Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

            ام المومنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  فرماتی ہیں   کہ رسولِ اَکرم،   شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  رات کو اس وقت قیام فرماتے جب مرغ کی آواز سنتے تھے۔  ([1])

            اس سے  معلوم ہوا کہ یہ وقت صرف سحر کا ہی ہو سکتا ہے اور ایک روایت میں   ہے کہ ’’رات کی نماز پڑھو! اگرچہ بکری کا دودھ دوہنے کی مقدار ہی ہو۔ ‘‘  اور اتنے وقت میں   کبھی تو چار رکعتیں   پڑھی جا سکتی ہیں   اور کبھی صرف دو۔ ([2])

            حضرت سیِّدُنا ابو سلیمان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں   کہ جو دن کے وقت کوئی نیکی کرے تو وہ اسے  رات کے وقت کافی ہے اور جو رات کے وقت کوئی نیکی کرے تو وہ اسے  دن کے وقت کفایت کرے گی۔ ([3])

شب بیداروں   کی اقسام: 

            حضرت سیِّدُنا ابو سلیمان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان  فرمایا کرتے: ’’شب بیدار تین قسم کے ہوتے ہیں  :  (۱)  بعض غور و فکر سے  قرآنِ کریم کی تلاوت کرتے ہیں   تو آنسو بہانے لگتے ہیں    (۲)  بعض تفکر کرتے ہیں   تو گریہ و زاری کرنے لگتے ہیں   کیونکہ ان کا سکون اسی گریہ و زاری میں   ہوتا ہے  (۳)  اور بعض تدبر و تفکر سے  تلاوت کرتے ہیں   تو مبہوت ہوجاتے ہیں  ،   آنسو بہاتے ہیں   نہ گریہ و زاری کرتے ہیں  ۔ ‘‘  راوی فرماتے ہیں   کہ میں  نے عرض کی: ’’فلاں   کی آہ و بکا کا سبب کیا تھا اور فلاں   کو کس شےنے مبہوت کر دیا؟ ‘‘  تو وہ بولے:  ’’میں   اس کی وضاحت پر قدرت نہیں   رکھتا۔ ‘‘ 

شب بیداری میں   رُکاوٹ: 

            ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی سے  عرض کی: اے ابو سعید! میں   قیامِ شب سے  محروم حالت میں   رات گزارتا ہوں   حالانکہ سامانِ وضو تیار رکھا ہوتا ہے لیکن پھر بھی بیدار نہیں   ہو سکتا؟ تو آپ نے فرمایا: ’’اے میرے بھائی! تیرے گناہوں  نے تجھے باندھ رکھا ہے۔ ‘‘  ([4])

            حضرت سیِّدُنا حسن رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جب بازار میں   داخل ہوتے تو بازار والوں   کا شورو غوغا اور لغو باتیں   سن کر فرماتے:  ’’میرا خیال ہے کہ ان کی رات بری ہوتی ہے کیونکہ یہ دن کو سوتے نہیں   ہیں  ۔ ‘‘   ([5])

            سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن میں   سے  کسی کا قول ہے:  ’’ برا تاجر حساب وکتاب سے  کیسے  نجات پائے گا؟ جبکہ وہ دن کے اوقات میں   لغویات میں   مشغول ہوتا ہے اور رات کے وقت سویا رہتا ہے۔ ‘‘ 

بدگمانی کا وبال: 

            حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ ایک گناہ کی وجہ سے  میں   پانچ مہینوں   تک قیامِ شب سے  محروم رہا۔ عرض کی گئی: وہ گناہ کیا تھا؟ تو آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے بتایا: ’’ میں  نے ایک شخص کو روتے ہوئے دیکھا تو اپنے دل میں   کہا یہ رِیاکاری و دِکھاوا ہے۔ ‘‘   ([6])

            ایک بزرگ فرماتے ہیں   کہ میں   حضرت سیِّدُنا کرز بن وبرۃ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت میں   حاضر ہوا تو وہ رو رہے تھے،   میں  نے عرض کی:  ’’ جناب کیا ہوا؟ کیا آپ کے کسی عزیز کے مرنے کی اطلاع آئی ہے؟ ‘‘  تو وہ بولے:  ’’اس سے  بھی بڑی سخت بات ہے۔ ‘‘  میں  نے عرض کی:  ’’ کیا آپ کو کوئی تکلیف ہے؟ ‘‘  تو وہ بولے:  ’’اس سے  بھی سخت بات ہے۔ ‘‘  میں  نے عرض کی:  ’’ آپ کو کیا ہوا ہے؟ ‘‘  بولے:  ’’میرا دروازہ بند تھا اور پردہ لٹک رہا تھا،   لہٰذا  (صبح ہو جانے کی وجہ سے )  میں   گزشتہ رات اپنا وظیفہ نہ پڑھ سکا،   جس کا سبب میرا ایک ناروا عمل ہے۔ ‘‘   ([7])

نمازِ عشا باجماعت نہ پڑھنے والے آوارہ گرد: 

            حضرت سیِّدُنا ابن صافی بدینور رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں   کہ میں   تقریباً 30 سال تک جیل کا نگران رہا،   رات کے وقت آوارہ گردی کرتے ہوئے جو بھی پکڑا جاتا اور جیل بھیجا جاتا میں   اس سے  پوچھتا کیا تونے نمازِ عشا باجماعت پڑھی تھی؟ تو جواب ملتا: نہیں  ۔

            حضرت سیِّدُنا ابو سلیمان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان فرماتے کہ نماز باجماعت فوت ہونے کا سبب کوئی نہ کوئی گناہ ہوتا ہے اور فرمایا کرتے کہ رات کے وقت احتلام ہو جانا ایک سزا ہے اور جنابت ایک دوری ہے گویا کہ وہ نماز،   تلاوت اور قربِ خداوندی سے  دور ہو گیا اور حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرمایا کرتے کہ بندے کا کسی گناہ کا ارتکاب کرنا اسے  رات کے وقت قیام کرنے اور دن کے وقت روزہ رکھنے سے  محروم کر دیتا ہے۔ ([8])

 



[1]     صحیح مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین، باب صلاة اللیل و عدد رکعات النبی صلی اللہ تعالٰی علیه وسلم     الخ، الحدیث: ۱۷۳۰، ص۷۹۴

[2]     المصنف لابنِ ابی شیبة، کتاب صلاة التطوع، باب من کان یامر بقیام اللیل، الحدیث: ۳، ج۲، ص۱۷۳

[3]     الرسالة القشیریة،ابو سلیمان عبدالرحمن بن عطیة الدارانی، ص۴۰

[4]     عوارف المعارف، الباب الثامن والاربعون فی تقسیم قیام اللیل، ص۲۲۱

[5]     الزهد للامام احمد بن حنبل، اخبار الحسن بن ابی الحسن، الحدیث: ۱۵۳۵، ص۲۸۰

[6]     حلیة الاولیاء، الرقم۳۸۷ سفیان الثوری، الحدیث: ۹۳۷۴، ج۷، ص۱۸مختصراً

[7]     حلیة الاولیاء، الرقم۲۹۳ کرز بن وبرة الحارثی، الحدیث: ۶۴۴۳، ج۵، ص۹۲

[8]     موسوعة لابن ابی الدنيا، کتاب التهجد وقیام اللیل، الحدیث:۳۶۲، ج۱، ص۳۲۱ بدون وصیام النهار



Total Pages: 332

Go To