$header_html

Book Name:Rehnuma e Mudarriseen

{11}… اپنی ’’ذات‘‘ کے لئے یا کسی کے اُکسانے پر سزا دینے والے کو قبر و قِیامت کی ہولناک سزا کو نہیں بھولنا چاہئے ۔  

{12}…فرمانِ مصطَفٰیصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم   : اَنْزِلُو النَّاسَ مَنَازِلَھُمیعنی لوگوں کے مَراتِب کا لحاظ رکھو ۔  ابو داوٗدج۴ص ۳۴۳)

{13}… کامیاب اُستاد وہی ہے جو اپنے تَلامِذہ کی نفسیات کی پرکھ رکھتا اور اُسی کے مطابِق اُن سے سُلوک کرتا ہو ۔  (المدینۃ العلمیہ کی کتاب ’’کامیاب استاذ کون؟‘‘ کا مطالَعَہ کرنے کی ہر اُستاد کی خدمت میں خاص تاکید ہے )

{14}…  طَلَبہ پر شفقت بھی ہو اور رُعب بھی قائم رہنا چاہئے ۔  اُن کے ساتھ ہنسی، مذاق، بے تکلُّفی، بِلاضرورت گفتگو سے آپ کا رُعب ختم ہو سکتا ہے ۔  

{15}… پیچیدہ مسائل نہ چھیڑیئے :  ’’کَلِّمُوا النَّاسَ عَلٰی قَدْرِ عُقُولِہِم‘‘ (فردوس الاخبارج۱ص۲۲۹حدیث : ۱۶۲۴) یعنی ’’لوگوں سے ان کی عَقلوں کے مطابِق کلام کرو ۔ ‘‘ کو پیش نظر رکھا کیجئے ۔  

{16}…دو طَلَبہ میں قَضِیَّہ چُکاتے وقت (بلکہ جب بھی فریقین میں فیصلہ کروانا پڑے ) ان دو (۲) روایات کو پیش نظر رکھنا چاہئے : (۱) قاضی تین ہیں ، جس نے حق کو پہچانا اور حق کے ساتھ فیصلہ کیا وہ جنَّت میں جائے گا ۔  جس نے حق کو پہچانا مگر فیصلہ حق کے خلاف کیا وہ اور جس نے بِغیر جانے بوجھے فیصلہ کردیا وہ دونوں جہنمی ہیں ۔  ( ابو دا وٗد ج۳ص۴۱۸حدیث : ۳۵۷۳) (۲) جس حاکم نے فیصلے میں ظلم کیا ہوگا، رشوت لی ہو گی، صِرف ایک فریق کی بات توجُّہ سے سنی ہو گی وہ جہنَّم کی اتنی گہرائی میں ڈالا جائے گا جس کی مَسافت ستَّر (70) سال ہے ۔   (کنز العمال ج۶ص۱۸حدیث : ۱۴۷۶۵)

{17}… جن باتوں سے طَلَبہ کو منع کریں ان سے اپنے آپ کو بھی بچائیے ۔  مَثَلاً بچوں سے کہنا :  ’’شور مت کرو!‘‘ اور دو مدرِّس مل کر زور زور سے اِدھر اُدھر کی باتیں کر رہے ہوں اور قہقہے لگارہے ہوں ، یہ نقصان دہ ہے ۔  ظاہر ہے کہ باپ اپنے بیٹے سے تو کہے کہ سگریٹ مت پیو اور خود ’’کَش‘‘ لگاتا رہے تو بیٹا باپ کے ڈر کی وجہ سے اگر سامنے نہیں بھی پئے گا تو شاید چُھپ کرپئے گا ۔  

{18}…نابالِغوں کی اَشیا ان کی اجازت سے بھی استعمال نہ کیجئے ۔

{19}…مدرَسے میں عُموماً اَمرَدوں کی کثرت ہوتی ہے لہٰذا’’ آنکھوں کا قُفْلِ مدینہ ‘‘لگانا ضروری ہے اگر ایک بار بھی شَہْوت بھری نظر سے دیکھا یا چھوا اور رَبّعَزَّوَجَلَّ ناراض ہو گیا تو قبرو آخِرت میں تباہی ہے ۔ یاد رہے !عورت کے ساتھ دو جبکہ امرد کے ساتھ ستَّر شیطان ہوتے ہیں ۔ (فتاوٰی رضویہ ج۲۳ ص۷۲۱)

