Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

فرمان  (وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اَدْبَارَ السُّجُوْدِ (۴۰)   (پ۲۶،  ق:  ۴۰) )   ([1])  میں بھی مذکور ہے کیونکہ ایک قول کے مطابق یہاں   نماز کے فوراً بعد تسبیح پڑھنا مراد ہے۔

            اگر مزید وظائف کرنا چاہتا ہو تو وہ دو وظیفے کر لیا کرے جن میں   سے  ایک ابتدائے شب میں   یعنی مغرب و عشا کے بعد اور دوسرا عام لوگوں   کے سونے سے  پہلے کیا جاتا ہے کیونکہ یہ دونوں   وظیفے بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے نزدیک دن کا روزہ رکھنے سے  افضل ہیں  ۔ اس کے بعد فجرِ اوّل  (یعنی صبح کاذب)  اور فجرِ ثانی  (یعنی صبح صادق)  کے درمیان کا چوتھا وظیفہ کر لیا کرے جو رات کا آخری تہائی حصہ بھی ہے یا صبح صادق کے طلوع ہونے سے  کچھ دیر قبل پانچواں   وظیفہ کیا کرے یعنی استغفار پڑھے اور قرآنِ کریم کی تلاوت کرے بشرطیکہ وہ ابھی تک رات کے وسط میں   قیام کا عادی نہ ہوا ہو۔

            حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیِّدُنا معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے متعلق مروی ہے کہ ایک بار دونوں   کی ملاقات ہوئی تو حضرت سیِّدُنا معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  پوچھا کہ آپ شب میں   قیام کیسے  کرتے ہیں  ؟ تو انہوں  نے بتایا: ’’ میں   ساری رات قیام کرتا ہوں   اور بالکل نہیں   سوتا اور قرآنِ کریم ٹھہر ٹھہر کر پڑھتا ہوں  ۔ ‘‘  تو حضرت سیِّدُنا معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے بتایا: ’’لیکن میں   سوتا ہوں  ،   پھر قیام کرتا ہوں   اور حالتِ نیند میں   بھی اسی اجر و ثواب کی امید رکھتا ہوں   جو حالتِ قیام میں   رکھتا ہوں  ۔ ‘‘  پس دونوں  نے اس بات کا تذکرہ سراپا رَحمت،   شافِعِ اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  کیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  ارشاد فرمایا:  ’’ معاذ تم سے  زیادہ سوجھ بوجھ رکھتا ہے۔ ‘‘   ([2])

            بعض بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن نیند غالب آنے تک نہ سوتے۔ ایک بزرگ کا قول ہے کہ یہ سونا پہلی مرتبہ ہے اگر میں   بیدار ہو گیا تو پھر دوسری بار جب نیند آئے گی تو اس کے بعد اللہ عَزَّ وَجَلَّمجھے کبھی نہ سلائے گا۔ ([3])

ابدالوں   کے اوصاف: 

            حضرت سیِّدُنا فزارہ شامی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس ابدال اکثر تشریف لایا کرتے تھے۔ جب ان سے  ابدالوں   کے اوصاف پوچھے گئے تو انہوں  نے بتایا: 

                        ٭…ان کا کھانا فاقہ  (یعنی بھوک)  کے وقت ہوتا ہے۔

                         ٭…  ان کی نیند غلبہ  (کے وقت)  ہوتی ہے۔

                        ٭…  ان کا کلام بوقتِ ضرورت ہوتا ہے۔

                        ٭…  ان کی خاموشی باعثِ حکمت ہے

                        ٭…  ان کے علم کا سبب قدرت ہے۔ ([4])

            ایک اور بزرگ سے  اللہ عَزَّ وَجَلَّسے  ڈرنے والوں   کی علامت پوچھی گئی تو انہوں  نے ارشاد فرمایا کہ ان کا کھانا مریضوں   کے کھانے کی طرح اور ان کا سونا ایسے  ہے جیسے  کوئی پانی میں   ڈوب رہا ہو۔  ([5])

            بندے کو چاہئے کہ رات کے پانچویں   یا چھٹے حصہ کی مقدار ہمیشہ قیام کیا کرے خواہ اس کا یہ قیام لگاتار ہو یا رات کے مختلف حصوں   میں  ۔ الغرض بندہ رات کے وقت کوئی بھی وظیفہ کرے خواہ وہ ذکر کی کوئی بھی صورت ہو تو وہ شب بیدار افراد میں   شامل ہو جاتا ہے اور اس کا بھی ان کے ساتھ حصہ ہوتا ہے۔

کامل شب بیداری کا ثواب: 

            جو بندہ رات کا اکثر حصہ یا نصف حصہ بیدار رہ کر عبادت کرے تو اس کے لئے پوری رات کی بیداری کا ثواب لکھا جاتا ہے اور اس سے  زائد باقی وقت اس کے لئے بطورِ صدقہ ہوتا ہے۔

            جو رات کے وقت 20 رکعت ادا کرے،   پھر تین وتر پڑھے تو امید ہے گویا اسنے اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فضل و کرم اور اس کی رحمت سے  ساری رات شب بیداری کی۔ چنانچہ،   

            مروی ہے کہ تاجدارِ رِسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کبھی تو نصف رات تک قیام فرمایا کرتے اور کبھی رات کا ایک تہائی اور کبھی دو تہائی قیام فرماتے۔

          اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:

اِنَّ رَبَّكَ یَعْلَمُ اَنَّكَ تَقُوْمُ اَدْنٰى مِنْ ثُلُثَیِ الَّیْلِ وَ نِصْفَهٗ وَ ثُلُثَهٗ (پ۲۹،  المزمل:  ۲۰)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: بے شک  تمہارا رب جانتا ہے کہ تم قیام کرتے ہو کبھی دو تہائی رات کے قریب کبھی آدھی رات کبھی تہائی۔

            اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں   مروی ہے کہ نبیوں   کے تاجور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر نمازِ تہجد فرض تھی۔  ([6])

 



[1]     ترجمۂ کنز الایمان: اور کچھ رات گئے اسکی تسبیح کرو اور نمازوں کے بعد۔

[2]     صحیح البخاری، کتاب المغازی، باب بعث ابی موسٰی و معاذالی الیمن     الخ، الحدیث: ۴۳۴۱، ص۳۵۵ المصنف لعبدالرزاق، کتاب فضائل القران، باب اذا سمعت السجدة، الحدیث: ۵۹۷۸، ج۳، ص۲۱۶ مفهوماً

[3]     مسند ابن الجعد، الحدیث:۱۳۹۶، ص۲۱۱

[4]     شعب الایمان للبیهقی، باب فی المطاعم و المشارب، فصل فی ذم کثرة الاکل، الحدیث:۵۷۲۹، ج۵، ص۴۷ بتغیر

[5]     شعب الایمان للبیهقی، باب فی المطاعم و المشارب، فصل فی ذم کثرة الاکل، الحدیث:۵۶۹۰، ج۵، ص۳۹

[6]     تفسیر روح البیان،پ۲۹، الدھر،تحت الایۃ۲۶،ج۱۰،ص۲۷۸



Total Pages: 332

Go To