Book Name:Aik Aankh wala Aadmi

اسلام نے عورت کو جہاں عزت و مرتبہ کے اعلیٰ مقام پر فائز کیا وہیں اس کی عفت و عصمت کی حفاظت کا اہتمام کرتے ہوئے یہ ذمہ داری مرد کو سونپی اور اس کے لیے چند قواعد  وضوابط بھی عطا فرمائے تا کہ شاہراہِ حیات پر گامزن مرد و عورت کو کوئی مشکل پیش نہ آئے۔ دورانِ سفر مرد و عورت کا چونکہ دو طرح کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے:محرم اور غیر محرم۔محرم سے مراد وہ لوگ ہیں جو مردو عورت دونوں  کے لیے حرمت کا درجہ رکھتے ہیں اور اِن کا اُن سے نکاح کرنا ہمیشہ کے لیے حرام قرار دیا گیا ہے۔ مثلاً مرد کے لیے ماں، بہن، بیٹی وغیرہ محرم ہیں تو عورت کے لیے باپ، بھائی اور بیٹا وغیرہ محرم ہیں۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّ  وَجَلَّ اسلام نے جہاں شاہراہِ حیات پر گامزن مرد و عورت  کے مخصوص حقوق کا تعین فرمایا وہیں راستے میں ملنے والے دیگر لوگوں کے مخصوص حقوق کا بھی تعین فرما دیا ہے۔ چنانچہ آئیے ! یہ جاننے کے لیے کہ مرد و عورت کے آپس میں ایک دوسرے کو یا دیگر لوگوں کو دیکھنے کے متعلق اسلام نے ہمیں کیا مدنی پھول عطا فرمائے ہیں،صدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی کے اسلامی آدابِ حیات پر مشتمل انسائیکلو پیڈیا ”بہارِ شریعت“ کی روشنی میں ان مدنی پھولوں کا جائزہ لیتے ہیں۔چنانچہ،

دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ  1197 صَفحات پر مشتمل کتاب بہارِ شریعت  (جلد سوم)  صَفْحَہ 442 تا 449 پر موجود مدنی پھول کچھ تغیر کے ساتھ پیشِ خدمت ہیں۔ان مدنی پھولوں کی چار صورتیں ہیں:

 (۱) مرد کا مرد کو دیکھنا            (۲) عورت کا عورت کو دیکھنا

 (۳) عورت کا مرد کو دیکھنا        (۴) مرد کا عورت کو دیکھنا

 (۱) مرد کا مرد کو دیکھنا

 (1)  مَرد، مرد کے ہر حِصّۂ بَدَن کی طرف نظر کرسکتا ہے سوا ان اعضا کے جن کا سَتْر  (یعنی چھپانا) ضَروری ہے۔ وہ ناف کے نیچے سے گھٹنے کے نیچے تک ہے کہ اس حِصّۂ بَدَن کا چھپانا فرض ہے، جن اَعضا کا چھپانا ضَروری ہے انکو عَورَت کہتے ہیں۔کسی کو گھٹنا کھولے ہوئے دیکھے تو اسے منع کرے اور ران کھولے ہوئے دیکھے تو سختی سے منع کرے اور شرم گاہ کھولے ہوئے ہو تو اسے سزا دی جائے گی۔ ([1])

(  (2بَہُت چھوٹے بچے کے بدن کے کسی حِصّہ کا چھپانا فرض نہیں، پھر جب کچھ بڑا ہوگیا تو اس کے آگے پیچھے کا مَقام چھپانا ضَروری ہے۔ پھر جب دس برس سے بڑا ہوجائے تواس کے لیے بالغ کا سا حکم ہے۔ ([2])  (مرد کے)  جس حِصّۂ بَدَن کی طرف نظر کرسکتا ہے اس کو چھو بھی سکتا ہے۔ ([3])

 (3) لڑکا جب مُرَاہِق (یعنی بالغ ہونے کے قریب) ہوجائے اور وہ خوبصورت نہ ہو تو نظر کے بارے میں اس کا وہی حکم ہے جو مرد کا ہے اور خوبصورت ہو تو عَورَت کا جو حکم ہے وہ اس کے لیے ہے یعنی شَہوَت کے ساتھ اس کی طرف نظر کرنا حَرام ہے اور شَہوَت نہ ہو تو اس کی طرف بھی نظر کرسکتا ہے اور اس کے ساتھ تنہائی بھی جائز ہے۔شَہوَت نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اسے یقین ہو کہ نظر کرنے سے شَہوَت نہ ہوگی اور اگر اس کا شُبہ بھی ہو تو ہر گز نظر نہ کرے، بوسہ کی خواہش پیدا ہونا بھی شَہوَت کی حد میں داخِل ہے۔ ([4])

 (4)  عمل  (یعنی دوا)  دینے کی ضَرورت ہو تو مرد مرد کے مَوضعِ حُقْنہ  (یعنی پیچھے کے مَقام)  کی طرف نظر کرسکتا ہے یہ بھی بوجہِ ضَرورت جائز ہے



[1] عالمگیری، کتاب الکراھیة، الباب الثامن فیما یحل   إلخ،۵ /  ۳۲۷

[2] ردالمحتار،کتاب الحظر والاباحة، فصل فی النظر والمس، ۹ /  ۶۰۲

[3] ھدایة،کتاب الکراھیة، فصل فی الوطء والنظر واللمس،۲ /  ۳۷۱

[4] ردالمحتار،کتاب الحظر والاباحة، فصل فی النظر والمس،۹ /  ۶۰۲



Total Pages: 16

Go To