Book Name:Aik Aankh wala Aadmi

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

ایک آنکھ والا آدمی ([1])

                                                                                                              درود شریف کی فضیلت

رحمتِ عالم، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم كا فرمانِ عالىشان ہے:اَوْلَى النَّاسِ بِى يَوْمَ الْقِيَامَةِ اَكْثَرُهُمْ عَلَىَّ صَلَاةً۔ یعنی تم مىں سے قىامت كے دن مىرے سب سے زىادہ نزدىك وہ شخص ہوگا جس نے دنىا مىں مجھ پر سب سے زیادہ درود پڑھے ہوں گے۔  ([2])

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ایک آنکھ والا آدمی

حضرت كعب الاحبار رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ فرماتے ہىں كہ حضرت سىدنا موسىٰ کلیم الله عَلَیْہِ السَّلَام  كے زمانے مىں اىك مرتبہ قحط پڑا، لوگوں نے  آپ  عَلَیْہِ السَّلَام  كى بارگاہ مىں درخواست كى:یا کلیمَ الله! دعا فرمائیے کہ بارش ہو۔آپ عَلَیْہِ السَّلَام  نے ارشاد فرماىا: اُخْرُجُوْا مَعِیْ اِلَی الْجَبَل۔ مىرے ساتھ پہاڑ پر چلو۔ سب لوگ ساتھ چل پڑے تو آپ نے اعلان فرماىا: لَایَتْبَعُنِیْ رَجُلٌ اَصَابَ ذَنْبًا۔ مىرے ساتھ كوئى اىسا شخص نہ آئے جس نے كوئى گناہ كىا ہو۔ ىہ سن كر سارے لوگ واپس چلے گئے، صِرف   (برخ العابد نام کا) اىك آنكھ والا آدمی ساتھ چلتا رہا۔حضرت سىدنا موسىٰ عَلَیْہِ السَّلَام  نے اس سے فرماىا:اَلَمْ تَسْمَعْ مَا قُلْتُ؟كىا تم نے مىرى بات نہىں سنى؟ عرض كى:سنی ہے۔ پوچھا: كىا تم بالكل بے گناہ ہو؟ عرض كى: یا کلیمَ الله! مجھے اپنا اور كوئى جُرم تو ىاد نہىں، البتہ!  اىك بات كا تذكرہ كرتا ہوں اگر وہ گناہ ہے تو میں بھی واپس چلا جاتا ہوں۔فرماىا: مَا ھُوَ؟ وہ كىا؟ عرض كى: اىك دن مىں نے گزرگاہ پر كسى كى قِىام گاہ مىں اىك آنكھ سے جھانكا تو كوئى كھڑا تھا، كسى كے گھر مىں اس طرح جھانكنے كا مجھے بہت قلق (یعنی صدمہ)  ہوا، مىں خوفِ خُدا سے لرز اٹھا،مجھ پر ندامت غالِب آئى اور جس آنكھ سے جھانكا تھا اس كو نكال كر پھىنك دىا۔ ارشاد فرمائیے! اِنْ کَانَ ھٰذَا ذَنْبًا رَجَعْتُ۔ اگرمیرا یہ عمل گناہ ہے تو مىں بھى چلا جاتا ہوں۔حضرت سَیِّدُنا موسىٰ عَلَیْہِ السَّلَام  نے اس كو ساتھ لے لىا پھر پہاڑ پر پہنچ كر آپ نے اس شخص سے ارشاد فرماىا: اللہ سے بارش كى دُعا كرو۔اس نے ىوں دُعا كى:ىاقدوس عَزَّ  وَجَلَّ!  ىا قدوس عَزَّ  وَجَلَّ! تىرا خزانہ كبھى ختم نہىں ہوتا اوربخل تىرى صفت نہىں، اپنے فضل و كرم سے ہم پر پانى برسادے۔ فورا ًبارش ہوگئى اور حضرت سَیِّدُنا موسىٰ عَلَیْہِ السَّلَام  اور وہ شخص بھىگتے ہوئے پہاڑ سے واپس تشرىف لائے۔ ([3])

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کی اُن پر رَحْمَت ہو اور ان کے صَدْقے ہماری بے حِساب مَغْفرت ہو۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!         صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اپنے سے کم مرتبہ والے سے دعا کروانا

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا اپنے سے کم مرتبہ فرد سے دُعا کروانا جائز ہے اور یہ انبیا ومرسلین عَلَیْہِمُ السَّلَام اور بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِین  کا



  [1] مبلغِ دَعوتِ اِسلامی و نگران مرکزی مجلسِ شُوریٰ حضرت مولانا ابو حامِد حاجی محمد عمران عطاری مَدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی نے یہ بیان۴ ذو القعدۃ الحرام ۱۴۳۰ھ بمطابق 23اکتوبر  2009ء کو مسجد البر  (دبئی)  میں تبلیغِ قرآن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں فرمایا۔ ۱۰ ربیع الاول۱۴۳۴ ھـ بمطابق 23 جنوری 2013ء کو ضَروری ترمیم و اِضافے کے بعد تحریری صُورت میں پیش کیا جا رہا ہے۔  (شُعْبَہ رَسَائِلِ دَعْوَتِ اِسْلَامی مَجْلِس اَ لْمَدِیْنَةُ الْعِلْمِیة)

[2]    ترمذی،کتاب الوتر، باب ماجاء فی فضل الصلاة علی النبی،۲۷ / ۲، حدیث:۴۸۴

[3]  روض الریاحین، الحکایة الستون بعد الثلاث مائة، ص۲۹۵ملخصاً



Total Pages: 16

Go To