Book Name:Aik Aankh wala Aadmi

اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّ  وَجَلَّ یہ دعوتِ اسلامی ہی ہے جس نے بے حیائی و بے پردگی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا ہوا ہے۔ آپ بھی دعوتِ اسلامی والے بن جائیے کیونکہ جب تمام عاشقانِ رسول مل کر بے حیائی کے منہ زور شیطانی سیلاب کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جائیں گے تو خود بخود اس کا زور ٹوٹ جائے گا۔

تمام اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں کو حضرت سیِّدُنا حَسَن بَصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی کا یہ فرمان ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے،آپ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ سَروَرِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکا فرمانِ عِبْرَت  نِشان ہے: (بے پردہ عورت کو) دیکھنے والے پر اور اُس  (بے پردہ عورت)  پر جسے دیکھا جائے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی لعنت۔ ([1]) یعنی دیکھنے والا جب بِلا عُذر قَصْدًا دیکھے اور عورت اپنے آپ کو بِلاعُذر قَصْدًا دکھائے تو دونوں پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی لَعْنت۔

شیخ سعدی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی  فرماتے ہیں:

بَرَاں بَنْدَۂ حَقْ نیکوئی خَواسْتَسْتْ   کہ بَا اُو دِل و دَسْتِ زَنْ رَاسْتَسْتْ

مفہوم: اللہ عَزَّ  وَجَلَّ دنیا میں جس شخص کی بھلائی چاہتا ہے تو اسے ایسی بیوی عطا فرماتا ہے جو ہر لحاظ سے شوہر کی فرمانبردار ہوتی ہے۔

زِ بیگانگاں چَشْمِ زَنْ کَور باد         چُوں بَیروں شُد از خانہ  دَرْگَور  باد

مفہوم:جب کوئی عورت گھر سے باہر جانا چاہے تو چاہئے کہ وہ قبر میں دفن مُردے کی طرح آنکھیں بند کر لے۔نہ یہ کسی کو دیکھے اور نہ ہی کوئی اس کی طرف متوجہ ہو۔

بَپَوشَائِش از مَرْدِ بیگانہ رُوئے      وَگر نَشَنْوَدْ چِہ زَنْ آنکہ چِہ شَو

مفہوم: (بیوی کو غیر مردوں سے بچانے کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ)  بیوی کو پردے کا عادی بنایا جائے تاکہ نہ کوئی غیر مرد اس کی جانب متوجہ ہو اور نہ کوئی اسے دیکھے۔یاد رکھو!  اگر وہ پردہ نہ کرے تو پھر مرد و عورت میں فرق ہی کیا ہوگا؟

مری جس قدر ہیں بہنیں سبھی مدنی برقع پہنیں

ہو کرم شہِ زمانہ مَدَنی مدینے والے

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                 صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّ  وَجَلَّ دعوتِ اسلامی کی بدنگاہی و بے حیائی کے خلاف جاری جنگ کے نتیجے میں بے شمار اسلامی بھائی اور اسلامی بہنیں گناہوں بھری زِنْدَگی سے توبہ کرکے دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ہو چکے ہیں۔ چنانچہ،

بدنگاہی سے چھٹکارا مل گیا

اوکاڑہ  (پنجاب پاکستان) کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے کہ میں دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے منسلک ہونے سے قبل گناہوں کے صحرا میں بھٹک رہا تھا۔ والدین کی نافرمانی کے علاوہ ایسے قبیح گناہوں کا ارتکاب بھی میرا معمول بن چکا تھا جو ایک غیرت مند مسلمان کو زیب نہیں دیتے۔ بدنگاہی کے اولین و آسان ذرائع یعنی فلمیں ڈرامے اور گانے باجے دیکھنے سننے کو بے حد پسند کرتا تھا،فحاشی وعریانی سے بھرپور فلموں کے گندے مناظر ہر وقت میری آنکھوں میں بسے رہتے اور میں ان فلمی مناظر کو زِنْدَگی کا حقیقی روپ دینے کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتا اور یوں لڑکیوں کو عشقِ مجازی کے جال میں پھانس کر اپنے نفسِ بد کی تسکین کا سامان مہیا کرنا میرا محبوب ترین مشغلہ بن چکا تھا۔ الغرض بدنگاہی کے سبب میں جن افعالِ بد اور برے خیالات میں مبتلا ہو چکا تھا، ان کی نحوست سے بَہُت جلد میرااعصابی نظام اس قدر ضعف کا شکار ہو گیا کہ کسی لڑکی کو شہوت کی نظر سے دیکھتے ہی غسل فرض ہوجاتا۔

روز و شب اسی طرح گناہوں میں بسر ہو رہے تھے کہ میرے رب  عَزَّ  وَجَلَّکا کرم بالائے کرم ہوا اور مجھے اس برے ماحول سے چھٹکا را کچھ یوں



[1]         شعب الایمان، باب الحیاء، فصل فی الحمام، ۶ / ۱۶۲، حدیث:۷۷۸۸



Total Pages: 16

Go To