Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

عشا کے درمیان باجماعت نماز ادا کر کے مسجد میں   ہی اعتکاف کرے اور نماز پڑھنے یا قرآنِ کریم کی تلاوت کے علاوہ کسی سے  کلام نہ کرے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر حق ہے کہ اس کے لئے جنت میں   دو ایسے  محل بنائے جن کا آپس میں   فاصلہ ایک سو سال کی مسافت کے برابر ہو اور ان کے درمیان ایک ایسا درخت لگائے کہ اگر تمام دنیا والے اس کے گرد چکر لگائیں   تو وہ ان سب کو کافی ہو۔ ‘‘   ([1])

            نور مجسم ،  شاہ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’جو مغرب و عشا کے درمیان دس رکعتیں   ادا کرے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کیلئے جنت میں   ایک محل بنائے گا۔ ‘‘  حضرت سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! تب تو ہمارے محل کثرت سے  ہوں   گے۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ بہت بڑا اور فضیلت والا ہے۔ ‘‘  یا پھر یہ ارشاد فرمایا کہ وہ بہت پاک ہے۔ ([2])

            حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے  مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ،   قرار قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ باقرینہ ہے: ’’جو باجماعت نمازِ مغرب کے بعد کسی سے  کوئی بات نہ کرے،   پھر دو رکعت اس طرح ادا کرے کہ پہلی رکعت میں   سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ بقرہ کی ابتدا سے  دس آیات اور درمیان سے   ( وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌۚ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ۠ (۱۶۳) )  سے  لے کر دو آیتیں   ،   اس کے بعد  (قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ)  پندرہ مرتبہ پڑھے،   پھر رکوع و سجود کرے اور جب دوسری رکعت کے لئے کھڑا ہو تو اس میں   سورۂ فاتحہ کے بعد آیت الکرسی اور اس کے بعد کی دو آیتیں (هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ (۲۵۷) )  تک اور سورۂ بقرہ کی آخری تین آیتیں   یعنی  (لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ-)  سے  لے کر آخر تک اور پھر  (قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ)  پندرہ مرتبہ پڑھے تو ٭  اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے لئے جنتِ عدن میں   موتی اور یاقوت کے ہزار شہر بنا دے گا۔

٭   ہر شہر میں   ہزار محل ہوں   گے۔     ٭  ہر محل میں   ہزار گھر ہوں   گے

٭  ہر گھر میں   ہزار کمرے ہوں   گے   ٭  ہر کمرے میں   ہزار قطاریں  ہوں   گی

٭  ہر قطار میں   ہزار خیمے ہوں   گے        ٭  ہر خیمے میں   مختلف قسم کے جواہر سے  بنی ہوئی ہزار چارپائیاں   ہوں   گی

٭  ہر چارپائی پر ہزار بستر ہوں   گے،   جو اندر سے  استبرق  (ریشم کی ایک قسم)  کے اور باہر سے  نور کے ہوں   گے،   نیز ہر چارپائی پر ہزار تکیے ایک طرف اور ہزار تکیے دوسری طرف ہوں   گے ۔

٭  ہر بستر پر حورِ عین میں   سے  ایک بیوی ہو گی،   جس کے اوصاف ناقابلِ بیان ہیں  ،   بلکہ اوصاف بیان کرنے سے  اس کے حسن و کمال میں   زیادتی ہوتی ہے،   اسے  کسی مقرب فرشتےنے دیکھا ہو گا نہ کسی نبی مرسلنے،   وہ بھی دیکھ لیں   تو اس کے حسن کو پسند فرمائیں۔

٭  ان میں   سے  ہر بیوی پر ایک ہزار ایسے  لباس ہوں   گے کہ کوئی لباس دوسرے کو نہیں   چھپائے گا اور نہ ہی تمام لباس مل کر جسم کی رنگت کو چھپائیں   گے بلکہ وہ ایک دوسرے کے نیچے سے  ایسے  دکھائی دیں   گے جیسے  یاقوت میں   ریشمی دھاگہ دکھائی دیتا ہے اور جس طرح شفاف شیشے کے جام میں  سرخ شراب دکھائی دیتی ہے ۔

