Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

کہ میں   اس کا لبادہ پہنوں   وہ چل دیتی ہے۔ ‘‘

٭  ایک مریدنے اپنے شیخ سے  رات کے وقت دیر تک جاگتے رہنے کی شکایت کی کہ شب بیدارینے اسے  مار ڈالا ہے اور پھر عرض کی کہ مجھے کوئی ایسی چیز بتائیں   جس سے  مجھے نیند آ جایا کرے تو اس کے شیخنے فرمایا:  ’’اے میرے بیٹے! دن اور رات میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّکی عطا وبخشش کے ایسے  تحائف ہیں   جو صرف بیدار دلوں   کو نصیب ہوتے ہیں   اور سوئے ہوئے دل ان سے  محروم رہتے ہیں  ،   پس ان تحائف کا سامنا کیا کرو کہ انہی میں   خیرو بھلائی ہے۔ ‘‘  یہ سن کر وہ مرید بولا:  ’’اے شیخ! آپ نے تو میرا یہ حال کر دیا ہے کہ اب رات کو سو سکوں   گا نہ دن کو۔ ‘‘ 

٭  چند لوگ بیٹھے رات کے چھوٹا ہونے کا ذکر کر رہے تھے کہ ان میں   سے  ایک نے کہا:  ’’میری حالت یہ ہے کہ رات میرے پاس حالتِ قیام میں   آتی ہے لیکن میرے بیٹھنے  (یعنی قعدہ کرنے)  سے  پہلے ہی چلی جاتی ہے۔ ‘‘ 

٭  حضرت سیِّدُنا علی بن بکار عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْغَفَّار کا قول ہے کہ 40سال تک سوائے طلوعِ فجر کے کسی شےنے مجھے غم میں   مبتلا نہ کیا۔ ([1])

٭  حضرت سیِّدُنا فضیل رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے کہ سورج غروب ہونے پر اندھیرا چھا جانے سے  خوش ہوتا ہوں   کہ اپنے ربّ کے ساتھ خلوت میں   رہوں   گا مگر جب فجر طلوع ہوتی ہے تو افسوس ہوتا ہے کہ اب لوگ میرے پاس آئیں   گے۔ ([2]) ٭  حضرت سیِّدُنا ابو سلیمان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں  : ’’شب بیدار نیک بندے رات کے وقت لہو و لعب میں   مبتلا افراد سے  زیادہ لذت پاتے ہیں   اور اگر رات نہ ہوتی تو مَیں   دنیا میں   رہنا پسند نہ کرتا۔ ‘‘   ([3])

٭  ایک بار ارشاد فرمایا:  ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّرات کے وقت قیام کرنے والوں   کو اگر دنیا ہی میں   ان کے اعمال کا بدلہ یعنی ثواب عطا فرما دے تو وہ اپنے دلوں   میں   ایسی لذت پائیں   گے جو ان کے اعمال سے  بھی بڑھ کر ہو گی۔ ‘‘ 

٭  علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا کہنا ہے کہ دنیا میں   کوئی ایسا وقت نہیں   جو جنت کی نعمتوں   کے مشابہ ہو سوائے اس وقت کے جس میں   اہلِ مناجات رات کو اپنے دلوں   میں   مناجات کی حلاوت پاتے ہیں  ۔

٭  کسی کا قول ہے کہ دنیا میں   رات کے وقت قیام کرنا،   حبیب سے  باتیں   کرنا اور شہ رگ سے  بھی زیادہ قریب ذات سے  مناجات کرنا دنیا کے اعمال نہیں   ہیں   بلکہ یہ تو جنت کے کام ہیں   جنہیں   اللہ عَزَّ وَجَلَّنے دنیا میں   اپنے خاص بندوں   کے لئے ظاہر فرمایا ہے،   نیز ان کے سوا ان اعمال کی معرفت کسی کو نہیں   اور نہ ہی ان اعمال کی بجا آوری سے  ان کے سوا کسی کے دل کو راحت ملتی ہے۔

٭  حضرت سیِّدُنا عتبہ غلام رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   فرماتے ہیں   کہ میں   20 سال تک رات میں   مشقت اٹھاتا رہا اور پھر 20 سال سے  اس کی نعمتوں   سے  لطف اندوز ہو رہا ہوں  ۔ ([4])

