Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

عرش  (اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ہیبت سے )  کانپنے لگتا ہے جس سے  حاملینِ عرش پر بوجھ زیادہ ہو جاتا ہے یہاں   تک کہ ان میں   اضطراب پیدا ہو جاتا ہے اور وہ ایک دوسرے کو دھکیلنے لگتے ہیں   حالانکہ ان کی تعداد اللہ عَزَّ وَجَلَّکی تمام مخلوق کی تعداد کے برابر بلکہ اس سے  بھی کئی گنا ہے،   پس عرش عرض کرتا ہے: ’’پاک ہے تو،   جہاں   بھی ہے اور جہاں   بھی ہو۔ ‘‘  تو عرش اٹھانے والے فرشتے پکارتے ہیں  :  (سُبْحَانَ مَنْ لَّا یَعْلَمُ اَیْنَ ھُوَ اِلَّا ھُوْ،   سُبْحَانَ مَنْ لَّا یَعْلَمُ مَا ھُوَ اِلَّا ھُوْ)  تر جمعہ : یعنی پاک ہے وہ ذات جس کے سوا کوئی نہیں   جانتا کہ وہ کہاں   ہے اور پاک ہے وہ ہستی جس کے سوا کوئی نہیں   جانتا کہ وہ کیا ہے۔

مُحِبِّین کی علامات: 

            علمائے متقدمین سے  مروی ہے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے اپنے ایک صدیق کو یہ بات الہام فرمائی: ’’بیشک میرے کچھ بندے ایسے  ہیں   جو مجھ سے  محبت رکھتے ہیں   اور میں   ان سے  محبت رکھتا ہوں  ،   وہ میرے مشتاق ہیں  ،   میں   ان کا مشتاقہوں  ،   وہ میرا ذکر کرتے ہیں  ،   میں   ان کا چرچا کرتا ہوں  ،   وہ میری رحمت کی جانب دیکھتے ہیں  ،   میں   ان پر نظرِ رحمت فرماتا ہوں  ،   اگر تو بھی ان کے طریقے پر چلے گا تو میں   تجھے بھی اپنا محبوب بنا لوں   گا اور اگر تو ان کے طریقے سے  ہٹ جائے گا تو میں   تجھ سے  ناراض ہو جاؤں   گا۔ ‘‘  تو اس صدیقنے عرض کی: ’’اے میرے ربّ! ان بندوں   کی علامات کیا ہیں  ؟ ‘‘  تو اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشا دفرمایا:  ’’ وہ دن کے وقت بھی اندھیرے کا اس طرح خیال رکھتے ہیں   جس طرح ایک مہربان چرواہا اپنی بھیڑ بکریوں   کا خیال رکھتا ہے اور غروب آفتاب کے اس طرح دلدادہ ہوتے ہیں   جس طرح پرندے غروب کے وقت اپنے گھونسلوں   کی جانب جانا پسند کرتے ہیں  ،   جب رات آتی اور اندھیرا چھا جاتا ہے،   بستر بچھ جاتے ہیں  ،   قیدی قید کر دیئے جاتے ہیں   اور ایک دوسرے کو چاہنے والے خلوت اختیار کر لیتے ہیں   تو وہ اپنے قدموں   پر کھڑے ہو جاتے ہیں  ،   اپنے چہروں   کو میری بارگاہ میں   بچھا دیتے ہیں  ،   مجھ سے  فریاد کرنے لگتے ہیں   اور میرے انعامات و اکرامات کی خاطر میری بارگاہ سے  لَو لگا لیتے ہیں  ،   اس وقت ان کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ وہ کبھی زور زور سے  چلا کر روتے ہیں   او ر کبھی آہستہ آواز سے ،   کبھی تو آہیں   بھرتے ہیں   اور کبھی  (محبت بھری)  التجائیں   کرتے ہیں  ،   کبھی حالتِ قیام میں   ہوتے ہیں   تو کبھی حالتِ قعدہ میں   اور کبھی رکوع میں   تو کبھی سجدے میں  ،   میری خاطر جو مصائب برداشت کرتے ہیں   وہ سب میرے سامنے ہوتے ہیں   اور میری محبت میں   مبتلا ہونے کی جوالتجائیں   کرتے ہیں   میں   وہ بھی سنتا ہوں  ۔ پس میں   سب سے  پہلے انہیں   اس انعام سے  نوازتا ہوں   کہ ان کے دلوں   میں   اپنا خاص نور ڈالتا ہوں   جس سے  وہ میری خبریں   دینے لگتے ہیں   جس طرح میں   ان کی باتیں   بتاتا ہوں  ۔ دوسرا انعام یہ کرتا ہوں   کہ ساتوں   آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں   ہے سب کے وزن کو ان کے مقابلے میں   کم سمجھتا ہوں   اور تیسرا انعام یہ ہے کہ میں   انکی طرف خاص توجہ کرتا ہوں   اور تیرا کیا خیال ہے کہ میں   جس کی جانب یوں   متوجہ ہوں   اسے  کیا کچھ عطا کروں   گا۔  ‘‘  

