Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

سجدہ سے  سر اٹھائیں   اور سیدھے بیٹھ کر اپنے ہاتھ بلند کر لیں   اور یہ دعا مانگیں : 

یا حَیُّ،   یا قَیُّوْمُ،   یا ذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ،   یاۤ اِلٰـہَ الْاَوَّلِیْنَ وَالْاٰخَرِیْنَ،   یا رَحْمٰنَ

الدُّنْیا وَالْاٰخِرَۃِ،   وَرَحِیْمَہُمَا،   یا رَبِّ! یا رَبِّ! یا رَبِّ! یاۤ اَللّٰہُ! یاۤ اَللّٰہُ! یاۤ اَللّٰہ!

تر جمعہ : اے بذاتِ خود زندہ! اے دوسروں   کو قائم رکھنے والے! اے عزت و بزرگی والے! اے اولین و آخرین کے معبود! اے دنیا و آخرت کے رحمن اور رحیم! اے میرے رب! اے میرے رب! اے میرے رب! یا اللہ! یا اللہ! یا اللہ!

            پھر اسی طرح ہاتھوں   کو اٹھائے ہوئے کھڑے ہو کر یہی کلمات کہیں  ،   اس کے بعد جہاں   جی چاہے قبلہ کی جانب دائیں   کروٹ لیٹ کر درودِ پاک پڑھتے ہوئے سو جائیں  ۔ ‘‘  حضرت سیِّدُنا وبرہ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیہ  فرماتے ہیں   کہ میں  نے ان سے  دریافت کیا: ’’میں   چاہتا ہوں   کہ آپ مجھے یہ بھی بتائیں   کہ آپ نے یہ دعا کس سے  سیکھی؟ ‘‘  تو انہوں  نے بتایا:  ’’ جب تاجدارِ رِسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ دعا بتائی گئی اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی جانب وحی کی گئی تو اس وقت میں   بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں   حاضر تھا اور یہ سب کچھ میری موجودگی میں   ہوا،   پس میں  نے بھی اس سے  یہ دعا یادکر لی جسے  آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سکھائی۔“ ([1])

            پس منقول ہے کہ جو اس نماز اور کلمات کو ہمیشہ حسنِ یقین اور صدقِ نیت سے  پڑھے تو وہ دنیا سے  رخصت ہونے سے  قبل خواب میں   شہنشاہِ خوش خِصال،   پیکر ِ حُسن وجمال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زیارت سے  مشرف ہو گا اور بعض افرادنے یہ عمل کیا تو دیکھا کہ وہ جنت میں   داخل ہو چکے ہیں   اور اس میں   انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دیکھا اور سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زیارت کی،   ان سے  کلام کیا اور علم بھی حاصل کیا۔ اس کے فضائل بہت زیادہ ہیں   ہم نے انہیں   مختصراً ذکر کیا ہے۔

٭٭٭

فصل:  12

نمازِ وتر کا بیان

صحابۂ  کرام عَلَیْہِمُ الرِضْوَان  اور نمازِ وتر: 

            امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں   کہ عقل مندو دانا لوگ رات کے ابتدائی اوقات میں   اور قوی و توانا رات کے آخری حصے میں   نمازِ وتر ادا کرتے ہیں   اور یہی افضل ہے۔  ([2])

            ایک بار صاحب ِجُودو نوال،   رسولِ بے مثال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے امیر المومنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے  دریافت فرمایاکہ وہ وتر کس وقت ادا کرتے ہیں  ؟ تو انہوں  نے عرض کی:  ’’سونے سے  قبل رات کے ابتدائی حصے میں  ۔ ‘‘  اور امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے  دریافت فرمایا کہ وتر کب ادا کرتے ہیں  ؟ تو انہوں  نے عرض کی:  ’’ رات کے آخری حصے میں  ۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے امیر المومنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے  ارشاد فرمایا کہ اس احتیاط پر ثابت قدم رہواور امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے  ارشاد فرمایا کہ اس پر مضبوطی سے  قائم رہو۔  ([3])

            امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں   کہ اگر کوئی چاہے تو رات کی ابتدا میں   نمازِ وتر ادا کر لے اور پھر دو دو رکعت نفل پڑھتا رہے اور اگر کوئی چاہے تو نمازِ وتر میں   تاخیر کرے یہاں   تک کہ یہی اس کی رات کی آخری نماز ہو۔ ([4])

            حضرت سیِّدُنا مجاہد عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْوَاحِد حضرت سیِّدُنا ابنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے  روایت کرتے ہیں   کہ’’نمازِ عشا کے بعد چار رکعت ادا کرنے کا اجر و ثواب شبِ قدر میں   نماز ادا کرنے جیسا ہے۔ ‘‘   ([5])

        حُسنِ اَخلاق کے پیکر،   مَحبوبِ رَبِّ اَکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ تقرب نشان ہے:  ’’اے اہلِ قرآن! ہر رات کے وتر ادا کیا کرو۔ ‘‘    ([6])

            ام المومنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا ارشاد فرماتی ہیں   کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب،   دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے رات کی ابتدا،   وسط اور انتہائے سحر تک  (تینوں   اوقات میں  )  وتر ادا کئے ہیں  ۔  ([7])

            ایک روایت میں   ہے کہ پیکرِعظمت و شرافت،   مَحبوبِ رَبُّ العزت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس وقت وتر پڑھتے جب اذان کا وقت قریب ہوتا،   پھر اقامت کے قریب دو رکعت  (سنت ِ فجر)  ادا فرمایا کرتے تھے۔   ([8])

 



[1]     تاريخ مدينة دمشق، الرقم ۱۹۶۵ الخضر، ج۱۶، ص۴۳۰ مفهوماً

[2]     اتحاف الخيرة المهرة، کتاب النوافل، باب الوتر فی اول الليل، الحديث: ۲۴۰۶، ج۳، ص۱۴۶

[3]     معرفة السنن والاثار للبيهقی،کتاب الصلوة،باب الوترفی اول الليل ووسطی واٰخره، الحديث: ۱۴۱۰، ۱۴۱۱، ج۲،ص۳۲۵

[4]     السنن الکبریٰ للبيهقی، کتاب الصلاة، باب من قال لا ينقض القائم     الخ، الحديث: ۴۸۵۰، ج۳، ص۵۴

[5]     المصنف لابن ابی شيبة،کتاب صلاة التطوع، باب فی اربع رکعات بعد العشاء، الحديث:۱، ج۲، ص۲۳۹ کعدلهن بدله کقدرهن

[6]     جامع الترمذی، ابواب الوتر، باب ما جاء فی الوتر بسبع، الحديث: ۴۵۷، ص۱۶۸۸

[7]     سنن ابنِ ماجه، ابواب اقامة الصلاة، باب ما جاء فی الوتر اٰخر الليل، الحديث:۱۱۸۵، ص۲۵۴۶

[8]     المسند للامام احمد بن حنبل، مسند علی، الحديث: ۶۵۹، ج۱، ص۱۸۹



Total Pages: 332

Go To