٭  حضرت سیِّدُنا یوسف بن اسباط رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں   کہ میرے لئے رات کا قیام کرنا ایک ٹوکرا بنانے سے  زیادہ آسان ہے۔ جبکہ ان کے بارے میں   مروی ہے کہ وہ روزانہ دس ٹوکرے بنایا کرتے تھے۔

٭  اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ایک نیک بندے کا قول ہے کہ میں  نے رات سے  بڑھ کر کوئی عجیب شے نہیں   دیکھی کہ جب آپ اسکے متعلق مضطرب ہوں   تو یہ آپ پر غالب آ جاتی ہے اور اگر آپ اسکے سامنے ڈٹ جائیں   تو یہ ٹھہرتی نہیں  ۔

٭  حضرت سیِّدُنا عامر بن عبد اللہ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کی موت کا وقت قریب آیا تو رونے لگے،   جب وجہ دریافت کی گئی تو آپ نے ارشاد فرمایا:  ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم! میں   مزید زندہ رہنے کی خواہش میں   نہیں   رو رہا بلکہ مجھے تو موسمِ گرما کی سخت دوپہر میں    (روزے کی حالت میں  )  پیاسا رہنا اور موسمِ سرما میں   راتوں   کا قیام کرنا یاد آ رہا ہے۔ ‘‘   ([5]) ٭  حضرت سیِّدُنا ابن منکدر رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے کہ دنیا کی صرف تین لذتیں   باقی رہ گئیں   ہیں  :  (۱)  رات کو قیام کرنا  (۲)  بھائیوں   سے  ملاقات کرنا اور  (۳)  باجماعت نماز ادا کرنا۔

٭  کسی عارف کا قول ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سحری کے وقت شب بیداروں   کے قلوب پر نظرِ کرم فرماتا ہے تو انہیں   انوار و تجلیات سے  بھر دیتا ہے،   جب ان انوار و تجلیات کے فوائد و ثمرات ان کے دلوں   میں   پیدا ہوتے ہیں   تو وہ روشن ہو جاتے ہیں   اور اسکے بعد بقیہ انوار وتجلیات کی کرنیں   انکے دلوں   سے  غافلین کے دلوں   کی جانب پھیل جاتی ہے۔

٭  علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام میں   سے  کسی کا قول ہے کہ سحری کے وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّجنت پر نظرِ رحمت فرماتا ہے تو وہ روشن ہو کر چمک اٹھتی ہے اور وجد میں   آ جاتی ہے اور اس کا حسن و جمال ہر طرح سے  پہلے کی نسبت دس لاکھ گنا بڑھ جاتا ہے،   جنت کہتی ہے: مومنین فلاح پا گئے۔ تو اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے: ’’اے شاہوں   کے ٹھکانے تجھے مبارک ہو! میری عزت وجلال اور بلند شان کی قسم! میں   تجھ میں  کسی ظالم،   بخیل،   متکبر اور فخر کرنے والے شخص کو نہیں   رہنے دوں   گا۔ ‘‘  اسکے بعد اللہ عَزَّ وَجَلَّ عرش پر نظرِ رحمت فرماتا ہے تو وہ دس لاکھ گنا وسیع ہو جاتا ہے اور اس کی یہ فراخی و کشادگی دس لاکھ ایسے  جہانوں   سے  بھی زیادہ ہو جاتی ہے جن میں   سے  ہر جہان کی وسعت کا علم سوائے اللہ عَزَّ وَجَلَّکے کسی کو نہیں  ۔ پھر



[1]     احیاء علوم الدین، کتاب ترتیب الاوراد     الخ، الباب الثانی، ج۱، ص۴۷۱

[2]     المرجع السابق

[3]     حلیة الاولیاء، الرقم ۴۴۶ ابو سلیمان الدارانی، الحدیث:۱۳۹۴۰، ج۹، ص۲۸۸

[4]     حلیة الاولیاء، الرقم۵۵ ۴احمد بن ابی الحواری، الحدیث: ۱۴۳۰۵، ج۱۰، ص۹

[5]     حلیة الاولیاء، الرقم۱۶۳عامر بن قیس، الحدیث:۱۵۸۰، ج۲، ص۱۰۴



Total Pages: 332

Go To