قرآنِ کریم کی تلاوت اور شب بیداری: 

            حضرت سیِّدُنا مالک بن دینار عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں   کہ بندہ جب رات کے وقت نمازِ تہجد ادا کرتے ہوئے ترتیل سے  قرآنِ کریم پڑھتا ہے جس طرح کہ حکم دیا گیا ہے تو اسے  اللہ عَزَّ وَجَلَّکا قرب حاصل ہوتا ہے۔ مزید فرماتے ہیں   کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ان کے دل کے قریب ہونے کی وجہ سے   (ایسا کرنے والے)  محسوس کرتے ہیں   کہ ان کےدلوں   میں   رقت،   حلاوت اور انوار و تجلیات موجزن ہیں  ۔

            حدیثِ قدسی میں   ہے:  ’’ اے میرے بندے! میں    اللہ ہوں  ،   تیرے دل کے قریب ہوں   اور غیب سے  تو میرے نور کو دیکھتا ہے۔ ‘‘   ([1])

            محبوب ربِّ داور،   شفیعِ روزِ مَحشر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا فرمانِ خوشبو دار ہے: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّنے کسی شے کا حکم  (اس طرح)  نہیں   دیا جس طرح قرآنِ پاک کو اچھی آواز سے  پڑھنے کا دیا ہے۔ ‘‘   ([2])

            یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کوئی کلام اس قدر توجہ سے  سماعت نہیں   فرماتا جس طرح کہ قرآنِ کریم سماعت فرماتا ہے۔ چنانچہ،   

            مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’گیت گانے والی لونڈی کے گانے کی طرف کوئی اس قدر متوجہ نہیں   ہوتا جس قدر اللہ عَزَّ وَجَلَّ اچھی و بلند آواز سے  قرآن پڑھنے والے کی طرف ہوتا ہے۔ ‘‘([3])

            لہو و لعب میں   مبتلا لوگ ان اعمال سے  غافل ہیں   جن میں   اہلِ آخرت مشغول ہیں   بلکہ ان مقامات کو دیکھنے سے  بھی قاصر ہیں   جہاں   اہلِ آخرت موجود ہیں  ۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:  وَ كَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْهَا وَ هُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ (۱۰۵)  (پ۱۳،   یوسف:  ۱۰۵)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور کتنی نشانیاں   ہیں   آسمانوں   اور زمین میں   کہ لوگ ان پر گزرتے ہیں   اور ان سے  بے خبر رہتے ہیں ۔

            اور ایک جگہ ارشاد فرمایا:

بَلْ قُلُوْبُهُمْ فِیْ غَمْرَةٍ مِّنْ هٰذَا (پ۱۸،  المؤمنون:  ۶۳)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  بلکہ انکے دل اس سے  غفلت میں   ہیں  ۔

            اللہ عَزَّ وَجَلَّنے لہو و لعب میں   مبتلا افراد کے دلوں   پر مہر لگا دی ہے جس کے سبب وہ کچھ نہیں   سنتے۔

رات بھر جاگنے والے بزرگانِ دین: 

 



[1]     حلیة الاولیاء، الرقم۲۰۰مالک بن دینار، الحدیث:۲۷۵۱، ج۲، ص۴۰۸

[2]     صحیح البخاری، کتاب التوحید، باب قول النبی صلی اللہ تعالٰی علیه وسلم     الخ، الحدیث: ۷۵۴۴، ص۶۳۰

[3]     سنن ابن ماجه، کتاب اقامة الصلوات، باب فی حسن الصوت، الحدیث: ۱۳۴۰، ص۲۵۵۶



Total Pages: 332

Go To