Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

            ایک مشہورروایت میں ہےکہ دوجہاں کےتاجْوَر،  سلطانِ بَحروبَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  دریافت کیا گیاکہ کون ساعمل سب سے افضل ہے؟توآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:  ’’نمازکووقت پر ادا کرنا۔‘‘([1])

            ایک روایت میں   ہے کہ نماز کا وقتِ اوّل اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضامندی کی علامت ہے اور وقتِ اخیر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے عفو وکرم کی علامت ہے۔  ([2])

            منقول ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کی رضا نیکو کاروں   کے لئے ہے اور اس کا عفو و کرم گناہ گاروں   کے لئے ہے۔ ([3])

پس نماز کا ابتدائی وقت دین کی عزیمت اور نماز کی حفاظت کرنے والوں   اور اسے  قائم کرنے والوں   کا طریقہ ہے اور وقتِ ثانی دین میں   رخصت،   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی وسعت اور غافلین کے لئے رحمت ہے۔

٭ ٭ ٭

٭قیامت کا سب سے  پہلا سوال٭

شہنشاہِ مدینہ،   قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ارشادِ حقیقت بنیاد ہے: قیامت کے دن بندے کے اعمال میں سے  پہلے نماز کا سوال ہو گا،   اگر وہ درست ہوئی تو اسنے کامیابی پائی اور اگر اس میں کمی ہوئی تو وہ رسوا ہوا اور اسنے نقصان اٹھایا۔  (کنز العمال،   الحدیث۱۸۸۸۳،   ج۷،   ص ۱۱۵)

فصل: 11

رات اور دن کی نمازوں   کی فضیلت

گھر آتے جاتے نَفْل پڑھنے کی فضیلت: 

        حضرت سیِّدُنا ابو سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  اور حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے  مروی ہے ،   آپ دونوں   فرماتے ہیں   کہ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ ہدایت نشان ہے:  ’’جب تم اپنے گھر سے  باہر نکلنے لگو تو دو رکعت ادا کر لیا کرو،   وہ تمہیں   باہر کی برائی سے  محفوظ رکھیں   گی اور جب اپنے گھر میں   داخل ہو تو بھی دو رکعت ادا کر لیا کرو کہ یہ تمہیں   گھر کے اندر کی برائی سے  محفوظ رکھیں   گی۔ ‘‘   ([4])

حج اور عمرہ کا ثواب: 

            حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے  مروی ہے کہ سرکارِ والا تَبار،   شفیعِ روزِ شُمار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نمازِ فجر کے متعلق ارشاد فرمایا:  ’’جس نے اچھی طرح وضو کیا،   پھر اس مسجد کی جانب چلا جس میں   نماز پڑھی جاتی ہے تو ہر قدم کے بدلے اسے  ایک نیکی ملتی ہے اور ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے،   جبکہ نیکی کا اجر دس گنا ہوتا ہے اور جب وہ نماز ادا کر کے طلوعِ آفتاب کے وقت واپس لوٹتا ہے تو اس کے جسم پر موجود ہر ہر بال کے عوض ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور وہ ایک مبرور حج کا ثواب پا کر لوٹتا ہے،   لیکن اگر وہ وہیں   بیٹھ جائے اور نفل پڑھتا رہے تو اس کے ہر جلسہ کے عوض دس لاکھ نیکیاں   لکھی جاتی ہیں   اور جو نمازِ عشا ادا کرے اس کے لئے بھی اسی قدر نیکیاں   لکھی جاتی ہیں   لیکن وہ عمرہ اور حج مبرور کا ثواب لے کر لوٹتا ہے۔ ‘‘    ([5])

ستر ہزار فرشتے دعائے مغفرت کرتے ہیں  : 

        شہنشاہِ مدینہ،   صاحبِ معطر پسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ فضیلت نشان ہے :  ’’جو زوال کے بعد چار رکعت ادا کرے اور ان میں   خوب عمدگی سے  قِراءَت اور رکوع و سجود کرے تو 70 ہزار فرشتے اس کے ساتھ نماز پڑھتےہیں   جو شام تک اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں  ۔ ‘‘   ([6])

آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں  : 

            سرکارِ مدینہ،   باعثِ نُزولِ سکینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کبھی بھی زوال کے بعد کی چار رکعت ترک نہ فرمائیں  ،   آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان میں   طویل قِراءت فرمایا کرتے اور ارشاد فرماتے کہ اس ساعت میں   آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں   اور میں   پسند کرتا ہوں   کہ اس وقت بھی میرا عمل بلند ہو۔ پس عرض کی گئی: ’’یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا ان چار رکعتوں   میں   سلامِ فاصل  (یعنی دو رکعت کے بعد سلام) بھی ہے۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’نہیں  ۔ ‘‘   ([7])

عصر کی سنتوں   کی فضیلت: 

            سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ رحمت نشان ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس بندے پر رحم فرمائے جو عصر سے  پہلے چار رکعت پڑھتا ہے۔  ([8])

 



[1]     صحيح البخاری، کتاب التوحيد، باب سمی النبی     الخ، الحديث: ۷۵۳۴، ص۶۲۹

[2]     السنن الکبریٰ للبيهقی، کتاب الصلاة، باب الترغيب فی التعجيل     الخ، الحديث: ۲۰۴۸، ج۱، ص۶۳۹

[3]     شرح السنة للبغوی، کتاب الصلاة، باب تعجيل الصلوات، ج۲، ص۱۶

[4]     شعب الايمان للبيهقی، باب فی الصلوات، فضل الاذان  الخ، الحدیث: ۳۰۷۸، ج۳، ص۱۲۴

[5]     تاريخ مدينة دمشق، الرقم ۲۴۶۷سعيد، الحديث: ۴۷۱۳، ج۲۱، ص۴۷

[6]     طبقات الشافعية الکبریٰ، الطبقة الخامسة، ج۶، ص۲۹۶

[7]     المسند للامام احمد بن حنبل، حديث ابی ايوب انصاری، الحديث:۲۳۵۹۱، ج۹، ص۱۳۸ مفهوماً

[8]     سنن ابی داود، کتاب التطوع، باب الصلاة قبل العصر، الحدیث: ۱۲۷۱، ص۱۳۱۷ ’’عبدا‘‘ بدله ’’امرئ



Total Pages: 332

Go To