Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

فرمائی اور اسی کی جانب لوٹنا ہے۔ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! ہم تجھ سے  سوال کرتے ہیں   کہ تو آج ہمیں   ہر قسم کی بھلائی کی توفیق عطا فرما اور ہم تجھ سے  پناہ مانگتے ہیں   کہ آج کوئی برائی کرنے کی جرأت کریں  ،   یا اس برائی کا رخ کسی مسلمان بھائی کی جانب کر دیں  ،   پس یہ تیرا ہی فرمان ہے: ’’اور وہی ہے جو

 رات کو تمہاری روحیں   قبض کرتا ہے اور جانتا ہے جو کچھ دن میں   کماؤ پھر تمہیں   دن میں   اٹھاتا ہے کہ ٹھہری ہوئی میعا د پوری ہو۔ ‘‘  اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! اے تاریکی چاک کر کے صبح نکالنے والے! اور اے رات کو باعثِ سکون بنانے والے! اور سورج اور چاند کو حساب کے ذرائع بنانے والے! میں   تجھ سے  اس دن کی اور اس میں   موجود ہر خیر وبھلائی کا سوال کرتا ہوں   اور اس دن کی اور اس میں   موجود ہر برائی سے  تیری پناہ چاہتا ہوں  ،   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نام سے ،   جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ چاہے ،   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مدد کے بغیر کوئی قوت نہیں  ،   جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ چاہے،   ہر نعمت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جانب سے  ہے،   جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ چاہے،   ہر طرح کی خیرو بھلائی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے قبضۂ قدرت میں   ہے،   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نام سے ،   برائی کو کوئی بھی دور نہیں   کر سکتا سوائے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے،   میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رب ہونے،   اسلام کے دین ہونے اور حضرت سیِّدُنا محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نبی ہونے پر راضی ہوا،   اے ہمارے ربّ! ہم نے تجھی پر بھروسا کیا تیری ہی طرف رجوع لائے اور تیری ہی طرف پھرنا ہے۔

            اس کے بعد سورۂ فلق اور سورۂ ناس پڑھنا چاہئے۔

شام کے وقت کی دعائیں  : 

            شام کے وقت بھی یہی دعا کرنی چاہئے لیکن اس میں (اَصْبَحْنَا وَاَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلّٰہِ)  کے بجائے :  (اَمْسَیْنَا،   وَاَمْسَی الْمُلْكُ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ)  کہنا چاہئے اور  (اَسْاَلُكَ خَیْرَ ھٰذَا الْیَوْمِ)  کے بجائے یہ کہئے:  (اَسْاَلُكَ خَیْرَ ھٰذِہِ اللَّیْلَۃِ)  یعنی جہاں    (اَلْیَوْم)  کے الفاظ ہیں   وہاں    (اَللَّیْلَۃ)  کہئے۔

            نیز کبھی بھی رات کے وقت اس دعا کا ناغہ نہ کرے:

 (بِسْمِ اللّٰہِ الَّذِیْ لَا یَضُرُّ مَعَ اسْمِہٖ شَیْئٌ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآءِ،   وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ،   اَعُوْذُ بِكَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّآمَّاتِ،   وَاَسْمَآئِہٖ كُلِّہَا مِنْ شَرِّ مَا ذَرَاَ وَبَرَاَ،   وَمِنْ شَرِّ كُلِّ ذِیْ شَرٍّ،   وَّمِنْ شَرِّ كُلِّ دَآبَّۃٍ،   اَنْتَ اٰخِذٌ ۢبِنَاصِیَتِہَا،   اِنَّ رَبِّی عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ)

تر جمعہ : اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نام سے  کہ جس کے نام کی برکت سے  زمین و آسمان میں   کوئی چیز نقصان نہیں   پہنچا سکتی اور وہ سمیع وعلیم ہے اور میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پورے اور کامل کلمات اور اس کے تمام اسمائے حسنیٰ کے وسیلہ سے  پناہ مانگتا ہوں   ہر پیدا کردہ مخلوق کے شر سے  اور ہر شر والی چیز کے شر سے  اور ہر چوپائے کے شر سے ،   اے میرے پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّ ! سب کچھ تیرے قبضے میں   ہے،   بے شک  میرا پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّ  صراطِ مستقیم پر ملتا ہے ۔

            اگر یہ دعا سحری کے وقت بیت الخلا میں   داخل ہونے سے  پہلے پڑھے تو زیادہ بہتر ہے تا کہ ذکر سے  غافل نہ ہو،   اکثر صالحین کا یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ اس دعا کو دن کے آخری حصے میں   یا رات کے ابتدائی حصے میں   پڑھا کرتے اور یہی بہتر ہے۔ صبح کے وقت بیت الخلا جانا طبی لحاظ سے  بھی جسم کے لئے بہت مفید ہے اور طہارت کے لئے بھی زیادہ بہتر ہے۔ خاص طور پر ان افراد کے لئے جو دن کے وقت کھانا کھاتے ہیں  ۔

