Book Name:Rehnuma e Mudarriseen

{23}…مدرَسے کی مجلس کے عنایت کردہ جَدوَل کے مطابِق اپنے عَلاقے کے مَدَنی قافِلوں میں عاشقانِ رسول کے ساتھ سنّتوں بھرا سفر فرمایا کیجئے ۔

{24}… ذِمّے دَاران کی اِطاعت کرتے ہوئے اپنے عَلاقے میں دعوتِ اسلامی کے مَدَنی کاموں کی دُھومیں مچاتے رہئے اور بالِغان کے مدرسۃُالمدینہ (بالِغان) میں روزانہ پڑھانے کی سعادت بھی حاصل کرتے رہئے ۔  نیز ہر ماہ مَدَنی  اِنعامات کا رِسالہ بھی جمع کروائیے ۔  

{25}…مدرَسے کی مجلس و ناظم وغیرہ پر بِلا اجازت شَرعی تنقید اور اُن کے خلاف گروپ بندی دعوتِ اسلامی کے پاکیزہ مدارِسُ المدینہ کیلئے سخت مُضِّر ہے اور ایسا کرنے پر پابندی ہے  ۔ اپنے ہی مدرَسے کے انتظامات کی لوگوں کے آگے خامیاں بیان کرنا یقینا نادانی کی انتہا ہے اور اپنے ہاتھوں اپنے پاؤں پر کلہاڑا مارنے کے مترادِف ہے ۔  

{26}…مرکزی مجلس شوریٰ، اِنتظامی کابینہ، صوبائی مُشاوَرت اوراپنے شہر کی مجلسِ مشاوَرَت اور تمام ذِمے دَاران کی اطاعت کرتے رہئے ، بلا اجازتِ شرعی جو انکی مخالفت کرے یا مخالفت کرنے والے کے ساتھ تعلُّقات رکھے میں اُس سے بیزار ہوں ، ہاں اختلافِ رائے میں حَرَج نہیں ۔  (جس سے اختلافِ رائے ہو براہِ راست اُسی کی تفہیم کیجئے ، بلاضَرورتِ شرعی دوسروں کو کہتے پھرنا مخالَفت کہلاتا ہے جو کہ غیبتوں تہمتوں بدگمانیوں وغیرہ وغیرہ گناہوں کے دروازے کھلنے کا سبب ہونے کے ساتھ ساتھ آپ کی اپنی چہیتی دعوتِ اسلامی کیلئے انتہائی نقصان دہ ہے )

’’دعوتِ اسلامی ‘‘کے سنتوں کی تربیت کے ’’ مدنی قافلوں ‘‘ میں سفراورروزانہ’’ فکرِمدینہ ‘‘ کے ذریعے ’’ مدنی انعامات‘‘ کارسالہ پرکرکے ہر مدنی (اسلامی) ماہ کے ابتدائی دس دن کے اندراندر اپنے یہاں کے (دعوت اسلامی کے ) ذمہ دارکوجمع کروانے کامعمول بنالیجئے ۔  اِنْ شَآء اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس کی برکت سے ’’ پابندسنت‘‘ بننے ، ’’گناہوں سے نفرت‘‘ کرنے اور’’ایمان کی حفاظت‘‘ کے لئے کڑہنے کا ذہن بنے گا ۔

پہلے اسے پڑھ لیجئے

            قراٰن مجید فُرقانِ حمید وہ بے مثل ولاجواب کتاب ہے جس کے کمالات واوصاف کماحقہ بیان کرنے سے ہم قاصرہیں ، اس عظیم کلام کو پڑھنے اور اس پر عمل کرنے والادونوں جہاں میں سُرخرو ہوتاہے اورخالق کائنات کی بارگاہِ اَقدس سے خصوصی انعامات سے نوازاجاتاہے  ۔ قراٰن کریم سے بندوں کاتعلق مستحکم کرنے میں اوّلین حیثیت قراٰن مجیدپڑھانے والوں کو حاصل ہے ۔ اس کی اہمیت کویوں سمجھئے کہ باعمل مسلمانوں پر مشتمل معاشرے کی تعمیروترقی میں مدرس کا کردارایک باغبان کی مثل ہے جس طرح کسی باغ کے پودوں کی افزائش وحفاظت باغبان کی توجہ اور کوشش کے بغیرممکن نہیں اسی طرح طا لب علموں کی اچھی تربیت کے لئے مدرس کی توجہ وکوشش بے حد اَہمیت کی حامل ہے ۔  قراٰن پاک کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ایک مدرس کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ وہ طلبہ کے ظاہر وباطن کو بُری خصلتوں سے پاک کر کے اچھے اوصاف سے مزین کرے اور انہیں معاشرے کا ایسا باکردار مسلمان بنائے جو عمر بھر کے لئے ’’اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش ‘‘ میں مصروف ہوجائے  ۔

