Book Name:Aik Aankh wala Aadmi

جو عورت اس کے مَحارِم میں ہو اس کے سر، سینہ، پنڈلی، بازو، کلائی، گردن، قدم کی طرف نظر کرسکتا ہے جبکہ دونوں میں سے کسی کی شَہوَت کا اندیشہ نہ ہو محارم کے پیٹ، پیٹھ اور ران کی طرف نظر کرنا ناجائز ہے۔ ([1]) اسی طرح کروٹ اورگھٹنے کی طرف نظر کرنا بھی ناجائز ہے۔ ([2])  (یہ حکم اس وقت ہے جب جسم کے ان حصوں پر کوئی کپڑا نہ ہو اور اگر یہ تمام اعضا موٹے کپڑے سے چھپے ہوئے ہوں تو وہاں نظر کرنے میں حرج نہیں) کان اور گردن اور شانے  (یعنی کندھے) اور چہرے کی طرف نظر کرنا جائز ہے۔ ([3]) مَحارِم کے جن اَعْضا کی طرف نظر کرسکتا ہے ان کو چھو بھی سکتا ہے جبکہ دونوں میں سے کسی کی شَہوَت کا اندیشہ نہ ہو ۔مرد اپنی والِدہ کے پاؤں دبا سکتا ہے مگر ران اُس وقت دبا سکتا ہے جب کپڑے سے چھپی ہو، یعنی  (دبا سکتا ہے مگر) کپڑے کے اوپر سے اور بِغیر حائِل چھونا جائز نہیں۔ ([4]) والِدہ کے قدم کو بوسہ بھی دے سکتا ہے۔ حدیث میں ہے ”جس نے اپنی والدہ کا پاؤں چوما تو ایسا ہے جیسے جنت کی چوکھٹ کو بوسہ دیا۔“ ([5])  

 (3) مرد کا آزاد عورت اجنبیہ کو دیکھنا

 (1)  اجنبی عورت کی طرف نظر کرنے کا حکم یہ ہے کہ اس کے چہرہ اور ہتھیلی کی طرف نظر کرنا جائز ہے کیونکہ اس کی ضَرورت پڑتی ہے کہ کبھی اس کے مُوَافِق یا مُخالِف شہادت  (گواہی) دینی ہوتی ہے یا فیصلہ کرنا ہوتا ہے اگر اسے نہ دیکھا ہو تو کیونکر گواہی دے سکتا ہے کہ اس نے ایسا کیا ہے۔ اس کی طرف دیکھنے میں بھی وہی شرط ہے کہ شَہوَت کا اندیشہ نہ ہو اور یوں بھی ضَرورت ہے کہ  (آج کل گلیوں بازاروں میں) بَہُت سی عَورَتیں گھر سے باہَر آتی جاتی ہیں، لہٰذا اس سے بچنا بَہُت دُشوار ہے۔ بعض عُلَما نے قدم کی طرف بھی نظر کو جائز کہا ہے۔ ([6])

 (2)  اَجْنَبِیّہ عَورَت کے چہرہ کی طرف اگرچہ نظر جائز ہے ،جبکہ شَہوَت کا اندیشہ نہ ہو مگر یہ زَمانَہ فتنے کا ہے اس زَمانے میں ایسے لوگ کہاں جیسے اگلے زَمانے میں تھے، لہٰذا اس زَمانے میں اس کو  (یعنی چہرے کو) دیکھنے کی مُمانَعَت کی جائے گی مگر گواہ و قاضی کے لیے کہ بوجہِ ضَرورت ان کے لیے نظر کرنا جائز ہے۔بَہُت چھوٹی لڑکی جو مشتہاۃ  (یعنی قابلِ شَہوَت) نہ ہو اس کو دیکھنا اور چھونا بھی جائز ہے۔ ([7])

 (3)  اَجْنَبِیّہ عَورَت نے کسی کے یہاں کام کاج کرنے، روٹی پکانے کی نوکری کی ہے اس صُورَت میں اس کی کلائی کی طرف نظر جائز ہے کہ وہ کام کاج کے لیے آستین چڑھائے گی، کلائیاں اس کی کھلیں گی اور جب اس کے مکان میں ہے تو کیوں کر بچ سکے گا، اسی طرح اس کے دانتوں کی طرف نظر کرنا بھی جائز ہے۔([8])


 



[1]  ھدایة،کتاب الکراھیة، فصل فی الوطء والنظر واللمس، ۲ / ۳۷۰

[2]  ردالمحتار، کتاب الحظر والاباحة، فصل فی النظر والمس،۹ / ۶۰۶

[3]  عالمگیری،کتاب الکراھیة، الباب الثامن فیما یحل   الخ، ۵ / ۳۲۸

[4]   عالمگیری،کتاب الکراھیة، الباب الثامن فیما یحل   الخ،۵ / ۳۲۸

[5]   الدرالمختار،کتاب الحظر والاباحة، فصل فی النظر والمس، ۹ / ۶۰۶

[6]     الدرالمختار،کتاب الحظر والاباحة، ۹ / ۶۱۰ عالمگیری، کتاب الکراھیة، الباب الثامن فیما یحل   الخ،۵ / ۳۲۹

[7]  ھدایة،کتاب الکراھیة، فصل فی الوطء والنظر واللمس،۲ / ۳۶۸

[8]  عالمگیری،کتاب الکراھیة، الباب الثامن فیما یحل   الخ،۵ / ۳۲۹



Total Pages: 16

Go To