Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

اس کے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر ایمان لانے والوں   اور اس پر بھروسا کرنے والوں   کی تعداد کے برابر ثواب بھی لکھا جاتا ہے۔‘‘([1])

جمعہ کے دن نمازکی فضیلت: 

        امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں   کہ میں  نے سرکارِ مدینہ،   قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ارشاد فرماتے سنا: جمعہ کا پورا دن نماز کا ہے،   جو بھی سورج کے نیزہ بھر یا اس سے  زائد بلند ہونے کے بعد کامل وضو کرے،   پھر ایمان کی حالت میں   اور ثواب کی امید رکھتے ہوئے دو رکعت نمازِ چاشت ادا کرے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے لئے 200 نیکیاں   لکھتا ہے اور اس کی 200 برائیاں   مٹا دیتا ہے اور جو چار رکعتیں   ادا کرے اللہ عَزَّ وَجَلَّ جنت میں   اس کے 400 درجات بلند کرتا ہے اور جو آٹھ رکعت ادا کرے اس کے 800 درجات بلند فرماتا ہے اور ساتھ ہی اس کے تمام گناہ بھی معاف فرما دیتا ہے اور جو بارہ رکعت ادا کرے تو اللہ

عَزَّ وَجَلَّ اس کے لئے 1200 نیکیاں   لکھتا ہے اور 1200 گناہ مٹا دیتا ہے نیز جنت میں   اس کے 1200 درجات بلند فرماتا ہے۔  ([2])

        حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے  مروی ہے کہ پیکرِ حُسن وجمال،  دافِعِ رنج و مَلال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’جو شخص جمعہ کو نمازِ فجر باجماعت ادا کرے،   پھر مسجد میں   بیٹھ کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر کرتا رہے یہاں   تک کہ سورج طلوع ہو جائے تو اس کے لئے جنت الفردوس میں   ایسے  70درجے ہوں   گے کہ ہر دو درجوں   کے درمیان ایک تیز رفتار گھوڑے کے 70سال دوڑنے کی مقدار کے برابر فاصلہ ہو گا اور جو نمازِ جمعہ باجماعت ادا کرے تو اس کے لئے جنت الفردوس میں   50 ایسے  درجات ہوں   گے کہ ہر دو درجوں   کے درمیان ایک تیز رفتار گھوڑے کے 50 سال دوڑنے کی مقدار کے برابر فاصلہ ہو گا اور جو نمازِ عصر باجماعت ادا کرے تو گویا اس نےحضرت اسماعیل عَلَیْہِ السَّلَام  کی تمام اولاد میں   سے  آٹھ افراد کو آزاد کیا اور جس نے نمازِ مغرب باجماعت ادا کی گویا اسنے ایک مقبول حج وعمرہ کیا۔ ‘‘    ([3])

        حضرت سیِّدُنا ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے  مروی ہے کہ سراپارَحمت،  شافِعِ  اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عظمت نشان ہے: ’’جو جمعہ کے دن جامع مسجد جائے اور نمازِ جمعہ سے  قبل چار رکعت نَفْل ادا کرے اور ہر رکعت میں   سورۂ فاتحہ کے بعد 50 مرتبہ  (قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ (۱))  پڑھے تو وہ اس وقت تک نہیں   مرے گا جب تک کہ وہ جنت میں   اپنا ٹھکانا نہ دیکھ لے یا اسے  دکھا نہ دیا جائے۔ ‘‘    ([4])

ہفتہ کے دن نمازکی فضیلت: 

        حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے  مروی ہے کہ مَخْزنِ جودوسخاوت،   پیکرِ عظمت و شرافت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ فضیلت نشان ہے :  ’’ جس نے ہفتہ کے دن چار رکعتیں   ادا کیں   اور ہر رکعت میں   سورۂ فاتحہ کے بعد  (قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ (۱) )  تین مرتبہ پڑھی،   پھر سلام کے بعد ایک مرتبہ آیت الکرسی پڑھی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے لئے ہر حرف کے بدلے ایک حج اور عمرے کا ثواب لکھے گا اور اسے  ہر حرف کے عوض سال بھر میں   دن کے اوقات میں   روزوں   اور رات میں   نوافل پڑھنے کے برابر اجر دیا جائے گا اور اسے  ہر حرف کے بدلے ایک شہید کا ثواب بھی عطا ہو گا،   نیز وہ انبیا اور شہدا کے ساتھ عرش کے سائے تلے ہو گا۔ ‘‘    ([5])

نمازِ باجماعت کی فضیلت: 

            حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  مروی ہے کہ حضور نبی ٔکریم،   رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ جنَّت نشان ہے:  ’’ جو 40دن اس طرح باجماعت نماز ادا کرے کہ اس کی تکبیرِ اُولیٰ فوت نہ ہو تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کیلئے دو براءَ تیں   لکھ دیتا ہے: ایک آگ سے  اور دوسری نفاق سے ۔ ‘‘    ([6])

رات کی نمازوں   کی فضیلت کا تذکرہ

شبِ اتوار نماز کی فضیلت: 

            حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں   کہ میں  نے حضورنبی ٔپاک،   صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ارشاد فرماتے سنا: ’’ جو اتوار کی رات بیس رکعت ادا کرے اور ہر رکعت میں   سورۂ فاتحہ کے بعد پچاس مرتبہ  (قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ (۱) )  اور ایک ایک مرتبہ  (قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِۙ (۱) )  اور  (قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ (۱) )  پڑھے۔ پھر سو مرتبہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے  مغفرت طلب کرے،   پھر سو مرتبہ اپنے اور اپنے والدین کے لئے استغفار کرے اور سو مرتبہ نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر درودِ پاک پڑھے اور اپنی قدرت و طاقت سے  براء ت کا اظہار کر کے اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کی قدرت و طاقت سے  مدد مانگے  (یعنی لَا حَولَ وَ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ پڑھے)  اور یہ کہے:

 (اَشْہَدُ اَنْ لَّا ۤاِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاَشْہَدُ اَنَّ اٰدَمَ صَفْوَۃُ اللّٰہِ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی وَفِطْرَتُہٗ وَاِبْرَاھِیْمَ خَلِیْلُ اللّٰہِ وَمُوْسٰی كَلِیْمُ اللّٰہِ وَعِیْسٰی رُوْحُ اللّٰہِ وَمُحَمَّدٌ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَبِیْبُ اللّٰہِ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی)   ([7])

 



[1]     اتحاف السادة المتقين، کتاب اسرار الصلاة، الباب السابع، القسم الثانی، ج۳، ص۶۲۴

[2]     المرجع السابق

[3]     شعب الايمان للبيهقی، باب فی الصلوات، فصل فی الجماعة، الحديث:۲۸۷۰، ج۳، ص۶۰ صلاة الجمعة بدله صلاة  العصر و عن انس

[4]     اتحاف السادة المتقين، کتاب اسرار الصلاة، الباب السابع، القسم الثانی، ج۳، ص۶۲۵

[5]     المرجع السابق،  ص۶۲۶

[6]     شعب الايمان للبيهقی، باب فی الصلوات، فصل فی الجماعة، الحديث:۲۸۸۲، ج۳، ص ۶۱ عن انس

[7]     ترجمہ: میں  گواہی دیتا ہوں  کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی معبود نہیں     اور میں  یہ گواہی بھی دیتا ہوں  کہ حضرت سیِّدُنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے چنے ہوئے اور اس کے بنائے ہوئے ہیں      اور حضرت سیِّدُنا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَاماللہ عَزَّ وَجَلَّ کے خلیل ہیں      اور حضرت سیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَاماللہ عَزَّ وَجَلَّ کے کلیم ہیں      اور حضرت سیِّدُنا عیسیٰ

Total Pages: 332

Go To