Book Name:Beti ki Parwarish

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

بیٹى كى پرورش  ([1])

درود شريف كى فضيلت

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ كےمحبوب،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم كا فرمانِ تقرُّب نِشان ہے: جس نے مجھ پر 100مرتبہ درود پاك پڑھا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  اس كى دونوں آنكھوں كے درمىان لكھ دىتاہے كہ ىہ نِفا ق اور جہنّم كى آگ سے آزاد ہے اور اُسے بروزِ قىامت شہدا كے ساتھ ركھے گا۔ ([2])

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                 صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

انوكھی شہزادی

حضرت سیّدناشیخ شاہ کرمانی قُدِّسَ  سِرُّہُ النّوْرَانِی کی شہزادی جب شادی کے لائق ہوئی تو بادشاہ کے یہاں سے رشتہ آیا مگر آپ نے تین دن کی مہلت مانگی اور مسجد مسجد گھوم کرکسی پارسا نوجوان کو تلاش کرنے لگے۔ ایک نوجوان پر آپ کی نگاہ پڑی جس نے اچّھی طرح نماز ادا کی (اورگڑگڑا کر دعا مانگی) ۔ شیخ نے اس سے پوچھا :  کیا تمہاری شادی ہو چکی ہے؟ اس نے نفی میں جواب دیا۔ پھر پوچھا:  کیا نکاح کرنا چاہتے ہو؟ لڑکی قرآنِ مجید پڑھتی ہے،  نماز روزہ کی پابند ہے اور سیرت و صورت والی بھی ہے۔ اس نے کہا:  بھلا میرے ساتھ کون رشتہ کرے گا! شیخ نے فرمایا:  میں کرتا ہوں،  لو یہ کچھ درہم ! ایک درہم کی روٹی ،  ایک کا سالن اور ایک کی خوشبو خرید لاؤ۔اس طرح شاہ کرمانی قُدِّسَ  سِرُّہُ النّوْرَانِی نے اپنی دختر نیک اختر کا نکاح اس سے پڑھا دیا۔ دلہن جب دولہا کے گھر آئی تو اس نے دیکھا کہ پانی کی صراحی پر ایک روٹی رکھی ہوئی ہے ۔ اس نے پوچھا: یہ روٹی کیسی ہے؟دولہا نے کہا: یہ کل کی باسی روٹی ہے میں نے افطار کے لئے رکھ لی تھی۔ یہ سن کر وہ واپس ہونے لگی۔یہ دیکھ کر دولہا  بولا:  مجھے معلوم تھا کہ شیخ شاہ کرمانی قُدِّسَ  سِرُّہُ النّوْرَانِی کی شہزادی مجھ غریب انسان کے گھر نہیں رُک سکتی۔ دلہن بولی: میں آپ کی مفلسی کے باعث نہیں بلکہ اس لئے لوٹ کر جارہی ہوں کہ ربُّ العالمین پر آپ کا یقین بہت کمزور نظر آ رہا ہے جبھی تو کل کیلئے روٹی بچا کر رکھتے ہیں۔ مجھے تو اپنے باپ پر حیرت ہے کہ انہوں نے آپ کو پاکیزہ خصلت اور صالح کیسے کہہ دیا! دولہا یہ سن کر بہت شرمندہ ہوا اور اس نے کہا: اس کمزوری سے معذرت خواہ ہوں۔ دلہن نے کہا:  اپنا عذر آپ جانیں،  البتہ!  میں ایسے گھر میں نہیں رُک سکتی  جہاں ایک وَقْت کی خوراک جمع رکھی ہو،  اب یا تو میں رہوں گی یا روٹی ۔ دولہا نے فوراً جا کر روٹی خیرات کر دی (اور ایسی درویش خصلت انوکھی شہزادی کا شوہر بننے پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کا شکر ادا کیا) ۔  ([3])

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری  بے حساب مغفرت ہو۔

یقینِ کامِل کی بہاریں

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھاآپ نے! مُتَوکّلین کی بھی کیا خُوب اَدائیں ہیں۔ شہزادی ہونے کے باوُجُود ایسا زبردست توکل کہ کل کیلئے کھانا بچانا گوارا ہی نہیں! یہ سب یقینِ کامِل کی بہاریں ہیں کہ جس خُدا نے آج کھِلایا ہے وہ آئندہ کل بھی کھِلانے پر یقیناً قادِر ہے ۔


 



[1]    مبلغِ دَعوتِ اِسلامی و نگران مرکزی مجلسِ شُوریٰ حضرت مولانا ابو حامِد حاجی محمد عمران عطاری مَدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی  نے یہ بیان ۱۴ شوال المکرم ۱۴۳۱ھ بمطابق 23ستمبر 2010ء کو تبلیغِ قرآن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے عالَمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ (کراچی) میں ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں فرمایا۔ ۱۰ ربیع الاول۱۴۳۴ ھـ بمطابق 23 جنوری 2013ء کو ضَروری ترمیم و اِضافے کے بعد تحریری صُورت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ (شُعْبَہ رَسَائِلِ دَعْوَتِ اِسْلَامی مَجْلِس اَ لْمَدِیْنَةُ الْعِلْمِیة)

[2]   مجمع الزوائد، کتاب الادعیة، باب فی الصلاۃ علی النبی، ۱۰  / ۲۵۳، حدیث:۱۷۲۹۸

[3]   روض الریاحین، الحکاية الثانیة والتسعون بعد المائة، ص۱۹۲



Total Pages: 24

Go To