٭  ہر بیوی کے ایک لاکھ غلام،   ایک لاکھ لونڈیاں   اور ایک لاکھ دربان ہوں   گے،   جو ان کے محلات اور سامان پر

متعین ہوں   گے اور یہ سب خدام خاص انہی کے ہوں   گے،   ان کے شوہروں   کے خدام ان کے علاوہ ہوں   گے ۔

٭  ہر خیمہ میں   ایک نہر تسنیم کی اور ایک کوثر کی ہو گی اور ایک ایک چشمہ کافور،   زنجبیل اور سلسبیل کا ہو گا اور ایک ایک ٹہنی شجرِ طوبی اور سِدْرَۃُ الْمُنْتَھٰی کی ہو گی۔

٭ ہر خیمہ میں   موتی و یاقوت کے ایک ہزار دسترخوان ہوں   گے جن میں   سب سے  چھوٹا دستر خوان بھی بقدرِ دنیا ہوگا

٭ ہر دستر خوان پر ایک ہزار جواہرات سے  آراستہ سونے کی پلیٹیں   ہوں   گی ۔

٭  ہر پلیٹ میں   ہزار قسم کے کھانے ہوں   گے جن کے ذائقے،   رنگ اور خوشبو مختلف ہو گی۔

       اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے مومن ولی کو قوت عطا فرمائے گا کہ وہ یہ سب کھانے اور ان کی مثل پینے والی اشیاء کھا پی سکے،   نیز تمام بیویوں   سے  دنیا کے دنوں   میں   سے  ایک دن کی مقدار کے برابر مجامعت کر سکے۔ پاک ہے وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ جو بادشاہ ہے،   حد درجہ عطا کرنے والا اور ہر کام پر قدرت رکھنے والا ہے جو چاہے،   وہ تمام جہانوں   کا رب ہے۔ ‘‘ 

سرکارصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی زیارت  کا وظیفہ: 

        حضرت سیِّدُنا کُرْز بن وبرہ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا وبرہ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  جو کہ ابدال تھے،   فرماتے ہیں   کہ میں  نے حضرت سیِّدُنا خضر عَلَیْہِ السَّلَام سے  عرض کی:  ’’مجھے کوئی ایسا عمل سکھائیں   جو میں   رات کو کیا کروں  ۔ ‘‘  تو انہوں  نے فرمایا: ’’نمازِ مغرب ادا کرنے کے بعد کسی سے  کوئی بات نہ کریں   اور پھر نمازِ عشا عام معمول کے مطابق ادا کریں  ،   اس کے بعد دو رکعت پڑھیں   اور ہر رکعت میں   سورۂ فاتحہ کے بعد سات مرتبہ (قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ)  پڑھیں  ۔ جب نماز سے  فارغ ہو جائیں   تو اپنے گھر جائیں   او رکسی سے  بات نہ کریں  ،   دو رکعت ادا کریں  ،   ان میں  بھی سورۂ فاتحہ کے بعد سات مرتبہ  (قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ)   پڑھیں  ،   پھر سلام کے بعد سجدہ کریں   اور سات مرتبہ استغفار پڑھیں  ،   سات مرتبہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے مَحبوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر درودِپاک پڑھیں   اور سات مرتبہ یہ پڑھیں  : (سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ)  اس کے بعد



[1]     الترغيب فی فضائل الاعمال لابن شاهين، فضل صلاة المغرب، الحديث:۷۵، ج۱، ص۸۳

[2]     الزهدلابن مبارک، باب استعنت بالله، الحديث: ۱۲۶۴، ص۴۴۶



Total Pages: 332

Go To