Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

(1) سخاوت  حضرت سیِّدُنا ابراہیم عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت ہے۔ کیونکہ آپ نے راہِ خدا میں   اپنے جگر گوشہ کی قربانی دینے سے  بھی گریز نہ کیا۔

 (2) رضا حضرت سیِّدُنا اسماعیل عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت ہے۔ کیونکہ آپ نے ربّ کی رضا کے لیے اپنی جانِ عزیز کو بھی بارگاہِ خداوندی میں   پیش کر دیا۔

 (3) صبر حضرت سیِّدُنا ایوب عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت ہے۔ کیونکہ آپ نے بے انتہا مصائب پر صبر کا دامن نہ چھوڑا اور اپنے ربّ کی آزمائش پر ثابت قدم رہے۔

 (4) اشارہ حضرت سیِّدُنا زکریا عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت ہے۔ کیونکہ ربّ تعالیٰنے ان سے  ارشاد فرمایا: 

اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ اِلَّا رَمْزًاؕ-  (پ۳،   اٰل عمران: ۴۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تین دن تو لوگوں   سے  بات نہ کرے مگر اشارہ سے ۔

            اور ایک جگہ ارشاد فرمایا:

اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَآءً خَفِیًّا (۳)  (پ۱۶،   مریم:  ۳)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: جب اسنے اپنے رب کو آہستہ پکارا۔

 (5) غربت حضرت سیِّدُنا یحییٰ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت ہے کہ انہوں  نے اپنے وطن میں   بھی مسافروں   کی طرح زندگی بسر کی اور خاندان میں   رہتے ہوئے بھی اپنوں   سے  بیگانہ رہے۔

 (6) گدڑی  (صوف کا لباس)  حضرت سیِّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت ہے جنہوں  نے سب سے  پہلے پشمینی لباس زیبِ تن فرمایا۔

 (7) سیاحت حضرت سیِّدُنا عیسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت ہے جنہوں  نے تنہا زندگی گزاری اور ایک پیالہ و کنگھی کے سوا کچھ بھی پاس نہ رکھا۔ بلکہ ایک مرتبہ کسی کو اپنے دونوں   ہاتھوں   کو ملا کر پانی پیتے دیکھا تو پیالہ بھی توڑ دیا اور جب کسی کو دیکھا کہ انگلیوں   سے  بالوں   میں   کنگھی کر رہا ہے تو کنگھی بھی توڑ دی۔

 (8) فقر محسنِ کائنات،   فخر موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنت ہے جنہیں   رُوئے زمین کے تمام خزانوں   کی کنجیاں   عنایت فرمائی گئیں   مگر آپ نے بارگاہِ خداوندی میں   عرض کی: اے خدا! میری خواہش تو یہ ہے کہ ایک روز شکم سیر ہوں   تو دو روز فاقہ کروں  ۔

٭٭٭

تیسرا مرحلہ

تاریخِ تَصَوُّف

چند جملوں   میں   پورے دین کا خلاصہ بیان کر دینا پیغمبرانہ معجزہ ہے۔ لہٰذا حدیث جبریل کو بلا شبہ جَوَامِعُ الْکَلِم  ([1]) کی اعلیٰ صورت کہا جا سکتا ہے جس میں   آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دین کے ان تینوں   حصوں   کی  کماحقہ تشریح بیان فرمائی۔ صحابۂ  کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان بھی چونکہ گلستانِ رسالت کے خوشہ چین تھے،   لہٰذا ان میں   بھی جامعیت کی یہی شان کافی حد تک موجود تھی مگر مرورِ زمانہ کے ساتھ ساتھ اس جامعیت میں   کمی آتی گئی۔ اس لیے علمائے اُمت عَلَیْہِم رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّتنے دین کی حفاظت وخدمت کے لیے ان تینوں   شعبوں   کو تین مستقل علیحدہ علیحدہ علوم میں   مدوّن کر دیا۔ چنانچہ،   

تصحیح عقائد کے سلسلہ میں   کتاب وسنت میں   جو ہدایات دی گئیں   ان کی حفاظت وخدمت کے لیے علم کلام مدوّن ہوا۔ اعمالِ ظاہرہ کے متعلق جو رہنمائی کتاب وسنتنے کی ہے،   اس کی تشریح کے لیے علم فقہ مدوّن ہوا اور اصلاحِ باطن کے متعلق جو باتیں   کتاب وسنتنے بتائیں   ان کی تفصیلات کے لیے علم الاحسان جسے  علم الاخلاق اور علم التصوف  بھی کہتے ہیں  ،   مدوّن ہوا۔اور ان تمام علوم میں   کامل دسترس رکھنے والے کو کامل عالم دین سمجھا جانے لگا۔ یہ علوم چونکہ پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیاری امت کی آسانی کے لیے مدوّن کیے گئے تھے اور قرآن وسنت کے خلاف بھی نہ تھے بلکہ کتاب وسنت کی روح اور ان کے ثمرات تھے،   لہٰذا ان میں   سے  ہر ایک کے جاننے والے کو ایک الگ نام سے  جانا و پہچانا جانے لگا۔ علم کلام جاننے والے متکلمین کے نام سے  معروف ہوئے،   علم فقہ جاننے والے فقیہ کے نام سے  مشہور ہوئے اور علم تصوف جاننے والے زاہد و صوفی کے نام سے  جانے و پہچانے جاتے۔ یہ اصفیاء ہر زمانے اور ہر دور میں   اعلائے کلمۃ الحق کے لیے کمر بستہ رہے اور اس سلسلے میں   کبھی کسی کی پروا نہ کی۔ لہٰذا آئیے دورِ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے بعد سے  لے کر تقریباً چار صدیوں   تک کا جائزہ لیتے ہیں   کہ اس دور میں   کیسے  کیسے  جوانمردوں  نے اس قوم کی ڈوبتی نیا  (کشتی)  کو سہارا دینے کی کوشش کی۔

پہلا دور: 

یہ دور اُموی خلافت  ([2]) کے آغاز سے  لے کر اس کے اختتام اور عباسی خلافت  ([3]) کے آغاز یعنی 40ہجری سے  لے کر 132ھ تک محیط ہے۔ چنانچہ بنو امیہ نے جب خلافت کا اقتدار سنبھالا تو اس وقت موجود اکثر صحابۂ  کرام عَلَیْہِ الرِّضْوَان دین اسلام کی اشاعت کے لیے مصروف عمل تھے جنہوں  نے باقاعدہ سلسلہ درس و تدریس شروع کر رکھا تھا اور بے شمار



[1]     جوامع الکلم سے مراد ایسے کلمات ہیں  جو عبارت کے لحاظ سے مختصر اور معانی ومطالب کے لحاظ سے جامع ہوں ۔ ( کوثر الخیرات، ص۵۵)

[2]     اموی دورِ خلافت سے مراد حضرت سیدنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے شروع ہونے والا  خاندانِ بنو امیہ کی خلافت کا دور ہے۔

[3]     عباسی دورِ خلافت سے مراد حضرت سیدنا عباس بن عبد المطلب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے خاندان سے تعلق رکھنے والے خلفا کا دور ہے، جس کا آغاز ابو العباس عبد اللہ بن محمد بن علي بن عبد اللہ بن عباس المعروف ابو العباس سفاح کی خلافت سے ہوا۔



Total Pages: 332

Go To