Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

            حضرت سیِّدُنا وہب بن منبہ یمانی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بارے میں   منقول ہے کہ انہوں  نے 30 سال تک زمین پر اپنا پہلو نہیں   رکھا،   ان کے پاس چمڑے کا تکیہ تھا جب نیند غالب آتی تو اس پر اپنا سینہ رکھ دیتے،   پھر چند سانس لیتے اور گھبرا کر کھڑے ہو جاتے اور کہا کرتے کہ میرے نزدیک اپنے گھر میں   شیطان کو دیکھنے سے  زیادہ اچھا یہ ہے کہ میں   اپنے گھر میں   تکیہ دیکھوں   کیونکہ تکیہ نیند کو دعوت دیتا ہے۔

            حضرت سیِّدُنا رَقَبَہ بِنْ مَصْقَلَہ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں   کہ مَیں  نے نیند میں   اللہ ربّ العزت  (کی تجلیات)  کو دیکھا تو یہ ارشاد فرماتے سنا: ’’میری عزت و جلال کی قسم! میں   سلیمان تیمی کی آرامگاہ کو عزت بخشوں   گا،   اسنے 40 سال تک عشا کے وضو سے  فجر کی نماز پڑھی ہے۔ ‘‘  ([1])

            منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا سلیمان تیمی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا مذہب ہی یہ تھا کہ نیند جب دل پر چھا جائے تو وضو واجب ہو جاتا ہے۔

عشا کے وضو سے  نمازِ فجر پڑھنے والے بزرگانِ دین: 

            وہ بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن جن کے متعلق مشہور ہے کہ وہ رات بھر عبادت میں   مصروف رہتے اور 30 یا 40 سال تک عشا کے وضو سے  نمازِ فجر ادا کرتے رہے،   کہا جاتا ہے کہ ان کی تعداد صرف تابعین عظام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام میں   سے  تقریباً 40 ہے۔ جن میں   سے  چند ایک کے اسمائے گرامی یہ ہیں  :

٭  مدینہ منورہ سے  حضرت سیِّدُنا سعید بن مسیب اور حضرت سیِّدُنا صفوان بن سلیم۔

٭  مکہ مکرمہ سے  حضرت سیِّدُنا فضیل بن عیاض اور حضرت سیِّدُنا وُہَیب بن وَرد۔

٭  یمن سے  حضرت سیِّدُنا طاؤس اور حضرت سیِّدُنا وَہْب بن مُنَبِّہ ۔

٭  کوفہ سے  حضرت سیِّدُنا ربیع بن خیثم اور حضرت سیِّدُنا حَکَمْ بِن عُیَیْنَہ۔

٭  شام سے  حضرت سیِّدُنا ابو سلیمان دارانی اور حضرت سیِّدُنا علی بن بَكَّار ۔

٭  عباد سے  حضرت سیِّدُنا  ابوعبداللہ خواص اور حضرت سیِّدُنا ابو عاصم۔

٭  ایران سے  حضرت سیِّدُنا حبیب ابو محمد اور حضرت سیِّدُنا ابو جابر سلمانی۔

٭  بصرہ سے  حضرت سیِّدُنا مالک بن دینار ،   حضرت سیِّدُنا سلیمان تیمی،   حضرت سیِّدُنا یزید رَقاشی،   حضرت سیِّدُنا حبیب بن ابی ثابت اور حضرت سیِّدُنا یحییٰ بُکاء رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن ۔

            حضرت سیِّدُنا کَھْمَس بِن مِنْھَال رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے متعلق مروی ہے کہ وہ ایک مہینہ میں   90 قرآنِ کریم ختم کیا کرتے تھے اور جس آیتِ مبارکہ کی سمجھ نہ آتی اسے  دوبارہ پڑھا کرتے۔ ([2])

            اہلِ مدینہ میں   سے  ایک کثیر تعداد ایسے  ہی افراد کی تھی جن میں   سے  سب سے  زیادہ شہرت انہی کی ہے اور حضرت سیِّدُنا ابو حازم عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْحَاکِم اور حضرت سیِّدُنا محمد بن مُنْکَدِر عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْمُقْتَدِر  بھی انہی افراد میں   سے  ہیں  ۔

رات کے اوقات کی تقسیم: 

            رات کی پہلی تہائی میں   مرید چاہے تو سو جائے اور نصف رات کے وقت نماز پڑھے اور اس کے بعد دوبارہ آخری چھٹے حصے میں   سو جائے اور اگر چاہے تو نصف رات تک سویا رہے اور پھر ایک تہائی کی مقدار قیام کرے،   پھر آخری چھٹے حصے میں   سو جائے۔ چنانچہ ایک روایت میں   ہے کہ یہی افضل قیام ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نبی حضرت سیِّدُنا داود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بھی اسی طرح قیام فرماتے تھے۔ اس لئے کہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام کے قیام کے متعلق دو روایتیں   مروی ہیں   اور اگر چاہے تو دونوں   صورتوں   میں   قیام پہلے کر لے مگر نمازِ وتر وقت سحر تک مؤخر کر دے۔ اب اگر نصف رات میں   قیام کیا تو رات کی ابتدا اور آخر میں   سوئے،   اگر تہائی رات قیام کیا تو آخری چھٹے حصے میں   سوئے اور اگر چاہے تو ابتدائے شب میں   نیند غالب آنے تک قیام کرے پھرسو جائے اور جب بیدار ہو تو دوبارہ قیام کرے یہاں   تک کہ نیند غالب آ جائے،   پھر سو جائے،   ا س کے بعد رات کے آخری حصے میں   بیدار ہو تو اس طرح ایک رات میں   اس کی دو نیندیں   اور دو قیام ہو جائیں   گے،   یہ رات کے وقت ایک مشقت طلب کام ہے اور یہی طریقہ حضوری والے،   شب بیدار اور ذاکرین کا ہے ۔ نیز مکی مدنی سلطان ،  رحمتِ عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا بھی یہی معمول تھا۔ ([3])

            حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ اگر تم سرکارِ مدینہ،   قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِوَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو  (رات کے وقت)  حالت ِ نیند میں   دیکھنا چاہتے تو دیکھ لیتے اور اگر حالت ِ قیام میں   دیکھنے کی خواہش ہوتی تب بھی دیکھ لیتے۔  ([4])

            حضرت سیِّدُنا ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اور اولو العزم صحابۂ  کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا یہی طرزِ عمل تھا اور بعد میں   تابعین عظام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام میں   سے  بھی ایک جماعت کا یہی طریقۂ  کار رہا۔

 



[1]     جامع الاصول فی احادیث الرسول للجزری، حرف السین، القسم الاول فی الرجال، الفرع الثانی فی التابعین ، الرقم۱۱۱۷سلیمان التیمی، ج۱۳، ص۱۵۰

[2]     تفسیر روح البیان، پ۲۹، المزمل، تحت الایة۴، ج۱۰، ص۲۰۶

[3]     صحیح البخاری، کتاب احادیث الانبیاء، باب احب الصلاة الی اللہ     الخ، الحدیث: ۳۴۲۰، ص۲۷۹ مفهوماً

[4]     صحیح البخاری،کتاب التهجد،باب قیام النبی صلی اللہ تعالٰی علیه وسلم باللیل     الخ، الحدیث: ۱۱۴۱، ص۸۹ مفهوماً



Total Pages: 332

Go To