Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

مَقَامًا مَّحْمُودَا  الَّذِی وَعَدْتَّہٗ)      ([1])

تر جمعہ : میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ربّ ہونے،   اسلام کے دین ہونے اور حضرت سیِّدُنا محمد مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نبی ہونے پر راضی ہوں  ،   اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! اس مکمل دعوت اور سچے کلمے اور کھڑی ہونے والی نماز کے وسیلہ سے  حضرت سیِّدُنا محمد مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر اور ان کی آل پر درود بھیج اور انہیں   وسیلہ اور فضیلت عطا فرما اور انہیں   مقامِ محمود پر فائز فرما کہ جس کا تونے ان سے  وعدہ فرمایا ہے۔

            اگر فجر کی اذان ہو تو یہ الفاظ بھی کہیں  :  (اَللّٰہُمَّ ھٰذَا اِدْبَارُ لَیْلِكَ وَاِقْبَالُ نَہَارِكَ وَاَصْوَاتُ دُعَاتِكَ وَحُضُورُ صَلَاتِكَ وَشُہُودُ مَلٰٓـئِكَتِكَ،   صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وّاٰلِہ)  ([2])

تر جمعہ : اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! یہ وقت تیری رات کے جانے اور دن کے آنے کا ہے اور تیری دعوت دینے والوں   کی آوازوں  ،   نماز اور فرشتوں   کی حاضری کا وقت ہے،   پس اے میرے ربّ ! حضرت سیِّدُنا محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر اور ان کی آل پر درود بھیج۔

            اور مغرب کے بعد  (اَللّٰہُمَّ ھٰذَا اِدْبَارُ لَیْلِكَ وَاِقْبَالُ نَہَارِكَ)  کے بجائے یہ کہیں  : (اَللّٰہُمَّ ھٰذَا اِقْبَالُ لَیْلِكَ وَاِدْبَارُ نَہَارِكَ)  اس کے بعد جو چاہیں   دعا مانگیں   اور اذان و اقامت کے درمیانی لمحات کو غنیمت جانیں   کہ دعا کا بہتر وقت یہی ہے۔

ابدالوں   کی دعا: 

 (20) بندے کو چاہئے کہ ذیل کے کلمات ہر وقت پڑھا کرے کہ یہ ابدالوں   کی دعا ہے جو وہ ہمیشہ کرتے ہیں  :

 (مَا شَآءَ اللّٰہُ،   لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ،   اَلْعَفُوُّ الْغَفُوْرُ،   یا سَلَامُ! سَلِّمْ،   یارَبِّ! یارَبِّ! یا ذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ! اِفْتَحْ بِخَیْرٍ وَّاخْتِمْ بِخَیْرٍ،   فَلَا ۤ اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ،   سُبْحَانَ رَبِّنَاۤ اَنْ کَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا،   یارَبِّ! یارَبِّ! یاۤ اَللّٰہُ! یاۤ  اَللّٰہُ! یا عَزِیْزُ! یا عَزِیْزُ! یا قَرِیْبُ! یا قَرِیْبُ! یا حَلِیْمُ! یا سَتَّارُ! سُبْحَانَ رَبِّنَاۤ  اَنْ کَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا،   یاۤ  اَللّٰہُ! یاۤ  اَللّٰہُ! یا عَزِیْزُ! یا عَزِیْزُ! یا قَرِیْبُ! یا قَرِیْبُ! یا کَرِیْمُ! یا غَفَّارُ! یا وَاسِعَ الْمَغْفِرَۃِ! اِغْفِرْ لِیْ،   عَافِنَا،   وَاعْفُ عَنَّا،   نَسْئَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ،   یا غِیاثَ الْمُسْتَغِیْثِیْنَ!)  

