Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

تشنگانِ علو م دینیہ اپنی علمی پیاس بجھانے دور دراز سے  ان کی خدمت میں   حاضر ہو رہے تھے۔ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ

الرِّضْوَان سے  اکتسابِ فیض کرنے والوں   کو تابعین عظام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے نام سے  یاد کیا جاتا ہے۔ حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے 57ھ میں   اس جہانِ فانی سے  کوچ کے بعد گنتی کے چند صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان بقید حیات رہ گئے جنہوں  نے یہ سلسلہ مزید جاری رکھا۔

اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب،   دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جن صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے سب سے  آخر میں   دارِ بقا کی جانب کوچ فرمایا ان میں   سے  چند کے اسمائے گرامی یہ ہیں  :

٭ حضرت سیِّدُنا بریدہ اسلمی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  (متوفی ۶۲ھ)  کا خراسان میں   وصال ہوا۔   ([1])

٭ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ  بن ابی اوفی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  (متوفی ۸۶ھ)  کا کوفہ میں  وصال ہوا۔ ([2])

٭ حضرت سیِّدُنا سہل بن سعد ساعدی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  (متوفی ۹۱ھ)  کا سو سال کی عمر میں   مدینہ منورہ میں  ۔  ([3])

٭ حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  (متوفی ۹۳ھ)  کا بصرہ میں  ۔  ([4])

٭ اور حضرت سیِّدُنا ابو طفیل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  (متوفی ۱۰۰ھ)  کا وصال مکہ مکرمہ میں   سب سے  آخر میں   ہوا۔  ([5])

پس جب ایک صدی ہجری پوری ہوئی تو سطحِ زمین پر کوئی ایسی آنکھ باقی نہ رہی جس نے حُسنِ اَخلاق کے پیکر،   محبوبِ رَبِّ اَکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی زیارت کی ہو۔

امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی 40 ھ میں   شہادت کے بعد جب امت کے افکار میں   آہستہ آہستہ افتراق و انتشار کی کیفیات وسیع ہونے لگیں   اور حضرت سیِّدُنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بعد  آنے والے حکمران صحیح معنوں   میں   اسلامی حکومت کی مثال قائم نہ رکھ سکے تو اس وقت موجود صحابۂ  کرام،   تابعین و تبع تابعین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن حکمرانوں   کی طرف سے  نہ صرف مایوس ہونے لگے بلکہ متعدد ان سے  بدظن بھی ہو گئے۔ یہ سب چونکہ دنیاوی نعمتوں   پر اخروی نعمتوں   کو ترجیح دیا کرتے تھے اور عیش و عشرت سے  بھرپور زندگی کو اچھا سمجھنے کے بجائے شہنشاہِ مدینہ،   قرارِ قلب و سینہ ،   فیض گنجینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی سادہ زندگی کے اتباع کی پیروی پر زور دیتے تھے،   لہٰذا انہوں  نے سیاست سے  منہ موڑ کر خالص علمی و عملی حیثیت سے  دین اسلام کی ترویج کے لیے اپنی زندگیاں   وقف کر دیں   اور لوگوں   کو سچا مسلمان بنانے کے لیے ان کی ظاہری و معنوی حیثیت سے  مدنی تربیت فرمانا شروع کر دی۔ علمِ یقین،   فسادِ اعمال ،   قلبی خواطر  (خیالات)  اور نفسانی وسوسے  اور ان کا علاج تصوف کے اہم موضوعات اسی دور کی یادگاریں   ہیں  ۔

تابعین عظام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے اس دور میں   صحابۂ  کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے  سب سے  زیادہ اکتسابِ فیض کرنے اور علم تصوف میں   امام کی حیثیت رکھنے والے حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی  (متوفی 110 ھ)  ہیں   جن کے بارے میں   اِمَامِ اَجَلّ حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے 70 بدری صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے علاوہ کل 300 صحابۂ  کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی زیارت کی۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی پیدائش امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  (متوفی ۲۳ھ)  کی خلافت میں   20 ہجری پورے ہونے سے  دو دن پہلے ہوئی۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی والدہ ماجدہ ام المومنین حضرت سیِّدَتنا اُم سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  (متوفی ۶۳ھ)  کی آزاد کردہ لونڈی تھیں۔

منقول ہے کہ ایک مرتبہ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ شدید رو رہے تھے تو ام المومنین حضرت سیِّدَتنا ام سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے شفقت فرماتے ہوئے آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو اپنی چھاتی سے  لگا لیا اور آپ نے ان کی چھاتی مبارک سے  دودھ پیا۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی باتیں   سرکارِ مکۂ مکرمہ،   سردارِ مدینۂ منورہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی باتوں   کے مشابہ تھیں ۔ ([6]) آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے بنو امیہ کے پہلے نو خلفاء کا عہد حکومت اور اس کے عبرت انگیز حالات اپنی آنکھوں   سے  دیکھے۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے علاوہ اس دور کے مشہور بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن میں   سے  چند ایک یہ ہیں  : حضرت سیِّدُنا یوسف بن اسباط  (متوفی ۹۶ھ) ،   حضرت سیِّدُنا ثابت بنانی (متوفی ۱۲۷ھ)  ،   حضرت سیِّدُنا مالک بن دینار  (متوفی ۱۳۰ھ)   اور حضرت سیِّدُنا ایوب سجستانی (متوفی ۱۳۱ھ) رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی۔

دوسرا دور: 

یہ دور  (132 ھ تا 232ھ)  پر مشتمل ہے۔ عباسی خلافت کا یہ دور سیاسی اور علمی اعتبار سے  انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے،   اسی دور میں   اہل سنت و جماعت کے چاروں   فقہی مذاہب کے اصول و قوانین وضع ہوئے یعنی فقہ حنفی،   مالکی،   شافعی اور حنبلی اسی دور کی یادگاریں   ہیں  ۔ احادیث ِ مبارکہ کی باقاعدہ تدوین پر بھی توجہ اسی دور میں   شروع ہوئی،   بے شمار علوم و فنوننے اس دور میں   خوب ترقی کی،   علم کیمیا،   علم فلکیات،   فلسفہ،   جغرافیہ اور ریاضی کی یادگار کتب اس دور میں   تصنیف ہوئیں  ۔ مال و دولت کی فراوانی کا عالم یہ تھا کہ عباسی سلطنت کے فرمانرواؤں   



[1]     المعجم الکبیر، الحدیث: ۱۱۵۰، ج ۲، ص ۱۹

[2]     تاریخ مدینہ دمشق، ج ۳۱، ص۴۸

[3]         المستدرک، كتاب معرفة الصحابہ، ذكر سهل بن سعد الساعدي رضي الله عنه، الحدیث: ۶۴۴۴، ج ۳، ص۶۶۲

[4]     المعجم الکبیر، الحدیث: ۷۱۷، ج۱ ، ص ۲۵۰

[5]     صحيح مسلم، کتاب الفضائل، باب كان النبى صلى الله عليه وسلم ابيض مليح الوجه، الحدیث: ۲۳۴۰، ص ۱۲۷۵

[6]    قوت القلوب، الفصل الحادی والعشرون، ج ۱، ص ۲۵۷



Total Pages: 332

Go To