Book Name:Aik Aankh wala Aadmi

طریقہ رہاہے، یقیناً نبی کا دَرَجہ اُمّتی سے بَہُت بڑا ہوتا ہے،پھر بھی حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام  نے اپنے اُمّتی سے دُعا کروائی۔خود ہمارے مکی مَدَنی آقا، میٹھے میٹھے مصطَفٰے صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نےافضل الانبیا ہونے کے باوُجُودعُمرے کی اِجازَت دیتے ہوئے امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمرِفاروق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ  سے ارشاد فرمایا:يَا اَخِیْ اَشْرِكْنَا فِی شَیْءٍ مِنْ دُعَائِكَ وَلَا تَنْسَنَا۔ یعنی اے میرے بھائی!  ہمیں بھی اپنی دُعا میں شریک کرنا اور بھول نہ جانا۔ ([1])  

بچو! دعا کرو عمر بخشا جائے

اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنّت،مُجَدّدِ دىن و ملّت، پَروانۂ شَمْعِ رِسالَت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ  326 صَفحات پر مشتمل کتاب فضائلِ دعا صَفْحَہ 112پر اپنے لیے دوسروں سے دعا کروانے کے ضمن میں فرماتے ہیں کہ امیر المؤمنین فاروق اعظم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ مدینہ مُنَورہ کے بچوں سے اپنے لئے دُعا کراتے کہ دُعا کرو عمر بخشا جائے۔ ([2])  

نہ جانے کس کى دُعا قبول ہو

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمیں بھی چاہئے کہ وقتاً فوقتاً دوسروں سے دعا کی درخواست کرتے رہیں کہ نہ جانے کس کى دعا قبول ہوجائے اور ہمارا بیڑا پار ہوجائے۔ کیونکہ اس بارگاہ مىں شہرت و عزت، دولت وثروت اور شکل وصورت نہیں دیکھی جاتی بلکہ یہاں تو صِرف نیّت و اخلاص دیکھا جاتا ہے۔

نہ کسی کے رقص پہ طنز کر نہ کسی کے غم کا مذاق اڑا

جسے چاہے جیسے نواز دے یہ مزاجِ عشقِ رسول ہے

ندامت

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ایک طرف اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کے اس پرہیزگار اور متقی بندے کا یہ حال ہےکہ کبھی كوئى اىسا فعل ہی نہیں کیا جس كے متعلق  ىہ شك ہو كہ یہ گناہ ہے اور اتفاقاً گزرتے ہوئے کسی پر نِگاہ پڑگئی حالانکہ یہ گناہ نہیں تھا پھر بھی خوفِ خدا کے باعث اىسى ندامت طاری ہوئى كہ انہوں  نے اپنی وہ آنكھ ہی نكال كر پھىنك دی اور ایک طرف ہمارا یہ حال ہے کہ   ہم دن میں ہزاروں گناہ کرتے ہیں مگر ندامت تو کجا،ہمیں اِس بات کا احساس تک نہیں ہوتا۔

ندامت سے گناہوں کا اِزالہ کچھ تو ہوجاتا

ہمیں رونا بھی تو آتا نہیں ہائے ندامت سے

نِگاہ کی اہمیت

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  بدقسمتى سے جس طرح آدمى بولنے مىں بے باک ہے اسى طرح  دىکھنے مىں بھى بے باک ہے، اسے احساس تک نہىں کہ دىکھنابھی  اىک عمل ہے جواس کے لىے ثواب یا عذاب کا باعث بن سکتا ہے ۔مثلاً اگر اپنى ماں کو محبت بھرى نظر سے دىکھتا ہے تو اىک مقبول حج کا ثواب ملتا ہے اوراگر غىر محرم کو شہوت کے ساتھ دىکھتا ہے تو عذابِ نار کا حق دار بنتا ہے کیونکہ غیر محرم عورت کو دیکھنا انسان کا نہیں شیطان کا کام ہے۔ جیسا کہ حضرت سیِّدُنا عبدُﷲ بن مَسْعُود رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبیِ پاک، صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ ذی وَقار ہے:اَلْمَرْاَةُ عَوْرَةٌ فَاِذَا خَرَجَتْ



[1]                       ابن ماجه، کتاب المناسك، باب فضل دعاء الحاج،۴۱۱ / ۳،حدیث:۲۸۹۴

[2]    فضائلِ دعا، ص۱۱۲



Total Pages: 16

Go To