Book Name:Aik Aankh wala Aadmi

اور خَتْنہ کرنے میں مَوضعِ خَتْنہ کی طرف نظر کرنا بلکہ اس کا چھونا بھی جائز ہے کہ یہ بھی بوجہِ ضَرورت ہے۔ ([1])

 (۲) عورت کا عورت کو دیکھنا

 (1)  اس کا وہی حکم ہے جو مرد کو مرد کی طرف نظر کرنے کا ہے یعنی ناف کے نیچے سے گھٹنے تک نہیں دیکھ سکتی، باقی اعضا کی طرف نظر کرسکتی ہے۔ بشرطیکہ شَہوَت کا اندیشہ نہ ہو۔ ([2])

 (2)  عورتِ صالحہ  (یعنی نیک بی بی) کو یہ چاہیے کہ اپنے کو بدکار  (یعنی زانیہ و فاحِشہ) عورت کے دیکھنے سے بچائے، یعنی اس کے سامنے دوپٹّا وغیرہ نہ اُتارے کیونکہ وہ اسے دیکھ کر  (غیر) مردوں کے سامنے اس کی شکل و صُورَت کا ذِکْر کرے گی، مسلمان عَورَت کو یہ بھی حَلال نہیں کہ کافِرہ کے سامنے اپنا سَتْر کھولے۔ ([3])

 (3)  گھروں میں کافِرہ عورتیں آتی ہیں اور بیبیاں ان کے سامنے اسی طرح مَوَاضِعِ سَتْر کھولے ہوئے ہوتی ہیں جس طرح مسلمہ کے سامنے رہتی ہیں ان کو اس سے اِجْتِناب  (بچنا) لازِم ہے۔ اکثر جگہ دائیاں کافِرہ ہوتی ہیں اور وہ بچہ جَنانے کی خدمت انجام دیتی ہیں، اگر مسلمان دائیاں مل سکیں تو کافِرہ سے ہر گز یہ کام نہ کرایا جائے کہ کافِرہ کے سامنے ان اَعْضا کے کھولنے کی اِجازَت نہیں۔  ([4])

 (۳) عورت کا اجنبی مردکو دیکھنا

 (1)  عورت کا مردِ اجنبی کی طرف نظر کرنے کا وہی حکم ہے، جو مرد کا مرد کی طرف نظر کرنے کا ہے اور یہ اس وَقْت ہے کہ عورت کو یقین کے ساتھ معلوم ہو کہ اس کی طرف نظر کرنے سے شَہوَت نہیں پیدا ہوگی اور اگر اس  کا شُبہ بھی ہو تو ہر گز نظر نہ کرے۔ ([5])

 (2)  عورت مردِ اجنبی کے جسم کو ہرگز نہ چھوئے جبکہ دونوں میں سے کوئی بھی جوان ہو، اس کو شَہوَت ہوسکتی ہو اگرچہ اس بات کا دونوں کو اطمینان ہو کہ شَہوَت نہیں پیدا ہوگی۔ ([6]) بعض جوان عورتیں اپنے پیروں کے ہاتھ پاؤں دباتی ہیں اور بعض پیراپنی مُریدہ سے ہاتھ پاؤں دَبْواتے ہیں اور ان میں اکثر دونوں یا ایک حدِ شَہوَت میں ہوتا ہے ایسا کرنا ناجائز ہے اور دونوں گنہگار ہیں۔

 (۴) مرد کا عورت کو دیکھنا

اس کی کئی صورتیں ہیں:

 (1) مرد کا اپنی زَوجہ کو دیکھنا

 (شوہر اپنی) عَورَت کی ایڑی سے چَوٹی تک ہر عُضْو کی طرف نظر کرسکتا ہے شَہوَت اور بِلا شَہوَت دونوں صُورَتوں میں دیکھ سکتا ہے، اسی طرح عورت بھی اپنے شوہر کے ہر عُضْو کو دیکھ سکتی ہے۔ ہاں بہتر یہ ہے کہ  (دونوں میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کے) مَقامِ مخصوص کی طرف نظر نہ کرے کیونکہ اس سے نِسْیَان پیدا ہوتا ہے  (یعنی حافِظہ کمزور ہوتا ہے) اور نظر میں بھی ضُعْف پیدا ہوتا ہے  (یعنی نگاہ بھی کمزور ہو جاتی ہے) ۔  ([7])

 (2) مرد کا اپنے محارِم کی طرف نظر کرنا

 



[1]  ھدایة،کتاب الکراھیة، فصل فی الوطء والنظر واللمس، ۲ / ۳۶۹   عالمگیری،کتاب الکراھیة، الباب الثامن فیما یحل   الخ،۵ /  ۳۳۰

[2]  ھدایة،کتاب الکراھیة، فصل فی الوطء والنظر واللمس، ۲ /  ۳۷۰

[3] عالمگیری،کتاب الکراھیة،الباب الثامن فیمایحل   الخ، ۵ / ۳۲۷

[4]     المرجع السابق

[5]   عالمگیری،کتاب الکراھیة، الباب الثامن فیما یحل   الخ،۵ /  ۳۲۷

[6]   المرجع السابق

[7] عالمگیری،کتاب الکراھیة، الباب الثامن فیما یحل   الخ،۵ / ۳۲۷   الدرالمختار وردالمحتار،کتاب الحظر والاباحة، فصل فی النظر والمس،۹ / ۶۰۵



Total Pages: 16

Go To