Book Name:Aik Aankh wala Aadmi

اِسْتَشْرَفَهَا الشَّيْطَانُ۔ عورت عورت  (یعنی چھپانے کی چیز) ہے جب وہ نکلتی ہے تو شیطان اسے جھانک جھانک کر دیکھتا ہے۔ ([1])  اور حُجَّةُ الْاِسْلَام حضرت سیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالوَالِی فرماتے ہیں: جو آدمی اپنی آنکھوں کو بند کرنے پر قادر نہیں ہوتا وہ اپنی شرمگاہ کی بھی حفاظت نہیں کرسکتا۔ ([2])  

حضرت سیِّدُنا عبدُﷲ بن مَسْعُود رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا فرمانِ عِبْرَت  نشان ہے: اَلْعَيْنَانِ تَزْنِيَانِ۔ آنکھیں بھی بدکاری کرتی ہیں۔ ([3])  اور حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مروی روایت میں ہے کہ زِنَا الْعَيْنِ النَّظَرُ۔ آنکھوں کی بدکاری دیکھنا ہے۔([4])

لہٰذا نظر کی حفاظت سے متعلق چند باتىں عرض کى جاتی ہیں تاکہ ہم اپنے آپ کو بدنِگاہى سے بچاسکىں ۔نظر کی اہمیت کااس بات سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ قرآنِ پاک میں اسکے متعلق بڑا واضح حکم ارشاد ہوا ہے۔چنانچہ پارہ18 سورۂ نور کى 30ویں آىت مىں مردوں کے متعلق حکم ہے: قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ  (پ ۱۸، النور:۳۰)  ترجمۂ کنزالاىمان:مسلمان مردوں کو حکم دو کہ اپنى نِگاہىں کچھ نىچى رکھىں۔ اور آىت نمبر 31 مىں عورتوں کو حکم ہوتا ہے: وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ  (پ ۱۸، النور:۳۱)  ترجمۂ کنزالاىمان:اور مسلمان عورتوں کو حکم دو کہ اپنى نِگاہىں کچھ نىچى رکھىں۔ اسی طرح احادیث مبارکہ میں بھی نظر کی حفاظت کی ترغیب دلائی گئی ہے ۔ چنانچہ،

دوسری نظر نہ کرو

سرکارِ مدىنہ منورہ، سردارِ مکّہ مکرّمہ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے امىر المومنىن حضرت سَیِّدُنا مولا مشکل کشا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے ارشاد فرماىا:اے علی! اىک نظر کے بعد دوسرى نظر نہ کرو  (ىعنى اگر اچانک بلا قصد کسى عورت پر نظر پڑى تو فوراً نظر ہٹا لے اور دوبارہ نظر نہ کرے)  کہ پہلى نظر جائز اور دوسرى ناجائز ہے۔ ([5])

پہلی نظر سے کیا مراد ہے؟

جاہِل لوگ اس حدیث پاک کو غلط پیرائے میں بیان کرتے ہوئے مَعَاذَ اللہ کچھ اس طرح کہتے سنائی دیتے ہىں کہ  ”پہلى نظر مُعاف ہے“، لہٰذا وہ اپنی نظر ہٹاتے ہی نہیں اور مسلسل بدنِگاہی کرتے رہتے ہیں۔حالانکہ مُعاف تو وہ پہلی نظر ہے جو عَورت پر بے اختیار پڑ گئی اور فوراً ہٹالی،قصداً ڈالی جانے والی پہلی نظر بھی حَرام اور جہنّم میں لے جانے والا کام ہے۔جیسا کہ مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الاُمَّت مُفْتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان  اس حدیثِ پاک کی شَرْح میں فرماتے ہیں:پہلی نِگاہ سے مُراد وہ نِگاہ ہے جو بغیر قَصْد  (یعنی ارادے کے بغیر) اَجنبی عَورَت پر پڑ جائےاور دوسری نِگاہ سے مراد دوبارہ اسے قَصْداً دیکھنا ہے۔اگر پہلی نظر بھی جَمائے رکھی توبھی دوسری نِگاہ کے حکم میں ہوگی اور اس پر بھی گناہ ہوگا۔ ([6])

اچانک نظر پڑ جائے تو کیا کریں؟

حضرت سَیِّدُنا جرىربن عبد اللہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ  فرماتے ہىں: مىں نے نُورِ مجسم، شاہِ بنى آدم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے اچانک نظر پڑجانے کے متعلق پوچھا تو آپ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مجھے نظر پھیر لینے کا حکم دیا۔ ([7])

نظر نہ جھکانے کی ہاتھوں ہاتھ سزا

 



[1]              ترمذی، کتاب الرضاع، باب:۱۸، ۲  / ۳۹۲، حدیث:۱۱۷۶

[2]            احیا ء علوم الدین،کتاب کسرالشھوتین ،۳  / ۱۲۵

[3]            مسند احمد، ۲ / ۸۴، حدیث :۳۹۱۲

[4]  ابو داود،کتاب النکاح،باب فی ما یؤمر به من غض البصر،۲ / ۳۵۸، حدیث:۲۱۵۳

[5]   ابو داود،کتاب النکاح، باب ما یؤمر به من غض البصر، ۳۵۸ / ۲، حدیث:۲۱۴۹

[6]    مرآة المناجیح،۱۷ / ۵

[7]       مسلم،کتاب الآداب، باب نظر الفجأة، ص۱۱۹۰، حدیث:۲۱۵۹



Total Pages: 16

Go To