Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

سے  مروی ایک روایت میں   مذکور ہے۔  ([1])

 (2) 100 مرتبہ یہ پڑھیں  :  (سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ لَاۤ اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ وَ تَبَارَكَ اللّٰہُ)   ([2])

 (3) 100 مرتبہ یہ درودِ پاک پڑھیں  :

 (اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَنَبِیِّكَ وَرَسُوْلِكَ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ)    ([3])

تر جمعہ : اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! اپنے بندے،   نبی اور رسول حضرت سیِّدُنا محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر درود بھیج جو کہ اُمِّی نبی ہیں  ۔

  (4) 100مرتبہ یہ استغفار پڑھیں  :  ( اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ الْحَیَّ الْقَیُّوْمَ وَاَسْئَلُہُ التَّوْبَۃَ)   ([4])

تر جمعہ : میںاللہ عَزَّ وَجَلَّ سے  بخشش چاہتا ہوں   جو خود زندہ ہے،   دوسروں   کو قائم رکھنے والا ہے اور میں   اس سے  توبہ کا سوال کرتا ہوں  ۔

 (5) 100مرتبہ یہ تسبیح پڑھیں  :  (سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَ بِحَمْدِہٖ)  ([5])

تر جمعہ : عظمتوں   والا اللہ عَزَّ وَجَلَّاپنی حمد کے ساتھ پاک ہے۔

 (6) 100مرتبہ یہ پڑھیں  :  (لَاۤ اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ الْمَلِكُ الْحَقُّ الْمُبِیْنُ)   ([6])

تر جمعہ : اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں   وہ سچا روشن بادشاہ ہے۔ 

 (7) 100مرتبہ یہ تسبیح پڑھیں  :  ( مَا شَآءَ اللّٰہُ،   وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ)   ([7])

                        چاہئے کہ مذکورہ تمام اوراد و کلمات کو روزانہ پڑھے،   اگر اس مخصوص تعداد سے  زائد کی توفیق ہو تو یہ فضل و کرم ہو گا،   ورنہ اس قدر تو ہر صورت پڑھے۔

صحابۂ  کرام اور تابعین عظام کی تسبیحات: 

            کثیر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے متعلق مروی ہے کہ وہ ہر روز 12 ہزار مرتبہ تسبیح پڑھا کرتے تھے اور بعض تابعین عظام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے متعلق مروی ہے کہ ان کا روزانہ کا ورد اور وظیفہ 30 ہزار تسبیحات ہوا کرتا تھا۔

مرنے سے  پہلے جنت میں   مقام دیکھنا: 

 (8) حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْاَکْرَم ایک ابدال سے  روایت کرتے ہیں   کہ وہ ایک رات سمندر کے کنارے عبادت کر رہے تھے،   اچانک انہوں  نے کسی کی آواز سنی جو اللہ عَزَّ وَجَلَّکی تسبیح بیان کر رہا تھامگر کوئی دکھائی نہ دیا۔ تو فرماتے ہیں   کہ میں  نے پوچھا: ’’کون ہے؟ مجھے صرف آواز آ رہی ہے مگر کوئی دکھائی نہیں   دے رہا۔ ‘‘  توآواز آئی: ’’میں   اس سمندر پر متعین ایک فرشتہ ہوں  ،  اللہ عَزَّ وَجَلَّنے جب سے  مجھے پیدا کیا ہے میں   یہی کلمات پڑھ رہا ہوں  ۔ ‘‘  آپ فرماتے ہیں   کہ میں  نے اس فرشتے سے  پوچھا:  ’’تمہارا نام کیا ہے؟ ‘‘  تواسنے بتایا: ”مھَیْھَیائِیْل“ میں  نے اس سے  پوچھا:  ’’ ان کلمات کی فضیلت کیا ہے؟ ‘‘  تو وہ بولا:  ’’ جو انہیں   100مرتبہ پڑھے گا جنت میں   اپنا مقام و ٹھکانا دیکھنے سے  پہلے نہ مرے گا یا یہ کہ وہ اسے  دکھا دیا جائے گا۔ ‘‘  اور وہ کلمات یہ ہیں  :

 (سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَلِیِّ الدَّیانِ،   سُبْحَانَ اللّٰہِ شَدِیْدِ الْاَرْکَانِ،   سُبْحَانَ مَنْ یَّذْھَبُ بِاللَّیْلِ وَیاتِیْ بِالنَّہَارِ،    سُبْحَانَ مَنْ لاَّ یُشْغِلُہُ شَاْنٌ عَنْ شَاْنٍ،  سُبْحَانَ اللّٰہِ الْحَنَّانِ الْمَنَّانِ،  سُبْحَانَ اللّٰہِ الْمُسَبَّحِ فِیْ کُلِّ مَکَانٍ)    ([8])

 تر جمعہ : پاک ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّجو بلند،  بدلہ دینے والا ہے،   پاک ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّجو مضبوط ارکان والا ہے،   پاک ہے وہ ذات جو رات کو لے جاتی ہے اور دن کو لاتی ہے،   پاک ہے وہ ہستی جسے  ایک کام دوسرے کام سے  نہیں   پھیرتا،   پاک ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّجو مشفق،   احسان فرمانے والا ہے،   پاک ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّجس کی تسبیح ہر جگہ بیان کی جاتی ہے۔

نوافل کی کثرت: 

 (9) اگر کسی بندے کے معمول میں   نوافل ادا کرنا ہو تو بہت بہتر ہے۔ چند تابعین عظام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے متعلق مروی ہے کہ وہ روزانہ 300سے  400 تک نوافل ادا کیا کرتے اور



[1]     جامع الترمذی، کتاب الدعوات، باب فی فضائل سبحان اللہ و بحمده، الحدیث: ۳۴۶۸، ص۲۰۰۸بدون وھوحی لایموت بیدہ الخیر                        کتاب الدعاء للطبرانی، باب القول فی ایام العشر، الحدیث: ۸۷۲، ص۲۷۲بدون وحی لایموت

[2]     جامع الترمذی، کتاب الدعوات، باب فی ثواب التسبیح   الخ، الحدیث: ۳۴۷۱، ص۲۰۰۹  بدون تبارک اللہ

[3]     صحیح البخاری، کتاب الدعوات، باب الصلاة علی النبی صلی اللہ علیه وسلم، الحدیث: ۶۳۵۸، ص۵۳۴ بدون ’’ونبیک، النبی الامی، مائة مرة

[4]     سنن ابی داود، کتاب الوتر، باب فی الاستغفار، الحدیث: ۱۵۱۷، ص۱۳۳۵  بدون مائۃ مرۃ

                                                عوارف المعارف، الباب الخمسون فی ذکر عمل جمیع النھار، ص۲۳۴بتغیر قلیل

[5]     سنن ابی داود، کتاب الادب، باب ما یقول اذا اصبح، الحدیث: ۵۰۹۱، ص۱۵۹۶

[6]     حلیة الاولیاء، الرقم ۴۱۰ سالم الخواص، الحدیث:۱۲۳۱۲، ج<



Total Pages: 332

Go To