Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

            ہم دیکھتے ہیں   کہ جو شخص رات کے وقت کئی مرتبہ سوتا اور پھر قیام کرتا ہے تو اس کا مقام و مرتبہ بڑھ جاتا ہے۔ نیند اور قیام کا یکساں   اور مناسب ومعتدل ہونا صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے کسی نبی کے لئے ہی ممکن ہے کہ جن کا دل ہمیشہ بیدار رہتا ہے اور ان پر اللہ عَزَّ وَجَلَّکی جانب سے  وحی نازل ہوتی رہتی ہے۔

راہِ سلوک کا زادِ راہ: 

            اس راستے پر چلنا یعنی شب میں   قیام کرنا زادِ راہ کے بغیر ممکن نہیں   کیونکہ ہر سفر زادِ راہ کے ساتھ طے ہوتا ہے ۔ پس راہِ سلوک کا بھی ایک زادِ راہ ہے،   جو اس راہ پر چلنا چاہے اسے  چاہئے کہ کچھ ذخیرہ بطورِ زادِ راہ جمع کر کے ساتھ لے لے۔ اس راستے کا زادِ راہ یہ اشیاء ہیں  :

٭   ایسا غم جو ہمیشہ دل میں   رہے اور ایسا حزن و ملال جس کا بسیرا ہی دل میں   ہو۔

٭  ایسی دائمی بیداری جس سے  دل زندہ رہے۔

٭  ملکوت میں    (یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی سلطنت میں  )  کھو جائے۔  

٭  کھانے سے  معدہ خالی ہو۔  ٭  پانی کم پئے۔                     

٭  دن کے وقت قیلولہ کرے اور ٭  امورِ دنیا میں   مشغول ہو کر اعضاء و جوارح کو حد سے  زیادہ نہ تھکائے۔

            یہ ایک ریاضت و عبادت ہے جو راہِ سلوک پر چلنے والے کو کرنی چاہئے یہاں   تک کہ وہ قیامِ شب سے  مانوس ہو جائے اور یہی اس کا اوڑھنا بچھونا بن جائے،   پس جب اس کے دل میں   خوف و رجا ٹھکانا بنا لیتے ہیں   تو اس کا پہلو ہمیشہ بستر سے  جدا رہتا ہے۔ چنانچہ ایک روایت میں   فرمانِ باری تعالیٰ ہے کہ’’بیشک میرا حقیقی بندہ وہی ہے جو قیام کرنے کے لئے مرغ کی اذان کا انتظار نہیں   کرتا۔ ‘‘  اس روایت میں   وقتِ سحر سے  قبل قیام پر ابھارنا پایا جاتا ہے۔

            رات کے آخری حصے میں   سونے کے مستحب ہونے کی دو وجہیں   ہیں  :

 (1) …  صبح کے وقت کی اونگھ ختم کر دیتا ہے کہ بزرگانِ دین صبح کے اونگھنے کو بہت زیادہ ناپسند فرمایا کرتے بلکہ اونگھنے والے کو نمازِ فجر کے بعد سونے کا حکم دیتے  (2) …  چہرے کی زردی تھوڑی کم ہو جائے،   کیونکہ اگر بندہ رات کا اکثر حصہ حالتِ قیام میں   گزارے اور سحر کے وقت سو جائے تو صبح کے وقت آنے والی اونگھ سے  بھی نجات مل جائے گی اور چہرے کی زردی بھی کم ہو جائے گی،   اگر وہ رات کا اکثر حصہ سویا رہے پھر سحری کے وقت بیدار ہو تو صبح کے وقت نہ صرف وہ اونگھتا رہے گا بلکہ چہرے کی زردی بھی واضح ہو گی۔ لہٰذا بندے کو اس سے  بچنا چاہئے کیونکہ یہ شہرت اور مخفی شہوت کا دروازہ ہے۔ اس کے علاوہ رات کے وقت بہت کم پانی پیا کرے کہ اس سے  بھی چہرے پر زردی چھا جاتی ہے بالخصوص رات کے آخری حصے میں   اور نیند سے  بیدار ہونے کے بعد۔

