Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

            بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن اس بات کو مستحب سمجھتے کہ روزانہ دن اور رات کے وقت کوئی چیز صدقہ کی جائے،   خواہ وہ تھوڑی ہی کیوں   نہ ہو جیسے  ایک لقمہ یا کوئی پھل۔ یہاں   تک کہ ان میں   سے  بعض پیاز اور دھاگہ تک صدقہ کر دیا   کرتے تھے۔ چنانچہ،   مروی ہے کہ محسنِ کائنات،   فخر موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا فرمانِ رحمت نشان ہے :  ’’قیامت کے دن ہر بندہ اپنے صدقہ کے سائے تلے ہو گا۔ ‘‘  ([1])

            اللہ عَزَّ وَجَلَّاس صدقہ کو قبول فرماتا ہے جو اگرچہ قلیل ہو مگر مستقل و دائمی ہو اور وہ ایسے  صدقے کو اس صدقہ سے  زیادہ پسند فرماتا ہے جو کثیر تو ہو مگر دائمی و مستقل نہ ہو۔ کیا آپ نے نہیں   دیکھا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے اس فرمان میں   اس شخص کی کیسے  مذمت فرمائی ہے جو پہلے تو کچھ دیتا ہے لیکن پھر چھوڑ دیتا ہے:

وَ اَعْطٰى قَلِیْلًا وَّ اَكْدٰى (۳۴)  (پ۲۷،  النجم:  ۳۴)                             تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور کچھ تھوڑا سا دیا اور روک رکھا۔

            اللہ عَزَّ وَجَلَّنے جنت کے پھلوں   کی تعریف اس حسن و خوبی سے  بیان فرمائی کہ دنیا کے پھلوں   کا عیب دار ہونا خود بخود ثابت ہو گیا۔ چنانچہ ارشاد فرمایا:

وَّ فَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍۙ (۳۲)  لَّا مَقْطُوْعَةٍ وَّ لَا مَمْنُوْعَةٍۙ (۳۳)  (پ۲۷،  الواقعہ:  ۳۲،   ۳۳)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور بہت سے  میووں   میں  ۔ جو نہ ختم ہوں   اور نہ روکے جائیں  ۔

            یعنی اس دائمی نعمت کے حصول میں   رغبت رکھتے ہوئے دنیا کے پھلوں   سے  دور رہو کیونکہ یہ ختم ہو جانے والے ہیں   اوران سے  انہیں   بعض اوقات روک بھی دیا جاتا ہے۔

 (۳) … سائل کو عطا کرنا: 

            سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کی ایک اچھی عادت یہ بھی تھی کہ وہ سائل کو بغیر کچھ دیئے واپس نہ لوٹاتے خواہ دی جانے والی چیز قلیل ہی کیوں   نہ ہوتی۔

سائل کو کچھ دینے کے متعلق تین فرامینِ مصطفٰے صلَّی اللہ ُ عَلَیۡہِ وَسَلَّم: 

 (1) آ گ سے  بچو! خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے بدلے۔ ([2])

 (2) سائل کا حق ہے اگرچہ وہ ایسے  گھوڑے پر آئے جس کی لگام چاندی کی ہو۔  ([3])

 (3) سائل کو واپس نہ لوٹاؤ اگرچہ جلا ہوا بکری کا کھر ہی دو۔  ([4])

            ام المومنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے ایک مرتبہ ایک سائل کو انگور کا ایک دانہ دیا،   راوی فرماتے ہیں   ہم ایک دوسرے کی جانب دیکھنے لگے تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے ارشاد فرمایا:  ’’تمہیں   کیوں   تعجب ہو رہا ہے؟ اس میں   بہت سے  ذرّات ہیں  ۔ ‘‘ 

 (۴) … کسی کے کچھ مانگنے پر ’’نہیں   ‘‘  نہ کہنا: 

            سلف صالحین کی ایک اچھی عادت یہ بھی تھی کہ ان سے  کچھ بھی مانگا جاتا یا کسی امر مباح کی خواہش کی جاتی تو وہ جواب میں   ’’نہیں   ‘‘  نہ کہتے۔ کیونکہ انہیں   خلافِ سنت کام کرنا ناپسند تھا اور وہ سنت پر عمل کرنا ہی پسند کرتے تھے۔ چنانچہ مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ،   قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اخلاقِ کریمانہ میں   سے  ایک خلق یہ بھی ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  جب بھی کوئی شے مانگی جاتی تو جواب میں   آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ’’لا    ‘‘   (یعنی نہیں   )  نہ کہتے۔ ([5])  بلکہ اگر وہ شے پاس نہ ہوتی تو خاموش رہتے۔

 (۵) … باہمی اتفاق کا ہونا: 

            صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ہر معاملے پر متفق ہو جاتے اور کوئی بھی کسی کو حقیر نہ جانتا بلکہ ہر ایک اپنے بھائی کو خود پر ترجیح دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اوصاف اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان الفاظ میں   بیان فرمائے ہیں  :

وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ۪-وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۚ (۳۸)  (۲۵،  شوری:  ۳۸)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور ان کا کام ان کے آپس کے مشورے سے  ہے اور ہمارے دیئے سے  کچھ ہماری راہ میں   خرچ کرتے ہیں  ۔

            یعنی ان کے امور و معاملات آپس میں   مشترک اور غیر منقسم ہیں   اور وہ سب ان میں   مساوی ہیں۔

  (۶) … دن کے چار اعمال کی بجا آوری: 

            سالک  (یعنی قربِ خداوندی چاہنے والے)  کے لئے مستحب یہ ہے کہ وہ روزانہ یہ چار اعمال بھی سر انجام دیا کرے:

 (۱)  روزہ رکھے  (۲)  صدقہ کرے  (۳)  مریض کی عیادت کرے اور  (۴)  جنازے میں   شریک ہو۔

            سالکینِ راہِ طریقت ان کاموں   کی بجا آوری میں   جلدی کیا کرتے۔ چنانچہ،   

            شہنشاہِ مدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ فضیلت نشان ہے :  ’’جس نے یہ چاروں   کام ایک دن میں   جمع کئے اسے  بخش دیا جائے گا۔ ‘‘   ([6]) ایک روایت میں   ہے کہ وہ جنت



[1]     حلیة الاولیاء، الرقم ۳۹۹ عبداللہ بن مبارک، الحدیث: ۱۱۸۵۶، ج۸، ص۱۹۳

[2]     صحیح البخاری، کتاب الزکاة، باب اتقوا النار     الخ، الحدیث: ۱۴۱۷، ص۱۱۱

[3]     المصنف لابن ابی شیبة، کتاب الزکاة، باب ما جاء فی الحث علی الصدقة، الحدیث: ۲۲، ۲۳، ج۳، ص۷

[4]     المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث ابن نجاد، الحدیث: ۱۶۶۴۸، ج۵، ص۵۹۲ ’’لا ترد‘‘بدله’’ردوا‘‘

[5]     صحیح مسلم، کتاب الفضائل، باب فی سخائه صلی اللہ علیه وسلم، الحدیث: ۶۰۱۸، ص۱۰۸۶

[6]     صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابة، باب من فضائل ابو بکر الصدیق، الحدیث: ۶۱۸۲، ص۱۰۹۸ مفهوماً



Total Pages: 332

Go To