Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

        کیا وہ تدبر کرتے ہیں   اور پاتے ہیں   کہ ہم مفسدین کو مصلحین کی طرح کریں   گے یا متقین کو فاسقین کی طرح بنا دیں   گے؟ چنانچہ،   اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا:

اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ٘-اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ كَالْفُجَّارِ (۲۸)  (پ۲۳،  ص:  ۲۸)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: کیا ہم انہیں   جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے ان جیسا کردیں   جو زمین میں   فساد پھیلاتے ہیں   یا ہم پرہیزگاروں   کو شریر بے حکموں   کے برابر ٹھہرادیں  ۔

        پس تَدَبُّر سوجھ بوجھ اور فہم و دانش کانام ہے اور تَذَکُّر تقویٰ و عمل کا نام ہے۔

بندے کے مقام و مرتبہ کی پہچان: 

            اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ دِل نشین ہے کہ جسے  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں   اپنا مقام و مرتبہ معلوم کرنا پسند ہو اسے  اپنے دل میںاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مقام کے متعلق غور کرنا چاہئے،   کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ بندے کو وہی مقام و مرتبہ عطا فرماتا ہے جو بندے کے دل میں   پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّ کا ہوتا ہے۔ ([1])

باوضو سونے کی فضیلت: 

            بندہ جب باوُضو ہو کر ذکر کرتے ہوئے مشاہدہ و تفکر میں   مشغول سوتا ہے تو اس کا بستر ہی اس کی مسجد  (یعنی محلِ عبادت)  بن جاتا ہے اور بیدار ہونے تک نمازی لکھا جاتا ہے اور  (حالتِ نیند میں  )  ایک فرشتہ اس کے لباس میں   داخل ہو جاتا ہے،   اگر بندہ نیند میں   حرکت کرتے ہوئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر کرتا ہے تو وہ فرشتہ اس کے لئے دعا کرتا ہے اور بخشش طلب کرتا ہے۔چنانچہ،   ایک حدیث ِ پاک میں   ہے کہ’’بندہ جب باوضو سوتا ہے تو اس کی روح عرش کی جانب پرواز کر جاتی ہے اور اس حالت میں   اس کے خواب سچے ہوتے ہیں  ۔ ‘‘   ([2]) اور اگر وہ وضو کر کے نہ سوئے تو اس کی روح وہاں   تک نہیں   پہنچ پاتی اور اس صورت میں   اس کے خواب بھی ناقابل تعبیر ہوتے ہیں   جو سچے نہیں   ہوتے۔

            اگر  (باوضو سونے والے)  بندے پر نیند غالب آ جائے یہاں   تک کہ وہ صبح تک سوتا رہے تو اس کے لئے رات بھر کا قیام لکھا جاتا ہے اور اس کی نیند اس پر ایک زائد نعمت شمار ہوتی ہے اور جس کی سوتے وقت یہی حالت ہو تو وہ ان کثیر بندوں   سے  سبقت لے جاتا ہے جو غفلت کے ساتھ عبادت کرتے ہیں  ۔

عالم کی نیند: 

        ایک حدیثِ پاک میں   مروی ہے کہ عالم کی نیند عبادت ہے اور اس کا سانس لینا تسبیح ہے۔ ([3])

وقتِ تہجد کے اذکار اور دعائیں  : 

٭  جب رات کو تہجد کے وقت بیدار ہو تو یہ دعا پڑھے: (اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْۤ اَحْیانِیْ بَعْدَ اِذْ تَوَفَّانِیْ وَاِلَیہِ النُّشُوْرُ)   ([4]) تر جمعہ : تمام تعریفیں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ہیں   کہ جس نے ہمیں   موت کے بعد زندگی عطا فرمائی اور اسی کی جانب لوٹنا ہے۔

٭  پھرسورہ آلِ عمران کی آخری دس آیاتِ مبارکہ پڑھے۔ مسواک کرے اور وضو کرے اس کے بعد یہ دعا مانگے:

 (سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ،   لَاۤ اِلٰـہَ اِلَّاۤ اَنْتَ،   اَسْتَغْفِرُكَ،   وَاَسْئَلُكَ التَّوْبَۃَ فَاغْفِرْ لِیْ وَتُبْ عَلَیَّ،   اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ،   اَللّٰہُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنَ التَّوَّابِیْنَ،   وَاجْعَلْنِیْ مِنَ الْمُتَطَہِّرِیْنَ،   وَاجْعَلْنِیْ صَبُوْرًا شَكُوْرًا،   وَاجْعَلْنِیْ اَذْكُرُكَ كَثِیْرًا وَّاُسَبِّحُكَ بُكْرَۃً وَّاَصِیْلًا)    ([5])