سوتے وقت کی دعائیں  : 

٭… جب بندہ سونے کے لئے بستر پر جائے تو اسے  چاہئے کہ یہ دعا پڑھے:

 (بِاِسْمِكَ رَبِّیْ وَضَعْتُ جَنْۢبِیْ وَبِاِسْمِكَ اَرْفَعُہٗ،   اَللّٰہُمَّ اِنْ اَمْسَكْتَ نَفْسِیْ فَاغْفِرْ لَہَا وَارْحَمْہَا وَاِنْ اَرْسَلْتَہَا فَاعْصِمْہَا وَاحْفَظْہَا بِمَا تَحْفَظُ بِہِ عِبَادَكَ الصَّالِحِیْنَ)

تر جمعہ : اے میرے پَرْوَرْدگار ! تیرے نام سے  میں  نے اپنے پہلو کو رکھا اور اسی کے سہارے اسے  اٹھاؤں   گا۔ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! اگر تو میری جان لے لے تو اس کی مغفرت فرمانا اور اس پر رحم فرمانا اور اگر تو اسے  چھوڑ دے تو اسے  محفوظ رکھنا اور ان چیزوں   سے  اس کی حفاظت فرمانا جن سے  تونے اپنے نیک بندوں   کی حفاظت فرمائی ہے۔

٭… تاجدارِ رِسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیِّدُنا براء بن عازب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے  ارشاد فرمایا کہ جب وہ رات کے وقت بستر پر جائیں   تو یہ دعا مانگا کریں  :

 (اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ وَجَّہْتُ وَجْہِیَ اِلَیْكَ،   وَفَوَّضْتُّ اَمْرِیْ اِلَیْكَ،   وَاَلْجَاْتُ ظَہْرِیْ اِلَیْكَ رَھْبَۃً وَّرَغْبَۃً اِلَیْكَ،   لَا مَلْجَاَ وَلَا مَنْجَاَ مِنْكَ اِلَّاۤ اِلَیْكَ،   اٰمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِیْۤ اَنْزَلْتَ،   وَبِرَسُولِكَ الَّذِیْۤ اَرْسَلْتَ)   ([1])

تر جمعہ : اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! میں  نے اپنا چہرہ تیری طرف متوجہ کیا اور اپنا معاملہ تیرے سپرد کر دیا اور ڈرتے ہوئے اور تیری بارگاہ میں   رغبت رکھتے ہوئے اپنی پشت تیری پناہ میں   دی کہ تیرے سوا کوئی ٹھکانا ہے نہ پناہ گاہ،   میں   تیری اس کتاب پر ایمان لایا جو تونے نازل فرمائی اور تیرے اس رسول پر بھی ایمان لایا جسے  تونے بھیجا۔

٭… مروی ہے کہ سرکارِ والا تَبار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سوتے وقت یہ پڑھا کرتے:  (اَللّٰہُمَّ قِنِیْ عَذَابَكَ یَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ)   ([2])  تر جمعہ : اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! مجھے اس دن کے عذاب سے  بچا جب تو اپنے بندوں   کو اٹھائے گا۔

٭… پیکرِ حُسن وجمال،   دافِعِ رنج و مَلال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ کلمات پڑھنے کا حکم دیا:

 (اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ عَلَا فَقَہَرَ،   اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ بَطَنَ فَجَبَرَ،   اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ مَلَكَ فَقَدَرَ،   اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ ھُوَ یُحْیِی الْمَوْتٰی،   وَھُوَ عَلٰی كُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ)   ([3])

تر جمعہ : تمام تعریفیں   اس اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ہیں   جو بلند شان اور قدرت والا ہے ۔ تمام تعریفیں   اس اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ہیں   جو الباطِن اور الجبّار ہے۔ تمام تعریفیں   اس اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ہیں   جو



[1]     صحيح البخاری، کتاب التوحيد، باب قوله ’’انزله بعلمه    الخ، الحديث: ۷۴۸۸، ص۴۶۲

[2]     سنن ابی داود، کتاب الادب، باب ما يقول عندالنوم، الحديث: ۵۰۴۵، ص۱۵۹۲ مفهومًا

[3]     شعب الايمان للبيهقی، باب فی تعديد نعم اللہ     الخ، فصل فی النوم و ادابه، الحديث: ۴۷۱۴، ج۴، ص۶۷۱



Total Pages: 332

Go To