررکرے اورسبقی اور منزل کو بھی مکمل تَوَجُّہ اور دھیان کے ساتھ سنے  ۔ ٭ سبقی اور منزل سننے کے دُوران تمام حُرُوف اور اُن کی حرکات ، مَخَارِج و صفات ، غنّہ و مدّات ، تفخیم و ترقیق، ہونٹوں کا بلا ضرورت ادائیگی میں ہلانا، غرض ان تمام باتوں پر سبقی ومنزل میں بھی مُدَرِّس کی کامل نگاہ ہونی چاہیے ۔ ٭جب مدنی منّا سبق یا منزل میں غَلَطی کرے تو مُدَرِّس کو چا ہیے کہ پنسل سے نِشان لگاکر دُرُستگی کروائے ۔ ٭سبق، سبقی یا منزل سننے کے دُوران مدنی منّے کو علاماتِ وَقْف یعنی o، م، ط، ج  وغیرہ پر ٹھہرنے کا عادی بنائیے ۔ ٭ سبق ، سبقی اور منزل سننے کے دوران مدنی منّوں کی لاپرواہی اور عدم تَوَجُّہی پر نظر رکھیے ۔ بعض مدنی منّے پڑھائی کے دوران کبھی کبھارباتیں کرنا شروع کردیتے ہیں یا یونہی ہلتے رہتے ہیں اورظاہریہ کرتے ہیں کہ انتہائی تَوَجُّہ سے پڑھ رہے ہیں ۔  مدنی منّے کی ایسی عادات کا خیال رکھیے اور ان کا مناسب تدارُک بھی کرتے رہیے ۔

 

 



Total Pages: 39

Go To