Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

کچھ تو ایسے  تھے جو 600سے  لے کر 1000 تک نوافل پڑھا کرتے تھے۔ نوافل کی جو کم از کم تعداد منقول ہے وہ بھی ایک سو  (100)  ہے۔

            حضرت سیِّدُنا کرز بن وبرہ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مکہ مکرمہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّ تَعْظِیْمًا میں   قیام پذیر تھے،   آپ روزانہ رات اور دن میں   70،   70 طواف کرتے۔ راوی فرماتے ہیں   کہ جب ہم نے مسافت کا حساب لگایا تو یہ 10فرسخ بنی اور ان طوافوں   کے بعد ادا کردہ نوافل کی تعداد 280تھی۔ ([1])

تلاوتِ قرآنِ کریم: 

 (10) حضرت سیِّدُنا کرز بن وبرہ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے متعلق مزید مروی ہے کہ وہ مکہ میں   قیام کے دوران طواف کے ساتھ ساتھ روزانہ دن اور رات میں   دو مرتبہ قرآنِ کریم بھی ختم کیا کرتے تھے۔ حضرت سیِّدُنا ہشام بن عروہ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں   کہ میرے والدِ محترم اپنے اوراد و وظائف ہمیشہ اسی طرح پڑھا کرتے جیسا کہ وہ قرآنِ کریم کی تلاوت ہمیشہ کیا کرتے تھے اور ایک قول میں   ہے کہ وہ ہمیشہ دعائیں   اسی طرح پڑھا کرتے جس طرح ہمیشہ تلاوتِ قرآنِ کریم کیا کرتے۔

 (11) 100مرتبہ پڑھی جانے والی تسبیحات سوتے ہوئے اور ہر فرض نماز کے بعد بھی پڑھنا چاہئے ۔

چھ خصلتوں   کا حصول: 

 (12) اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فرمانِ عالیشان  (لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ- (پ۲۴،  الزمر:  ۶۳) )  کی تفسیر میں   جو کچھ مروی ہے اسے  بھی صبح و شام پڑھنا چاہئے کہ اس کا بھی بہت زیادہ ثواب ہے۔ چنانچہ،   

            امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  مروی ہے کہ انہوں  نے مذکورہ آیتِ مبارکہ کی تفسیر مکی مدنی سلطان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  دریافت کی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’تم نے مجھ سے  جس شے کے متعلق پوچھا ہے اس کے بارے میں   تم سے  پہلے کسینے نہیں   پوچھا اور اس کی تفسیر یہ کلمات ہیں  :

 ( لَاۤ اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَ بِحَمْدِہٖ وَلَا حَولَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ وَ اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ الْاَوَّلَ وَالْاٰخِرَ وَالظَّاھِرَ وَالْبَاطِنَ،   لَہُ الْمُلْكُ وَلَہُ الْحَمْدُ،   بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ)

تر جمعہ :  اللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی معبود نہیں   اوراللہ عَزَّ وَجَلَّسب سے  بڑا ہے،   عظمتوں   والا اللہ عَزَّ وَجَلَّاپنی حمد کے ساتھ پاک ہے،  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا نہ تو نیکی کرنے کی کوئی طاقت ہے اور نہ ہی برائی سے  بچنے کی کوئی قوت اور میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّسے  مغفرت طلب کرتا ہوں   جو اَوّل و آخر اور ظاہر و باطن ہے،   اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لئے تمام تعریفیں   ہیں  ،   اسی کے قبضۂ اختیار میں   خیر و بھلائی ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔

            جو یہ کلمات صبح و شام 10مرتبہ پڑھے اسے  6 فضیلتوں   سے  نوازا جاتا ہے:  (۱) … اسے  شیطان اور اس کے لشکریوں   سے  محفوظ کر دیا جاتا ہے  (۲) … اسے  ایک  قِنْطَار  (ایک مخصوص مقدار)  اجر دیا جاتا ہے  (۳) … جنت میں   اس کا ایک درجہ بڑھا دیا جاتا ہے  (۴) … اللہ عَزَّ وَجَلَّاس کا نکاح حورِ عین سے  کر دیتا ہے  (۵) … اس کے پاس