سرکارِ مدینہ  صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَسَلَّم  کا قیامِ شب میں   معمول:

            ام المومنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں  کہ شہنشاہِ خوش خِصال،   رسولِ بے مثال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب رات کے آخری حصے میں   وتر ادا فرماتے،   اب اگر ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ سے  حاجت ہوتی تو ان کے قریب جاتے ورنہ مصلّے پر ہی لیٹ جاتے یہاں   تک کہ حضرت بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ حاضر ہو کر نماز کی اطلاع کرتے۔  ([1])

            ایک روایت میں   آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں   کہ میں  نے حضور نبیٔ کریم،   رَء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو سحر کے وقت اکثر آرام کرتے ہوئے پایا۔ ([2])  ایک روایت میں   ہے کہ جب محبوبِ رحمٰن،   سرورِ کون و مکان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رات کے آخری حصے میں   وتر ادا فرما لیتے تو دائیں   پہلو پر لیٹ جاتے یہاں   تک کہ حضرت بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ حاضر ہوتے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان کے ساتھ نماز کے لئے تشریف لے جاتے۔  ([3])

            سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن وتر کی ادائیگی کے بعد اور نمازِ فجر سے  پہلے اتنی مقدار میں   آرام کرنے کو مستحب سمجھتے اور بعض مثلاً حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اور مرواننے اسے  سنت قرار دیا ہے۔

فجر اور عصر کے بعد نفل نہ پڑھنے کی ایک حکمت: 

            رات کے آخری حصے میں   اور آخری تہائی میں   سونا صاحبِ مشاہدہ اور حضوری والے افراد کے لئے  (مشاہدہ و حضوری میں  )  زیادتی کا باعث بنتا ہے کیونکہ ان اوقات میں   ان سے  ملکوتی حجابات اٹھا دیئے جاتے ہیں   اور انہیں   جبروتی علوم  (یعنی علومِ الہٰیہ)  حاصل ہوتے ہیں  ۔ نیز یہ وقت مجاہدۂ نفس کرنے والوں   اور رات بھر عبادت کرنے والوں   کے لئے راحت و سکون کا باعث ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نمازِ فجر اور نمازِ عصر کے بعد نَفْل نماز پڑھنا ممنوع ہے تا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کی خاطر عمل کرنے والوں   اور دن اور رات میں   مختلف اوراد و وظائف کرنے والوں   کو ان اوقات میں   وقفہ مل جائے۔ رات کے آخری حصے میں   سونا غافلین کے لئے نقصان دہ ہے اس اعتبار سے  کہ یہ وقت شب بیدار اور اہلِ مشاہدہ کے لئے درجات کی زیادتی کا باعث ہوتا ہے کیونکہ یہ وقت ان کی اختتامی عبادت کا ہوتا ہے اور وہ اس میں   راحت و سکون پاتے ہیں   جبکہ طویل وقت سوئے رہنا غافلین کا نقصان دہ طرزِ عمل ہے۔

            ہر دونفل کے بعد بیٹھ کر ایک سو مرتبہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تسبیح پڑھنا چاہئے کہ یہ اس کے لئے نہ صرف آرام کا سبب ہو گا بلکہ مزید نماز پر معاون بھی ہو گا۔ یہ طریقہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے



[1]     السنن الکبریٰ للنسائی، کتاب الوتر، باب وقت الوتر، الحدیث:۱۳۸۹، ج۱، ص۴۳۷

[2]     حلیة الاولیاء، الرقم۳۸۹ مسعر بن کدام، الحدیث: ۱۰۵۲۶، ج۷، ص۲۸۰

[3]     صحیح ابن خزیمة،کتاب الصلاة،باب ذکرخبرروی فی وترالنبی صلی اللہ علیه وسلم     الخ،الحدیث: ۱۰۹۳،ج۲،ص۱۴۹



Total Pages: 332

Go To