Book Name:Rehnuma e Mudarriseen

طریقۂ تَدْرِیس

ترتیب  : اس سبق کی ترتیب حُرُوفِ قریبُ الصَّوتاورقریبُ الْمَخْرَج کے اعتبار سے رکھی گئی ہے تاکہ حُرُوف کی ادائیگی میں فرق واضح ہو سکے ۔ ٭اس سبق میں تمام کلمات کو مُشَدَّد حالت میں دیا گیا ہے ۔ ٭ ایک تشدید ، دو تشدید اور تین تشدید پر مشتمل مشقیں شامل کی گئی ہیں تاکہ مدنی منّے قاعدہ پڑھنے کے دَوران ہی تشدید والے ہر قسم کے قرآنی کلمات سے واقف و متعارف ہو جائیں ۔ ٭نون مُشَدَّد اور میم مُشَدَّد کی مشقیں بھی دی گئی ہیں تاکہ مدنی منّے قاعدہ ہی میں غنہ کرنے کے عادی بن جائیں نیز قلقلہ مُشَدَّد اور مُسْتَعْلِیہ مُشَدَّد کی مثالیں بھی دی گئی ہیں ۔  ٭آخر میں اِدغام مِثْلَین، اِدغام مُتَجَانِسَین اور اِدغام مُتَقَارِبَین کی مثالیں بھی دی گئی ہیں ۔

قواعِد سمجھانااورسبق پڑھانا :

            مُدَرِّس کو چاہیے کہ٭ مدنی منّے کو اس سبق میں تشدید سے متعلق قواعِد بتائے اور خوب یاد کروائے  ۔ چونکہ مدنی منّے کے لئے تشدید کا سبق مشکل ہے لہٰذا مدنی منّے کو تشدیدکے قواعِدترتیب وار اس طرح یاد کروائیے :

            (۱)تین دندانوں والی شکل کو تشدید کہتے ہیں ۔  (۲)جس حَرْف پر تشدید ہو اسے مُشَدَّد کہتے ہیں ۔ (۳)مُشَدَّد حَرْف دو مرتبہ پڑھاجاتا ۔ (۴)ایک مرتبہ اپنے سے پہلے متحرک حَرْف سے ملکر اور (۵)دوسری مرتبہ خود اپنی حَرَکت کے مطابق ۔ (۶)مُشَدَّد حَرْف کو ذرا رُک کر پڑھتے ہیں ۔

            ٭ اس سبق میں مدنی منّے کو نون مُشَدَّد اور میم مُشَدَّد میں ایک الف کی مقدار میں غنہ کروائیے تاکہ مدنی منّے قاعدہ ہی میں غنہ کرنے کے عادی بن جائیں ۔ ٭ تشدید کی مشق کے ساتھ ساتھ حُرُوف قریبُ الصَّوت یعنی ملتی جلتی آواز والے حُرُوف میں واضح فرق کروائیے ۔ ٭ مدنی منّے کو بتائیے کہ اس سبق میں حُرُوف قلقلہ مُشَدَّدہیں اورجب حُرُوفِ قلقلہ مُشَدَّد ہوں تو انہیں جماؤ کے ساتھ اداکرتے ہیں ۔ ٭اس سبق میں دو اور تین حَرْفی مُشَدَّد کلمات درج کئے گئے ہیں لہٰذا مُدَرِّس کو چاہیے کہ ہر مُشَدَّد حَرْف کو صاف صاف صحیح طور پر واضح ادا کروائے ۔  ٭اس بات کا بھی خیال رکھیے کہ بعض مدنی منّے لاپرواہی سے پڑھنے کے سبب پہلی تشدید کو حذف کردیتے ہیں ۔

 ٭ سبق میں ہجے اس طرح کروائیے مثلاً :  لِیَدَّبَّرُوْکے ہجے اس طرح ہوں گے ۔  لام زیر لِ ، یا دال زبر یَدْ  =لِیَدْ ،  دال با زبر دَبْ  = لِیَدَّبْ ،  بَا زبر بَ = لِیَدَّبَّ،  را  وآؤ  پیش رُوْ = لِیَدَّبَّرُوْا ۔ ٭اس میں ہجے کروانے کے ساتھ ساتھ مدنی منّے کو رواں بھی ضرور پڑھائیے کیونکہ ہجے کی غرض رواں پڑھنے کی استعداد(قابلیَّت) پیدا کرنا ہے ۔  لہٰذا مُدَرِّسین کو چاہیے کہ رواں اتنی بار سنیں کہ مدنی منّے کی زبان پر یہ کلمات رواں دواں ہو جائیں ۔ ٭  مدنی منّے کو سمجھائیے کہ اگر پہلا حَرْف متحرک ، دوسرا حَرْف ساکِن اور تیسرا حَرْف مُشَدَّد ہو تو اکثر دفعہ (ہمیشہ نہیں ) ساکِن حَرْف کو چھوڑدیں گے اور متحرک حَرْف کو مُشَدَّد حَرْف کے ساتھ ملا کر پڑھیں گے جیسے عَبَدْتُّمْ  کو عَبَتُّمْ پڑھیں گے ۔ ٭اس سبق کے آخر میں یہ کلمات درج ہیں :   اَحَطْتُّ ،  بَسَطْتَّ، ان کلمات میں ’’ط‘‘ کے ’’ ت‘‘ میں ادغام کو اِدغامِ ناقص کہتے ہیں ۔ ٭نَخْلُقْکُّمْ میں ’’ق‘‘ کا ’’ک‘‘ میں اِدغامِ تام اور ناقص دونوں جائز ہیں لیکن اِدغام تام کے ’’ق‘‘ کی صفت اِستعلاء کو بھی باقی نہ رکھا جائے یعنی پڑھنے میں ’’ق‘‘ کا اثر بالکل نہ رہے  ۔ یہی اولیٰ اور صحیح تر ہے ۔ ٭مدنی منّے  کو سمجھائیے کہ وَقْف کی صورت میں مُشَدَّد حَرْف کو اس طرح ساکِن کیجئے کہ تشدید باقی رہے اور آخر میں حَرَکت کا کوئی حصہ ظاہر نہ ہو لیکن مُشَدَّد حَرْف اگر قلقلہ کا ہے تو اسے جماؤ کے ساتھ ادا کیجئے ۔

امتحان کی ترکیب :  دی گئی ہدایات کے مطابق اس سبق کو پڑھاتے ہوئے امتحان کی ترکیب اس طرح بنائیے کہ مدنی منّے سے نیچے سے اوپر  "  "  ،  اوپر سے نیچے  "   " ، دائیں سے بائیں " "  اور بائیں سے دائیں  " " سنیں نیز مختلف کلمات پر اُنگلی رکھ کراس سبق کا امتحان لیجئے کہمدنی منّے کوتشدید کی پہچان ہو گئی ہے یا نہیں ؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ صرف قواعِد یاد ہوں مگر ادائیگی میں کمزوری ہو ؟

            مدنی منّے  سے تشدید کے ہجے بھی سنیں کہمدنی منّاہجے دُرُست کر رہا ہے یا نہیں ؟

 مَدَ نی التجا :  اگر اس سبق میں مدنی منّے کی کوئی کمزوری دیکھیں تو اُسے سابقہ اسباق کی مدد سے لازِمی دُرُست فرمائیے ۔   

 

 



Total Pages: 39

Go To