Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

رزق اور قلبی تغیرات: 

            علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام میں   سے  کسی کا فرمان ہے کہ اے بندۂ مسکین! جب تو روزہ رکھے تو دیکھ لیا کر کہ کس کے پاس افطار کر رہا ہے اور کس شے سے  افطار کر رہا ہے؟ کیونکہ بندہ بعض اوقات کھانا کھاتا ہے تو اس کا دل جس حالت و کیفیت پر ہوتا ہے اس سے  بدل جاتا ہے اور پھر پہلی حالت پر واپس نہیں   لوٹتا۔ چنانچہ،   

            ایک بزرگ کا فرمان ہے کہ’’ کتنے ہی کھانے ایسے  ہیں   جو قیامِ شب سے  روک دیتے ہیں   اور کتنی ہی نگاہیں   ایسی ہیں   جو ایک سورت کی تلاوت تک سے  محروم کر دیتی ہیں  ،   بندہ بعض اوقات کچھ کھاتا ہے یا کوئی ایسا کام کرتا ہے تو اس کے سبب ایک سال تک قیامِ شب سے  محروم ہو جاتا ہے۔ ‘‘ 

             (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ)  اچھی طرح غور و فکر کرنے سے  مزید نقصان جانے جا سکتے ہیں   اور گناہوں   کی کمی سے  اس غور و فکر میں   مزید راہنمائی مل سکتی ہے۔ چنانچہ،   

            حضرت سیِّدُنا فضیل رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرمایا کرتے کہ جس فہمِ قرآن اور قیامِ شب کی مجھے اب توفیق ملی ہے اگر ابتدا میں   مل گئی ہوتی تو میں   کبھی بھی کوئی حدیث ِ پاک نہ لکھ پاتا بلکہ قرآنِ کریم کے علاوہ کسی کام میں   مشغول نہ ہوتا اور یہ بھی منقول ہے کہ طویل قیام کرنا قیامت کے دن راحت و آرام اور رات کی نماز گناہوں   کا کفارہ ہو گی اور ایک قول کے مطابق فرض نمازوں   میں   رہ جانے والی کمی رات کی  (نَفْل)  نماز سے  پوری کر لی جائے گی۔

            پس بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن دن کے وقت نماز پڑھنے میں   رکوع و سجود کی کثرت پسند کرتے اور رات کی نماز میں   طویل قیام کرنا پسند کرتے۔

فجر میں   نہ اٹھنے کے متعلق تین فرامینِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ: 

 (1) بندہ جب سوتا ہے توشیطان اس کے سر پر تین گرہیں   لگا دیتا ہے،   لہٰذا جب صبح کے وقت وہ اٹھ کر بیٹھ جاتا ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکا ذکر کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے اور جب وضو کرتا ہے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے اور اگر وہ دو رکعت نماز پڑھ لے تو ساری کی ساری گرہیں   کھل جاتی ہیں  ۔ پس وہ ہشاش بشاش اور پاکیزہ دل ہو کر صبح کرتا ہے اوراگر ایسا نہ کرے تو وہ سستی و کاہلی سے  اور بد دل ہو کر صبح کرتا ہے۔ ([1])

 (2) بندہ جب سویا رہے یہاں   تک کہ صبح ہو جائے تو شیطان اس کے کان میں   پیشاب کر دیتا ہے۔ ([2])

 (3) شیطان کے پاس ایک سَعُوْط  (سُنگھانے والی کوئی شے)  ،   ایک لَعُوق  (چٹانے والی کوئی چیز)  اور ایک ذَرُوْر  (چھڑکنے والی کوئی چیز)  ہے،   جب وہ بندے کو سنگھاتاہے تو اس کے اخلاق برے ہو جاتے ہیں  ،   جب چٹاتا ہے تو اس کی زبان برائی و شر سے  آلودہ ہو جاتی ہے اور جب کچھ چھڑکتا ہے تو بندہ رات بھر سویا رہتا ہے یہاں   تک کہ صبح ہو جاتی ہے۔ ([3])

