Book Name:Rehnuma e Mudarriseen

مَد َنی التجا : اگراس سبق میں مدنی منّے کی کوئی کمزوری نظرآئے تو اُسے لازِمی دُور فرمائیے ۔

 

طریقۂ تَدْرِیس

ترتیب  : اس سبق کی ترتیب حُرُوفِ تہجی کے اعتبار سے کی گئی ہے ۔

قواعِد سمجھانااورسبق پڑھانا :

            مُدَرِّس کو چاہیے کہ٭ مدنی منّے کو سمجھائے کہ اس ( -ْ) علامت کو جزم کہتے ہیں ۔ جس حَرْف پر جزم ہو اس کوساکِن کہتے ہیں ۔  ساکِن حَرْف اپنے سے پہلے والے حَرْف سے ملا کر پڑھا جاتا ہے ۔ ٭ اس سبق میں مدنی منّے کو حَرَکت والے حَرْف کو جزم والے حَرْف کے ساتھ ملا کر پڑھنے اور اس کے ہجے کرنے کا طریقہ بتائیے ۔  مثلاً ہجے اس طرح کروائیے ۔   بَا =  با الف زبر  بَا،  بُو= بَا  وآؤ  پیش  بُوْ ،  بِیْ=  بَا  یا زیر  بِیْ  = بَا ، بُوْ، بِیْ ۔ ٭ ہجے کروانے کے بعد رواں بھی ضرور پڑھائیے لیکن جدا جدا کر کے چونکہ عموماً مدنی منّے تیزی سے پڑھتے ہوئے ایک ہی سانس میں بَ ,بُ ,بِ کہنے کی عادت بنا لیتے ہیں جس کی وجہ سے حُرُوفِ مدہ کا وجود قائم نہیں رہتا ۔  ٭مدنی منّے کو بتائیے کہ حُرُوفِ مدہ تین ہیں ۔  ’’الف ، وآؤ ، یا‘‘ پھر اس کے بعد اس کی تعریف یا دکروا کر پہچان بھی لازِمی کروائیے یعنی الف سے پہلے زبر ہوتو الف مدہ، وآؤ ساکِن سے پہلے پیش ہو تو وآؤ مدہ اور یا ساکِن سے پہلے زیر ہو تو یا مدہ ہوگا] حُرُوفِ مدہ کو مدّ ِ اصلی بھی کہتے ہیں [ ۔ ٭ حُرُوفِ مدہ کو ایک الف یعنی دو حرکات کے برابر کھینچ کرپڑھائیے ۔ ٭اس بات کا خاص خیال رکھیے کہ مدنی منّا حُرُوفِ مدہ کو ایک الف سے زیادہ نہ کھینچے اور نہ ہی حُرُوفِ مدہ کی مقدار کو ایک الف سے کم کرے ۔  بالخصوص رواں پڑھتے وقت" یا مدہ "کی مقدار کا خاص خیال رکھیے ۔  ٭ اس سبق میں اس بات کا بھی لازِمی خیال فرمائیے کہ مدنی منّا  "وآؤ مدہ"  اور  "یا مدہ" کو معروف پڑھے ۔  

 امتحان کی ترکیب  : دی گئی ہدایات کے مطابق اس سبق کو پڑھاتے ہوئے امتحان کی ترکیب اس طرح بنائیے کہ مدنی منّے سے نیچے سے اوپر "  "  ،  اوپر سے نیچے  "   " ، دائیں سے بائیں " "  اور  بائیں سے دائیں " " سنیں نیز مختلف جگہوں پر اُنگلی رکھ کرحُرُوفِ مدہ کا امتحان لیجئے کہ ان کو حُرُوفِ مدہ کی پہچان ہو گئی ہے یا نہیں ؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ صرف رٹّا لگا ہوا ہو اور



Total Pages: 39

Go To