            ہر صحبت خواہ اچھی ہو یابُری اپنا ایک اثر رکھتی ہے اِس حقیقت کو سرورِ عالم نورِ مجسم صَلَی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس طرح بیان فرمایاہے کہ’’اچھے اور برے مُصاحب کی مثال ، مشک اٹھانے والے اور بھٹی جھونکنے والے کی طرح ہے ، کستوری اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خریدو گے یا تمہیں اس سے عمدہ خوشبو آئے گی ، جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلائے گا یا تمہیں اس سے ناگوار بو آئے گی  ۔ ‘‘ ( صحیح مسلم، کتاب البروالصلۃ والاداب، باب استحباب مجالسۃ الصالحین ۔ ۔  ۔ الخ، الحدیث :  ۲۶۲۸، ص۱۶۱۶، دارابن حزم )چونکہ طلبہ طویل عرصے تک روزانہ مدرس کی صحبت میں بیٹھتے ہیں اور اس کی ذات میں پائے جانے والے اوصاف غیر محسوس طور پر اس کے طلبہ میں منتقل ہوجاتے ہیں  ۔ لہٰذا مدرس کوچاہیے کہ خوش اخلاقی، خوش گفتاری، سنجیدگی، ملنساری، عاجزی وانکساری، عفوودرگزر، مسلمانوں کی خیر خواہی، اپنے بڑوں اوراسلاف کاادب، معاملات(مثلاً قرض وغیرہ ) میں صفائی پسندی، قناعت پسندی، نفاست پسندی، خوش لباسی اورپرہیزگاری ایسے اوصاف اختیارکرکے ان پرکاربندرہے ۔  مدرس اور طالب علم کا رشتہ انتہائی مقدس ہوتا ہے ۔  لہٰذا مدرس کوچاہیے کہ اپنے طلبہ کی بہتر تربیت کے لئے بیان کردہ اوصاف کے ساتھ درج ذیل امور پیش ِ نظر رکھے : طلبہ کواپنی اولاد کی مثل جانے ، ان کی ناکامی پر رنجیدہ اور کامیابی پراظہارِ مسرت، بیمار ہونے پر ان کی عیادت اورغم خواری کرے ، وقتاً فوقتاً ان کے شوقِ عِلْم کو ابھارے ، استقامت اورفکر آخرت کی ترغیب دلاتارہے ، اندازِ تخاطب اچھاہو، نام نہ بگاڑ ے ، ذاتی خدمت لینے سے گریزکرے ، بلحاظِ مراتب ان کی حوصلہ افزائی کرے ، بلااجازتِ شرعی ان کوکسی کی جاسوسی پرمامورنہ کرے ، ان کے سامنے دوسرے مدرسین کی خامیوں کا چرچا نہ کرے بلکہ اُن کاذکربھلائی کے ساتھ کرے ، ان کے ذاتی معاملات میں دخل نہ دے اورسب کے ساتھ یکساں تعلقات رکھے ۔ پھریہ کہ ہرمدرس کو چاہیے کہ منصب ِ تدریس کو دنیا کی دولت کمانے ، عزت و شہرت حاصل کرنے یا اپنے ساتھیوں میں ممتاز نظر آنے کا ذریعہ نہ بنائے بلکہاللہ  عَزَّوَجَلَّکی رضا اپنے پیش نظر رکھے کیونکہ تدریس ہو یا کوئی اور نیکی، اگررضائے الہٰی مقصودنہ ہو تو یہ انسان کی آخرت کے لئے سراسر باعث ِنقصان ہے نیز پڑھاتے وقت اچھی اچھی نیتیں بھی کرے ، کیونکہ  بغیر اچھی نیت کے کسی بھی عملِ خیر کا ثواب نہیں ملتا ۔  جتنی اچھی نیتیں زِیادہ، اُتنا ثواب بھی زِیادہ حدیث شریف میں ہے :  ’’  نِیَّۃُ



Total Pages: 39

Go To