{20}… جواستاد ’’اَمرد‘‘ کو پڑھائے اُس کو اللّٰہعَزَّوَجَلَّسے ڈرتے ہوئے بَہُت سخت اِحتیاطیں کرنے کی ضَرورت ہے ۔  بِلاحائل اَمرد کو ہاتھ لگانے ، اس سے تنہائی اختیار کرنے بلکہ اس کی طرف دیکھنے سے بھی اپنے آپ کو حتَّی الامکان بچائے ۔

(مزید معلومات کیلئے رسالہ ’’امرد پسندی کی تباہ کاریاں ‘‘ کا مطالعہ مفید رہے گا )

            ہمارے پیارے آقاصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی سنتوں پر یہاں عمل نہیں کریں گے تو کہاں کریں گے ؟ دوسنتیں مُلاحَظہ ہوں : ٭ ہمارے میٹھے میٹھے آقا صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی مبارَک نظرآسمان کے بجائے زمین کی طرف زیادہ رہتی تھی ۔   (الشمائل المحمدیۃ للترمذی ص ۲۳حدیث : ۷)٭ آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کسی کے چِہرے پر نظریں نہیں گاڑتے تھے ۔  (احیاء العلوم  ج۲، ص۴۴۲)

کاش ! ہمیں آنکھوں کا ’’قفل مدینہ‘‘ نصیب ہوجاتا ۔

یاالہٰی! رنگ لائیں جب مری بے باکیاں

اُن کی نیچی نیچی نظروں کی حیا کا ساتھ ہو

{21}…٭ملازم طے شدہ نظام الاوقات کا شرعاً پابند ہے ، عُرف سے ہٹ کر  چُھٹیاں نہیں کر سکتا کریگا تو تنخواہ کاٹی جائیگی ٭ڈیوٹی پر آتے ہوئے عُرف سے زائد   تا خیراور جاتے وقت جان بوجھ کر غیر عرفی تعجیل جتنے وقت کی کمی ہو گی اتنی کٹوتی کروانی ہو گی ٭ڈیوٹی کے اوقات میں جدول سے ہٹ کر نہ کسی کو ملاقات کیلئے بلا سکتا ہے نہ خود جاسکتا ہے نہ گھر کا کام کاج کر سکتا ہے بلکہ نوافل بھی نہیں پڑھ سکتا البتَّہ جہاں جتنا عرف ہوگا اُتنی رعایت ملیگی٭ ہاں اگر نجی ادارہ ہو تو اصل مالک یا اُس کا ماذون (نائب) رعایتیں دے سکتا ہے ٭مسجِد میں باجماعت نَمازیں ادا کرنے کی اجازت نہ ہو تب بھی جانا لازِمی ہے (مزید معلومات کیلئے رسالہ ’’ملازمین کے 21 مَدَنی پھول‘‘ کا مطالعہ مفید رہے گا )

{22}…بے شک مشاہرہ لینا آپ کی مجبوری ہے مگر اسکی حِرص نہ بڑھائیے ، خوامخواہ اضافے کی ترکیبیں نہ بنائیے ، ناشکری کے الفاظ زَبان پر نہ لائیے مَثَلاً اِس طرح کی بات کرنا کہ جو لوگ بنک میں کام کرتے ہیں اُن کو تنخواہ اورمُراعات زیادہ ملتی ہیں اور ہمیں …؟ لاحول شریف پڑھ کر سوچئے کہ دینی مدرِّس کیلئے جو ثواب کی دولت اور آخِرت میں مدارجِ رفیعہ کی سعادت رکھی گئی ہے کیا وہ بنک ملازم کیلئے بھی ہے ؟

 



Total Pages: 39

Go To
$footer_html