Book Name:Kabab Samosay kay Nuqsanat

(کو لڈڈرنک)   میں تقریباً سات چمّچ چینی ہوتی ہے   {۶}  اُبلے ہوئے یا بھاپ  (STEAM)    میں پکائے ہوئے کھانے اور سبزیاں زیادہ مفید اور زود ہضم ہوتے ہیں    {۷}   بیمار جانور کا گوشت فوڈ پوائزنِنگ (FOOD POISONING)   اور بڑی آنت کے کینسرکا ذَرِیعہ بن سکتا ہے    {۸}   ہاف فرائی انڈا کھانے کے بجائے اچھّی طرح فرائی کرکے کھانا چاہئے اور آملیٹ اُس وقت تک پکایا جائے جب تک خُشک نہ ہوجائے    {۹}   انڈا اُبالنا ہو تو کم از کم سات مِنَٹ تک اُبالا جائے   {۱۰}   سیب ،  چِیکو، آڑو،  آلوچہ ،  اَملوک،  کھیراوغیرہ پھلوں کو چھیلے بِغیر کھانا مفید ہے کیوں کہ چھلکے میں بہترین غذائی رَیشہ  ( فائبر)   ہوتا ہے ۔   غذائی رَیشے ٭بلڈ شوگر٭بلڈ کولیسٹرول اور ٭بلڈ پریشر کم کرکے ٭ قبض کھولتے اور ٭ غذا سے زہریلے مادّوں کو لے کر نکل جاتے نیز٭ بڑی آنت کے کینسر سے بچاتے ہیں    {۱۱}   کدو شریف،  شکر قند، چقندر،  ٹماٹر، آلو وغیرہ وغیرہ چھلکے سمیت پکانا چاہئیں ،  ان کا چھلکا کھالینا مفید ہے    {۱۲}  کالے چنوں کا استعمال صحّت کیلئے مفید ہے۔   اُبلے ہوئے ہوں یا بھنے ہوئے ان کے چھلکے بھی کھا لینے چاہئیں    {۱۳}   ایک ہی وقت میں مچھلی اور دودھ کا استعمال نقصان دِہ ہے    {۱۴}   اینٹی بائیو ٹیک دَوا استعمال کرنے کے بعد دَہی کھالینا چاہئے ۔  جو ضروری بیکٹیریا ختم ہوجاتے ہیں وہ دہی کھانے سے بحال ہوجاتے ہیں ۔    ( ہر علاج تجربہ کار طبیب کے مشورے کے مطابِق کرنا چاہئے)     { ۱۵}   کھانے کے فوراً بعد چائے یا ٹھنڈی بوتل پینا نظامِ انہِضام کو مُتَأثِّر کرتا ہے،  اس سے بد ہضمی اور گیس کی شکایت ہوسکتی ہے۔    ( کھانا کھانے کے تقریباً دو گھنٹے کے بعد ایک دو گلاس پانی پی لینا مفید ہے)      {۱۶}   چاول کھانے کے فوراً بعد پانی پینے سے کھانسی ہوسکتی ہے    {۱۷}   گُودے والے پھل  (مَثَلاً پپیتا ،  امرود، کیلاوغیرہ )  اور رس والے پھل  (مثلاً موسمبی،  سنگترہ وغیرہ)    ایک ساتھ نہیں کھانے چاہئیں    {۱۸}   پھلوں کے ساتھ چینی یا مٹھائی کا استعمال نقصان کرتاہے۔   ( مختلف پھلوں کی ٹکڑیاں کر کے چاٹ مصالحہ ڈالنے میں حرج نہیں مگر چینی نہ ڈالی جائے)     {۱۹}   پھل اور سبزیاں ایک ساتھ نہ کھائے جائیں    {۲۰}  کھیرا ، پپیتا اور تربوز کھانے کے بعد پانی نہ پیا جائے    {۲۱}  کھانا کھانے کے آدھے گھنٹے پہلے پھل کھالینا چاہئے، کھانے کے فوراً بعد پھل کھانا مُضِرِّ صحّت ہے ( افسوس! آج کل کھانے کے فوراً بعدپھل کھانے کا رواج ہے )      {۲۲}   میرے آقا اعلیٰ حضرت،  مو لانا شاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن روایت نَقل کرتے ہیں :  ‘’  کھانے سے پہلے تربوز کھانا پیٹ کو خوب دھو دیتا ہے اور بیماری کوجڑ سے ختم کردیتا ہے۔  ’‘  (اَلْجامِعُ الصَّغِیر لِلسُّیُوطیص۱۹۲حدیث۳۲۱۲و فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ  ج۵ص۴۴۲    {۲۳}  میٹھی ڈِشیں ،    مٹھائیاں اور میٹھے مَشروبات کھانے سے کم از کم آدھے گھنٹے قبل استِعمال کئے جائیں ،  کھانے کے بعد ان کا اِستِعمال نقصان کرتا ہے۔    (افسوس! میٹھی ڈشیں آج کل کھانے کے بعد کھائی جاتی ہیں )  جوانی ہی سے مٹھاس اورچِکناہٹ کا استِعمال کم کر دیجئے،  اگر مزید زندہ رہے تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ  بُڑ ھاپے میں سَہولت رہے گی   {۲۴}  اُبلی ہوئی سبزی کھانا بَہُت مفید ہے اور یہ جلدی ہضم ہوتی ہے    {۲۵}   سبزی اُسی وقت کاٹی جائے جب پکانی ہو ، پہلے سے کاٹ کر رکھ دینے سے اُس کے قوّت بَخش اَجزا رفتہ رفتہ ضائِع ہوجاتے ہیں    {۲۶}   تازہ سبزیاں وٹامنز ، نمکیات اور معدنیات وغیرہ کے اَہم عَناصِر سے لبریز ہوتی ہیں مگر جتنی دیر تک رکھی رہیں گی اُتنے ہی اُن کے وٹامنز اور مُقَوّی (مُ۔  قَوْ۔  وِی)   اَجزا ضائِع ہوتے   چلے جائیں گے لہٰذا بہتر یہی ہے کہ جس دن کھانا ہو اُسی دن تازہ سبزیاں خرید یں    {۲۷}  سبزیاں پکانے میں پانی کم سے کم ڈالنا چاہئے کیوں کہ پانی سبزیوں کے حیات بخش اَجزاء (وٹامنز)   کھینچ لینے کی صلاحیّت رکھتا ہے    {۲۸}   سبزیاں مَثَلاً آلو، شکرقند ، گاجر،  چُقندر وغیرہ اُبالنے کے بعد بچا ہوا پانی ہرگز پھینکا نہ جائے،  اُس کو اِستِعمال کرلینا فائدہ مندہے کیوں کہ اُس میں ترکاریوں کے مُقَوّی اجزاء شامل ہوتے ہیں    {۲۹}  سبزیاں زِیادہ سے زِیادہ 19مِنَٹ میں اُبال لینی چاہئیں ان میں بھی بالخصوص سبز رنگ کی ترکاریاں تو دس مِنَٹ کے اندر اندر چولہے سے اُتارلی جائیں    {۳۰}   زِیادہ دیر پکانے سے سبزیوں کے حیات بخش اَجزاء  ( وٹامنز)   ضائع ہونے شروع ہوجاتے ہیں باِ لخصوص وٹامِن سی کافی  نازُک ہوتا ہے اس لئے زیادہ دیر پکانے سے یہ باِ لکل ختم ہوجاتا ہے    {۳۱}   ترکاری یا کسی قسم کی غِذا پکاتے وقت آگ درمیانی ہونی چاہئے ۔  اس سے غذا اندر تک اچھّی طرح پک  جائے گی اور لذیذ بھی ہوگی    {۳۲}   چولھے سے اُتارنے کے بعد ڈھکّن بند رکھنا چاہئے اِس طرح بھاپ کا اندر رہنا پکنے کے عمل کیلئے مُفید ہے    {۳۳}   کچّی یاپکّی سبزیاں فِرِج میں رکھی جاسکتی ہیں    {۳۴}   لیموں کی بہترین قسم وہ ہے جس کا رس رقیق  (پتلا)   اور چھلکا ایک دَم پتلا ہو،  عام طور پر اسے کاغذی لیموں کہتے ہیں ۔   لیموں کوآم کی طرح گھولنے کے بعد،  چوڑائی میں کاٹنا چاہئے،  اس کے کم از کم چار اور اگر ذرا بڑا ہو تو آٹھ ٹکڑے کر لیجئے،  اِس طرح نچوڑنے میں آسانی رہے گی۔    لیموں کا ٹکڑا اِس قَدَر نچوڑیں کہ سارا رس نِچڑ جائے یعنی ایک قطرہ بھی باقی نہ رہے،  ادھورا نچوڑ کر پھینک دینا اِسراف ہو سکتاہے    {۳۵}  فِرِج سے نکال کر ٹھنڈا لیموں باورچی خانہ میں چولھے کے پاس رکھ دیجئے یاگرم پانی میں ڈال دیجئے،  کاٹ کر گرم چاولوں کے پتیلے میں بھی رکھا جا سکتا ہے۔   اِس طرح نرم ہو جائے گا اور رس بآسانی نکل آئے گا    {۳۶}   کچّی سبزیاں اور سلاد کھانا مفید ہے کہ یہ وٹامنز سے بھرپور، صحّت بخش اور قبض کُشا ہوتی ہیں ۔  سائنسی تحقیق کے مطابِق پکانے سے اکثر غذائیت ضائِع ہوجاتی ہے   {۳۷}   تازہ سبزی کا استعمال زِیادہ مُفید ہوتاہے ۔  باسی سبزیاں نقصان کرتیں اور پیٹ میں گیس بھرتی ہیں ، ہاں آلو، پیاز ، لہسن وغیرہ تھوڑے دن رکھنے میں حَرَج نہیں    {۳۸}   سبزی ، پھل اور اناج میں موجود غذائیت کا  ’’ حارِس‘‘  (یعنی محافظ)   اُس کا چھلکا ہوتا ہے لہٰذا ان میں سے جوجوچیزچھلکے کے ساتھ بآسانی کھائی جاسکتی ہے،  اُس کا چھلکا نہیں اُتارنا چاہئے۔   جس کا چھِلکا سخت ہوتا ہے اور نہیں کھایا جاتا اُس کی بھی صرف ہلکی سی تہ وہ بھی آہِستہ آہِستہ اُتارنی چاہئے۔    چھلکاجس قَدَر موٹا اُتاریں گے اُتنے ہی



Total Pages: 4

Go To