Book Name:Rehnuma e Mudarriseen

   اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

’’کامیاب استاذ کون ؟کا مطالعہ کریں ‘‘   کے چھبیس حُرُوف کی نسبت  سے  26 مدَنی پھول                                                       

از :   شیخ طریقت امیرِ اہلسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دامت برکاتہم العالیہ{1}…’’مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے ‘‘ اس مَدَنی پھول کو اپنے اور ایک ایک مَدَنی مُنّے کے ذِہن میں ایساراسِخ کر دیجئے کہ وہ اس مَدَنی مقصد کو اپنی زندگی کا اُصول بنا لے ، اِس طرح اللہ عَزَّوَجَلَّ  آپ کی اپنی دعوتِ اسلامی کے ’’مَدَنی کام ‘‘کو پرواز کے مَدَنی پَر لگ جائیں گے ۔

{2}…مدرَسے میں اور اس کے علاوہ بھی’’ پردے میں پردہ‘‘ کیجئے اور طَلَبہ کو بھی اسکا پابند بنایئے ۔  انہیں مَدَنی اِنعامات کا رِسالہ جمع کروانے کی اتنی ترغیب دی جائے کہ ان کا ذِہن بن جائے کہ مَدَنی اِنعامات پر عمل ہماری زندگی کا لازِمی جُزو ہے ۔

{3}…لفافے ، کاغذ، قلم، ربڑ وغیر ہ جو کہ مدرَسے ہی کے کام کیلئے وَقف ہوتے ہیں ان کا ذاتی استعمال ناجائز ہے ۔ (معمولی سا استعمال جو عرف میں ہواس کی اجازت ہے ) ، لہٰذا آج تک اس طرح کی جتنی چیزیں بلااجازتِ شرعی استعمال کی ہیں یا ذاتی کام کیلئے فون کئے ہیں ان سب کا حساب لگا کر مدرسے کی انتظامیہ کو جمع کروا دیجئے ۔

{4}…مدرِس پڑھانے میں خواہ کتنا ہی ماہر ہو، بے شک اسکا دَرَجہ پڑھائی کے مُعامَلے میں اوّل آتا ہومگر میرے نزدیک وُہی مدرِّس کامیاب ہے جو ’’دعوتِ اسلامی‘‘ کے دیئے ہوئے مَدَنی ذِہن کے مطابق طَلَبہ کی اخلاقی تربیَّت کرنے میں بھی کامیاب رہے ۔

{5}…اگر آپ کو واقعی دعوتِ اسلامی سے پیار ہے تو ہر مَدَنی مُنّے اور طالبِ علم کو خائفِ خدا، عاشقِ مصطَفٰے ، والِدَین کا فرمانبردار، سنجیدہ، بااَخلاق، زَبان اور آنکھ کے قفلِ مدینہ کا عامِل اور’’ دعوتِ اسلامی‘‘ کا والَہ وشَیدا بنانے کیلئے اپنی تمام تر صلاحیتیں لگا دیجئے ۔

{6}…طَلَبہ کو سنَّتوں اور نیکیوں کی بے شک رغبت دلاتے رہئے مگر یہ اصول نہ بھولئے کہ دوسروں کو ترغیب کیلئے خود سراپا ترغیب بننا پڑتا ہے ۔

{7}…اَساتِذہ کو تاکید ہے کہ طالبعلم کیسا ہی جُرم کرے ، ڈنڈے سے مارنا کجا اس کو ہاتھ بھی نہ لگائیں ۔

{8}…اگر قُصور وار طالبعلم کو سزا دینی ضَروری ہو جائے تو اُسی کی بھلائی کی نیَّت سے اس کی صِحَّت وقُوَّتِ برداشت کے مطابِق اِس کو اس طرح کی سزائیں دی جا سکتی ہیں مَثَلاًسب کے سامنے مُہذَّب الفاظ کے ساتھ شرمندہ کرنا، کھڑا رکھنا، دَرَجے کے باہَر کھڑا کردینا، کھڑا کر کے دونوں ہاتھ اونچے رکھوانا(دیوار کی ٹیک نہ لے اور ہاتھوں میں خم بھی نہ رکھے اسکا خیال رکھئے )وغیرھا

{9}…ماردھاڑ کے علاوہ بھی ہر گز کوئی ایسی سزا مت دیجئے جو طالبعلم کو آپ سے باغی بنادے ۔  بار بار ڈانٹ ڈپٹ سے طالبعلم ڈھیٹ ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے استاد سے مُتَنَفِّر بھی ہو سکتا ہے ۔

{10}… بوقتِ سزا یہ ذِہن میں رہنا چاہئے کہ اگر اس جگہ پر میرا بیٹا ہوتا تو میرے جذبات کیا ہوتے ؟

 



Total Pages: 39

Go To