Book Name:Aik Aankh wala Aadmi

میری نظر کسی دوسرے کو دیکھے اِس سے پہلے ایک دیکھنے والا  (یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ)  مجھے دیکھ رہا ہے۔ ([1])  

’’ اللہ آسمان سے دیکھ رہا ہے‘‘ کہنا کیسا؟

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کاش! حقیقی معنوں میں ہمارے ذِہن میں ہر وَقت یہ بات جمی رہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہمیں دیکھ رہا ہے اگرواقعی اس تصوُّر کی معراج نصیب ہو جائے تو پھر گناہوں کا صُدور نہیں ہوسکتا۔یہاں پر ضروری مسئلہ  ىاد رکھىےکہ بعض لوگ یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ آسمان سے دىکھ رہا ہے۔ایسا ہر گز نہیں کہنا چاہئے کہ یہ کفریہ جملہ ہے۔چنانچہ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 692صفحات پر مشتمل کتاب ”کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب“ صفحہ104پر ہے:سُوال:بدنِگاہی کرنے والے کو ڈرانے کیلئے یہ کہہ سکتے ہیں یا نہیں کہاللہ عَزَّوَجَلَّ  آسمان سے دیکھ رہا ہے۔

جواب:نہيں کہہ سکتے کہ یہ کُفر یہ جملہ ہے ۔ فتاوٰی عالمگیری جلد2 صَفْحَہ 259 پر ہے:”اللہ تعالیٰ آسمان سے یا عرش سے دیکھ رہا ہے“ ایسا کہنا کفر ہے ۔ ہاں بدنِگاہی بلکہ کسی بھی طرح کا گناہ کرنے والے کو یہ اِ حساس دلایا جائے کہ ”اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  دیکھ رہا ہے۔“جیسا کہ پارہ 30 سورةُالْعَلَق  کی14 ویں آیتِ کریمہ میں ارشاد ہوتا ہے: اَلَمْ یَعْلَمْ بِاَنَّ اللّٰهَ یَرٰىؕ (۱۴)  (پ۳۰، العلق:۱۴)   ترجمۂ کنزالایمان:کیا نہ جانا کہ اللہ  (عَزَّ  وَجَلَّ) دیکھ رہا ہے۔ ([2])

ذرائع ابلاغ 

       افسوس!  ذرائع ابلاغ  (میڈیا)  مثلاً ریڈیو، ٹی۔ وی کے مختلف چینلز اور متعدد رسائل اور اخبارات بے حیائی کو فروغ  (فَ۔ رو۔ غ)  دینے میں مصروف ہیں ۔ جس کی بنا پر ہمارا مُعاشَرہ تیزی سے فحاشی، عُریانی و بے حَیائی کی آگ کی لپیٹ میں آتا جا رہا ہے جس کے سبب خاص کر نئی نسل اخلاقی بے راہ روی و شدید بدعملی کا شکار ہوتی جارہی ہے۔ فلمیں ڈرامے، گانے باجے، بیہودہ فنکشنز رواج پا رہے ہیں۔ اکثر گھر سینما گھروں اوراکثر مَجالس نَقَّار خانوں (یعنی نوبت وڈھول وغیرہ بجانے کی جگہوں)  کا سَماں پیش کر رہی ہیں اور بات صرف یہیں تک محدود نہیں رہی بلکہ اب تو ایمان کے بھی لالے پڑے ہیں کہ شیطان کے اِیما پر کفارِ بداطوار نے گانوں میں کفریہ کلمات کے ایسے ایسے زہر گھول دیئے ہیں جنہیں دلچسپی سے سننا اور گنگنانا کفر ہے۔اس کى مثالىں امىر اہلسنت کے بىان ”گانوں کے 35 کفرىہ اشعار“ میں دی گئی ہیں جو تحریری صورت میں بھی مکتبة المدینه نے شائع کیا ہے، اسے پڑھ کر آپ کوجھرجھرى آجائے گی اور زندگى بھر گانوں سے نَفْرَت ہوجائے گی اورجو لاشعوری میں آج تک سنتے رہے اس پر شرم آئے گی کہ مىں اس قدر بے حس ہوچکا ہوں اور میرا ضمیر مرچکا ہے کہ اپنے رب کى شان مىں گستاخى کی جاتی رہی اور میں سنتا رہا۔سمجھانے کے لىے ایک شعربیان کیا جاتا ہے۔

تجھ کو دى صُورَت پرى سى دل نہىں تجھ کو دىا

ملتا خُدا تو پوچھتا ىہ ظلم تو نے کىوں کىا

اس شعر میں دو صریح کفریات ہیں (۱) اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کومَعَاذَ اللہ ظالم کہا گیا ہے  (۲) اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  پر اعتراض  کیا گیا ہے۔

کوئی دیکھ تو نہیں رہا!

حضرتِ سیِّدُنا فرقد سَبَخی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:مُنافِق جب دیکھتا ہے کہ کوئی  (اُسےدیکھنے والا)  نہیں ہے تو وہ برائی کی جگہوں میں داخل ہوجاتا ہے۔وہ اس بات کا توخیال رکھتا ہے کہ لوگ اُسے نہ دیکھیں مگراللہ عَزَّ  وَجَلَّ  دیکھ رہا ہے اس بات کا لحاظ نہیں کرتا۔ ([3])

چھپ کے لوگوں سے کىے جس کے گناہ

 



[1]   احیاء العلوم، کتاب المراقبة والمحاسبة،المرابطة الثانیةالمراقبة،۱۲۹ / ۵ملخصاً

[2]  کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب، ص۱۰۴

[3]  احیاء العلوم، کتاب المراقبة والمحاسبة،المرابطة الثانیة المراقبة، ۱۳۰ / ۵،  ملخصاً



Total Pages: 16

Go To