 بارہ فرشتے حاضر ہوتے ہیں   اور  (۶) … اسے  حج و عمرہ کا ثواب ملتا ہے۔ ([2])

            اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں   ایک اور روایت بھی مروی ہے جس میں   جنتیوں   کے خزانے کا تذکرہ ہے،   اگر اس روایت کو بھی اس کے ساتھ ملا دیں   تو دو فضیلتیں   حاصل ہوں   گی۔ چنانچہ، 

            امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  مروی ہے کہ انہوں  نے شہنشاہِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  چند مسائل دریافت کئے جن کے جواب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بتا دیئے،   پھر امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے مذکورہ آیتِ مبارکہ کا معنی دریافت کیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا کہ اس سے  مراد یہ کلمہ ہے:  (لَاۤ اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ)  اور جنت کا خزانہ یہ کلمہ ہے:  (سُبْحَانَ مَنْ فِی السَّمَآءِ عَرْشُہُ،   سُبْحَانَ مَنْ فِی السَّمَآءِ مَوْضِعُ اَثَرِہِ،   سُبْحَانَ مَنْ سَبَقَتْ رَحْمَتُہُ غَضَبَہُ،   سُبْحَانَ مَنْ لَّا مَلْجَاَ وَلَا مَہْرَبَ اِلَّا ۤ اِلَیْہِ)

تر جمعہ : پاک ہے وہ جس کا عرش آسمان پر ہے،   پاک ہے وہ جس کے جلوے آسمان میں   ہیں  ،   پاک ہے وہ جس کی رحمت اس کے غضب پر سبقت لے گئی،   پاک ہے وہ جس کے سوا کوئی پناہ گاہ ہے نہ کوئی جائے فرار۔

            پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ ارشاد فرمایا: اے عثمان! جو یہ کلمات صبح و شام 10 بار پڑھے اس کے لئے 6 اچھی باتیں   لکھی جاتی ہیں  :  ٭… اللہ عَزَّ وَجَلَّاسے  شیطان اور اس کے لشکریوں   سے  نجات دیتا ہے٭… اگر وہ اس دن مر جائے تو شہید کی موت مرے گا٭… جنت میں   اس کے لئے ایک محل بنا دیا جاتا ہے٭… گویا اسنے تورات،   انجیل،   زبور اور قرآنِ کریم کی تلاوت کی٭… گویا اسنے حضرت اسماعیل عَلَیْہِ السَّلَام کی اولاد میں   سے  آٹھ افراد  (جنہیں   غلام بنا لیا گیا ہو)  کو خرید کر آزاد کیا۔ ‘‘  ([3])

ابدال کے برابر ثواب: 

 (13) ہر نماز کے بعد خواہ فرض ہو یا نَفْل ذیل کی چھ آیات ضرور پڑھا کریں  ،   ان کا ثواب بہت زیادہ ہے:

  (۱) سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا یَصِفُوْنَۚ (۱۸۰)  وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَۚ (۱۸۱)  وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ (۱۸۲)  (پ۲۳،  الصّٰفّٰت:  ۱۸۰تا۱۸۲)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: پاکی ہے تمہارے ربّ کو عزّت والے ربّ کو ان کی باتوں   سے  اور سلام ہے پیغمبروں   پر اور سب خوبیاں   اللہ کو جو سارے جہان کا ربّ ہے۔

 (۲) فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ (۱۷) وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ عَشِیًّا وَّ حِیْنَ تُظْهِرُوْنَ (۱۸) یُخْرِ جُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِ جُ



[1]     حلیة الاولیاء، الرقم۲۹۳ کرز بن وبرة، الحدیث: ۶۲۵۴، ۶۲۵۵، ج۵،ص ۹۴، ۹۵ کرز بن وبرة بدله محمد بن طارق مختصراً

[2]     کتاب الضعفاء للعقیلی، الرقم ۱۸۲۹مخلد ابو الهذیل، ج۴، ص۱۳۷۵بتغیر قلیل

[3]     المرجع السابق مختصراً



Total Pages: 332

Go To