تر جمعہ : اللہ عَزَّ وَجَلَّجو چاہے،   کوئی قوت نہیں   اللہ عَزَّ وَجَلَّکی مدد کے سوا،  وہ معاف کرنے والا،   بخشنے والا ہے،   اے سلام! سلامتی عطا فرما،   اے میرے ربّ! اے میرے ربّ! عظمت و بزرگی والے! خیر وبھلائی کے ساتھ آغاز فرما اور خیر وبھلائی کے ساتھ ہی اختتام فرما،   اللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی معبود نہیں   وہ خود زندہ ہے اوروں   کو قائم رکھنے والا ہے،   پاک ہے ہمارا ربّ،   ہمارے ربّ کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا،   اے میرے ربّ! اے میرے ربّ! اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! اے غالب! اے غالب! اے قریب! اے قریب! اے بردبار! اے پردہ پوشی فرمانے والے! پاک ہے ہمارا ربّ،   ہمارے ربّ کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا،   اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! اے غالب! اے غالب! اے قریب! اے قریب! اے کریم! اے غفار! اے وسیع مغفرت والے! میری بخشش فرما دے،   ہمیں   عافیت دے اور ہمیں   معاف فرما دے،   ہم تجھ سے  معافی و عافیت کا سوال کرتے ہیں  ،   اے فریاد کرنے والوں   کے فریاد رس۔

            مذکورہ جتنی دعائیں   یا اذکار ہم نے ذکر کئے ہیں   وہ سب شہنشاہِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ،   صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اور تابعین عظام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام سے  مروی ہیں  ۔ ہم نے ان اذکار کے تذکرے میں   تفصیل کے بجائے اختصار سے  کام لیا ہے کیونکہ ہمارا مقصود اعمال کے فضائل کا تذکرہ کرنا نہیں   بلکہ ان اوراد کی تشریح کرنا ہے۔

اسلاف کے اچھے اخلاق

 (۱) … مسواک کرنا: 

            سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کے اچھے اخلاق میں   سے  ہے کہ وہ رات یا دن کے وقت جب بھی نیند سے  بیدار ہوتے تو مسواک کرتے۔ اس کی فضیلت احادیث ِ مبارکہ میں   بھی مروی ہے۔ چنانچہ،   

مسواک کی فضیلت کے متعلق تین فرامینِ مصطفٰے  صلَّی اللہ عَلَیۡہِ وَسَلَّم: 

 (1) مسواک سے  اپنے منہ صاف کر لیا کرو کہ یہ قرآنِ کریم  (کی تلاوت)  کے راستے ہیں  ۔  ([3])

 (2) مسواک منہ کی طہارت اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کا باعث ہے۔ ([4])  

 (3) مسواک کر کے نماز پڑھنا بغیر مسواک کے نماز پڑھنے سے  70 گنا افضل ہے۔  ([5])

مسواک کے اوقات: 

            چار اوقات میں   مسواک کرنے کی تاکید مروی ہے:  (۱)  روزہ دار کے لئے زوالِ آفتاب سے  پہلے  (۲)  جمعہ کے دن غسل کے ساتھ  (۳)  رات کے قیام سے  پہلے  (۴)  صبح نیند سے  بیدار ہونے کے وقت۔

 (۲) … صدقہ کرنا: 

 



[1]     صحیح مسلم، کتاب الصلاة، باب استحباب القول مثل     الخ، الحدیث:۸۵۱، ص۷۳۹ مختصراً

[2]     سنن ابی داود، کتاب الصلاة، باب ما یقول عند اذان المغرب، الحدیث:۵۳۰، ص۱۲۶۳مختصراً جمع الجوامع، قسم الاقوال، حرف القاف، الحدیث: ۱۵۴۰۵، ج۵، ص۳۲۴ بدون شهود ملائکتک

[3]     شعب الایمان للبیهقی، باب فی تعظیم القران، فصل فی لبس الحسن، الحدیث: ۲۱۱۹، ج۲، ص۳۸۲

[4]     صحیح البخاری، کتاب الصوم، باب السواک الرطب، ص۱۵۱

[5]     شعب الایمان للبیهقی، باب فی الطهارات، الحدیث:۲۷۷۳، ج۳، ص۲۶



Total Pages: 332

Go To