قیام شب پر معاون اور اس سے  غافل کرنے والی اشیاء: 

قیامِ شب پر تین چیزوں   سے  مدد لی جا سکتی ہے:  (۱)  حلال کھانا  (۲)  توبہ پر استقامت  (۳)  وعید کے خوف کا غم یا پھر جس ثواب کا وعدہ کیا گیا ہے اس کی امید کا شوق۔

            قیامِ شب سے  بندے کو جو اشیاء محروم کر دیتی ہیں   یا پھراس کی طویل غفلت کا باعث بنتی ہیں   وہ بھی تین ہیں: (۱) شبے والی اشیاء کھانا  (۲)  گناہوں   پر اصرار کرنا  (۳)  دل پر دنیاوی محبت کا غالب ہونا۔

٭٭٭

٭ شب بیداری سے  محرومی کا سبب ٭

حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری  عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:  ایک گناہ کی وجہ سے  میں پانچ مہینے قیامِ شب سے  محروم رہا۔ عرض کی گئی: وہ گناہ کیا تھا؟ ارشاد فرمایا: ’’ میں نے ایک شخص کو روتے ہوئے دیکھا تو اپنے دل میں کہا یہ رِیاکاری و دِکھاوا ہے۔ ‘‘      (حلیة الاولیاء،   الرقم۳۸۷ سفیان الثوری،   الحدیث: ۹۳۷۴،   ج۷،   ص۱۸مختصراً)

فصل:  15

دن اور رات کے اَذْکار و تَسْبِیحات

        اس فصل میں   رات اور دن میں   پڑھے جانے والے اذکار اور تسبیحات کے علاوہ باجماعت نمازادا کرنے کی فضیلت،   دعاؤں   کی قبولیت کے افضل اوقات اور صلوۃُ التسبیح کا بیان ہے۔ پس شب و روز بندے کا یہ معمول ہونا چاہئے کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی تسبیح کو اپنا وردِ زبان رکھے۔ احادیثِ مبارکہ میں   جو مختلف قسم کے اذکار مروی ہیں   ان کی کم از کم تعداد 900 ہے۔ چند اذکار درج ذیل ہیں  :

 (1) 100 مرتبہ یہ پڑھیں  :  (لَاۤ اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْكَ لَہٗ،   لَہُ الْمُلْكُ وَلَہُ الْحَمْدُ،   یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ وَھُوَ حَیٌّ لَّا یَمُوْتُ،   بِیَدِہِ الْخَیْرُ كُلُّہٗ وَھُوَ عَلٰی كُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ)  

تر جمعہ : اللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی معبود نہیں  ،   وہ یکتا و تنہا ہے کوئی اس کا شریک نہیں  ،   اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لئے تمام تعریفیں   ہیں  ،   وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے،   خود زندہ ہے اسے  کبھی موت نہ آئے گی،   اسی کے قبضۂ اختیار میں   ہر قسم کی خیر و بھلائی ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔

        اگر کوئی اس کلمہ کو 200 مرتبہ پڑھے تو اس دن کسی شخص کا عمل اس کے عمل سے  بڑھ کر نہ ہو گا۔ یہ فضیلت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب،   دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم



[1]     سنن النسائی، کتاب قیام اللیل وتطوع النهار، باب الترغیب فی قیام اللیل، الحدیث: ۱۶۰۸، ص۲۱۹۵

[2]     صحیح البخاری، کتاب التهجد، باب اذا نام و لم یصل     الخ، الحدیث: ۱۱۴۴، ص۸۹

[3]     البحر الزخار بمسند البزار، مسند سمرة بن جندب، الحدیث: ۴۵۸۳، ج۱۰، ص۴۳۱ بدون مسعوطاً و ذروراً



Total Pages: 332

Go To