Book Name:Aik Aankh wala Aadmi

کى چادر پر بھى نہ ڈالو کیونکہ نظر دل مىں شہوت پىدا کرتى ہے۔ ([1])

صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی  فرماتے ہیں:اجنبیہ عورت نے خوب موٹے کپڑے پہن رکھے ہیں کہ بَدَن کی رنگت وغیرہ نظر نہیں آتی تو اس صُورَت میں اس کی طرف نظر کرنا جائز ہے کہ یہاں عَورَت کو دیکھنا نہیں ہوا بلکہ ان کپڑوں کو دیکھنا ہوا یہ اس وقت ہے کہ اس کے کپڑے چُسْت نہ ہوں اور اگر چُسْت کپڑے پہنے ہو کہ جِسْم کا نقشہ کھنچ جاتا ہو مثلاً چُسْت پائجامے میں پنڈلی اور ران کی پوری ہیئت  (ہَے۔ءَت) نظر آتی ہے تو اس صُورَت میں نظر کرنا ناجائز ہے۔    اسی طرح بعض عورتیں بہت باریک کپڑے پہنتی ہیں مثلاً آبِ رواں  (ایک قسم کا نہایت اچھا اورباریک کپڑا) یا جالی یا باریک ململ ہی کا دوپٹّا جس سے سر کے بال یا بالوں کی سیاہی یا گردن یا کان نظر آتے ہیں اور بعض باریک تنزیب  (تَن۔ زیب، ایک نہایت ہی باریک کپڑا) یا جالی کے کُرْتے پہنتی ہیں کہ پیٹ اور پیٹھ بالکل  (صاف) نظر آتی ہے،  اس حالت میں نظر کرنا حرام ہے اور ایسے موقع پر انکو اس قسم کے کپڑے پہننا بھی ناجائز ۔ ([2])

نِگاہ مصطفٰے کی ادائیں

پیارے اسلامی بھائیو! ہمیں چاہئے کہ ہرمعاملے میں شریعت وسنت کی پابندی کریں۔میٹھے میٹھے آقا صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کى مىٹھى مىٹھى نِگاہیں نیچی رہا کرتی تھیں۔ چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا محمد بن عیسٰی ترمِذی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِینقل فرماتے ہیں: جب سرکارِ دو عالم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکسی طرف توجُّہ فرماتے تو پورےمُتَوَجِّہ ہوتے، مبارَک نظریں نیچی رہتی تھیں، آپ کی نظریں آسمان کی نسبت زمین کی طرف زیادہ  رہتی تھی، اکثر آنکھ مبارَک کے کنارے سے دیکھا کرتے تھے۔ ([3])

مذکورہ حدیث پاک میں یہ الفاظ ’’پورے مُتَوَجِّہ ہوتے‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ نظر چراتے نہیں تھے ۔ اور یہ بات کہ ’’مبارَک نظریں نیچی رہتی تھیں‘‘ یعنی جب کسی چیز کی طرف دیکھتے تو اپنی نِگاہ پَست (یعنی نیچی)  فرما لیا کرتے تھے۔ بِلا ضَرورت اِدھر اُدھرنہ دیکھا کرتے تھے، بس ہمیشہ عالمُ الغَیب جَلَّ جَلَالُہ کی طرف مُتَوَجِّہ رہتے،اُسی کی یادمیں مشغول اور آخِرت کے مُعامَلات میں غورو تفکر فرماتے رہتے۔ ([4]) اور یہ الفاظ’’آپ کی نظریں آسمان کی نسبت زمین کی طرف زیادہ رہتی تھیں‘‘حد درجہ     شرم وحیا کی دلیل ہے، حدیثِ پاک میں جو یہ آیا ہے کہ خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحمَةٌ لِّـلْعٰلَمِین صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم جب تشریف فرما ہوکرگفتگو فرماتے تو اکثر اوقات اپنی نِگاہ شریف آسمان کی طرف اُٹھاتے تھے۔ ([5])  توآپ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا یہ نظر اٹھاناانتظارِ وحی میں ہوتا تھا ورنہ نظر مبارک کا زمین کی طرف رکھنا روز مرّہ کے معمولات میں تھا۔ ([6])

آقا کى حىا سے جھکى رہتى نظر اکثر

آنکھوں پہ مرے بھائى لگا قفلِ مدىنہ

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                       صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

آنکھوں کے قُفلِ مدینہ کاایک مَدَنی نسخہ

حُجَّةُ الْاِسلام حضرتِ سیِّدُنا امام محمدغَزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالوَالِی اِحْیَاءُ الْعُلُوم میں نَقل فرماتے ہیں:حضرت سیِّدُناجُنَید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی سے کسی نے عرض کی: یاسیِّدی! میں آنکھیں نیچی رکھنے کی عادت بنانا چاہتا ہوں، کوئی ایسی بات ارشاد فرمائیے جس سے مدد حاصل کروں ۔ فرمایا :یہ ذِہن بنائے رکھوکہ



[1] حلیة الاولیاء، العلاء بن زیاد، ۲۷۷ / ۲، رقم:۲۲۱۷

 [2] عالمگیری،کتاب الکراھیة، الباب الثامن فیما یحل الخ،۵ /  ۳۲۹

[3]  شمائلِ ترمذی،باب ما جاء فی خلق رسول الله، ص۲۳، حدیث:۷

[4] شرح الزرقانی علی المواهبِ اللدنیة،المقصد الثالث، الفصل الاول،واما بصرہ الشریف، ۲۷۲ / ۵

[5]   ابودَاود،کتاب الادب،باب الهدی فی الکلام،۳۴۲ / ۴،حدیث: ۴۸۳۷

[6]           اشعة، ۴ / ۵۲۶، مدارِجُ النّبوّت،۱ /  ۶



Total Pages: 16

Go To