تر جمعہ : تُو اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے،   تیرے سوا کوئی معبود نہیں  ،   میں   تجھ سے  بخشش چاہتا ہوں   اور تجھ سے  توبہ کا سوال کرتا ہوں   پس مجھے بخش دے اور میری توبہ قبول فرما،   بے شک  تو بہت توبہ قبول فرمانے والا رحم فرمانے والا ہے،   اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! مجھے توبہ کرنے والوں   میں   سے  بنا دے اور طہارت حاصل کرنے والوں   سے  بنا دے اور بہت زیادہ صبر و شکر کرنے والا بنا دے اور مجھے اپنا بہت زیادہ ذکر کرنے والا بنا دے اور مجھے ایسا بنا دے کہ میں   صبح و شام تیری ہی پاکی بیان کرتا رہوں  ۔

٭  اس کے بعد سر آسمان کی جانب اٹھا کر یہ دعا کرے:

 (اَشْہَدُ اَنْ لَّا ۤاِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْكَ لَہٗ،   وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ،   وَاَعُوْذُ بِعَفْوِكَ مِنْ عِقَابِكَ،   وَاَعُوْذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ،   وَاَعُوْذُ بِكَ مِنْكَ،   لَاۤ اُحْصِیْ ثَنَآءً عَلَیْكَ اَنْتَ كَمَاۤ اَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِكَ،   اَنَا عَبْدُكَ اِبْنُ عَبْدِكَ،   نَاصِیَتِیْ بِیَدِكَ،   جَارٍ فِیَّ حُكْمُكَ،   نَافِذٌ فِیَّ قَضَآؤُكَ،   عَدْلٌ فِیْ مَشِیْٓـئَتِكَ،   ھٰذِہِ یَدَایَ بِمَا كَسَبْتُ،   ھٰذِہِ نَفْسِیْ بِمَاۤ اِجْتَرَحْتُ،   لَاۤ اِلٰـہَ اِلَّا ۤاَنْتَ سُبْحَانَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ،   عَمِلْتُ سُوْٓءًا وَّظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْ ِلیْ ذَنْۢبِیْۤ اِنَّكَ اَنْتَ رَبِّیْ اِنَّہٗ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا ۤاَنْتَ)     ([6])

تر جمعہ : میں   گواہی دیتا ہوں   کہ کوئی معبود نہیں   سوائے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے،   وہ یکتا و تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں   اور میں   گواہی دیتا ہوں   کہ حضرت سیِّدُنا محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بندے اور اس کے رسول ہیں  ،   اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میں   پناہ مانگتا ہوں   تیرے عفو و درگزر کی تیری سزا سے  اور تیری رضا کی پناہ چاہتا ہوں   تیری ناراضی سے  اور تیری پناہ طلب کرتا ہوں   تجھی سے ،   میں   تیری حمد و ثنا اس طرح شمار نہیں   کر سکتا جس طرح تونے خود اپنی تعریف فرمائی ہے،   میں   تیرا بندہ ہوں  ،   تیرے بندے کا بیٹا ہوں  ،   میری پیشانی تیرے قبضۂ قدرت میں   ہے،   مجھ پر تیرا حکم جاری ہے،   تیری قضا مجھ پر نافذ ہے،   تیری مشیت میں   عدل ہے،   یہ ہیں   میرے ہاتھ جن سے  میں  نے کمایا اور یہ ہے میرا جسم جس سے  میں  نے جرموں   کا ارتکاب کیا،   کوئی معبود نہیں   تیرے سوا،   تو پاک ہے،   میں   ظلم کرنے والوں   سے  ہوں  ،   



[1]     المعجم الاوسط، الحديث: ۲۵۰۱، ج۲، ص۵۷

[2]     المعجم الاوسط، الحديث: ۵۲۲۰، ج۴، ص۶۳

[3]     الفردوس بماثور الخطاب، الحديث: ۶۷۳۱، ج۴، ص۲۴۷

[4]     المسند للامام احمد بن حنبل، حذيفة بن يمان، الحدیث: ۲۳۳۳۱، ج۹، ص۷۹

[5]     جامع الترمذی، ابواب الطهارة، باب ما يقال بعد الوضوء، الحديث: ۵۵، ص۱۶۳۶

[6]     المرجع السابق



Total Pages: 332

Go To