Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

(۴) … چوتھا زوال وہ ہے جسے  اہلِ نجوم فلک کی پیمائش اور افلاک کی ترکیب سے  پہچانتے ہیں  ۔

 (۵) … پانچویں   زوال کو حساب دان اور تقویم کے ماہرین آلات وغیرہ کے ذریعے جان لیتے ہیں  ۔

  (۶) … چھٹے زوال کا علم مؤذنوں   اور وقت کا دھیان رکھنے والے افراد کو ہوتا ہے۔

 (۷) … اور ساتویں   زوال کے وقت کو تمام لوگ پہچانتے ہیں  ۔ اس وقت میں   نماز پڑھی جاتی ہے ۔

سورج کی رفتار: 

            مروی ہے کہ سرکارِ والا تَبارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیِّدُنا جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام  سے  دریافت فرمایا: ’’کیا زوالِ شمس کا وقت ہو گیا ہے؟ ‘‘  انہوں  نے عرض کی:  ’’نہیں  ،   ہاں  ۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پوچھا یہ کیسے  ہو سکتا ہے؟ تو انہوں  نے عرض کی :  ’’میرے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  صرف ’’نہیں  ،   ہاں   ‘‘  کہنے کے دوران سورجنے فلک میں   پچاس ہزار فرسخ کا فاصلہ طے کر لیا تھا۔ ‘‘   ([1])

نماز وں   کی ادائیگی کے افضل اوقات

نمازِ مغرب کا افضل وقت: 

            نمازِ مغرب کا افضل وقت یہ ہے کہ جب سورج کی ٹکیہ آنکھوں   سے  غائب ہو تو فوراً نماز ادا کر لی جائے۔ چنانچہ،   

            مروی ہے کہ امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک بار نمازِ مغرب تاخیر سے  ادا کی حتی کہ ایک ستارہ طلوع ہوگیا تو آپ نے ایک غلام آزاد کیا اور حضرت سیِّدُنا ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے متعلق مروی ہے کہ انہوں  نے ایک بار نمازِ مغرب تاخیر سے  ادا کی یہاں   تک کہ دو ستارے طلوع ہو گئے تو انہوں  نے دو غلام آزاد کئے۔  ([2])

نمازِ عشا کا افضل وقت: 

            نمازِ عشا کی ادائیگی کا بہتر وقت اگرچہ شفقِ ثانی یعنی مغرب کی جانب نظر آنے والی سفیدی کے ختم ہو جانے اور اس کی جگہ تاریکی کے چھا جانے کے بعد ہے لیکن اسے  رات کے چوتھائی حصے ([3]) تک مؤخر کرنا زیادہ افضل ہے بشرطیکہ نیند نہ آئے۔ مگر اس کی ادائیگی سے  قبل سو جانا انتہائی مکروہ ہے۔ نمازِ عشا کی ادائیگی کا مسنون وقت یہ ہے کہ تیسری رات کا چاند جس وقت غائب ہوتا ہے اس وقت پڑھی جائے،   یہ تقریباً رات کاساڑھے ساتواں   حصہ بنتا ہے،   چنانچہ،   مروی ہے کہ رسولِ اَکرم،  شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نماز عشا اس وقت ادا فرمائی جب تیسری رات کا چاند غائب ہو گیا تھا۔ ([4])

نمازِ فجر کا افضل وقت: 

            نمازِ فجر کی ادائیگی میں   افضل وقت وہ ہے جب صبح صادق طلوع ہو جائے  ([5])  اور نمازِ فجر میں   مسنون یہ ہے کہ طوالِ مفصل ([6]) یا مثانی ([7]) میں   سے  کوئی سورت تلاوت کی جائے،   اس لئے کہ یہ  (تعدادِ رکعات میں  )  چھوٹی ہے اور اس میں   طویل قیام کرنا اس کے چھوٹے ہونے کا عوض بن جائے گا۔ جب فجر کا وقت متوسط ہو اور نمازیوں   کی کثرتِ تعداد مقصود ہو تو ستارے ڈوبنے سے  پہلے یہ نماز پڑھنا بہتر ہے،   لیکن نمازیوں   کی کثرت کا لحاظ کرتے ہوئے اتنی تاخیر کرنا کہ سرخی کے نیچے روشنی پھیلنے لگے صحیح نہیں  ،   البتہ نمازی تھوڑے ہوں   تو منہ اندھیرے نماز ادا کرنا زیادہ افضل ہے۔

اوّل وقت میں   نماز کی ادائیگی کے فضائل: 

        تمام نمازوں   کے ابتدائی اوقات کی حفاظت کرنا سب سے  بہتر عمل ہے اور اس کے متعلق صاحب ِجُودو نوال،   رسولِ بے مثال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  مروی ہے کہ ابتدائی وقت میں   ادا کی گئی نماز کو آخر وقت میں   ادا کی گئی نماز پر ایسی فضیلت حاصل ہے جو آخرت کو دنیا پر ہے۔  ([8])  ایک روایت میں   ہے کہ بندہ آخری وقت میں   نماز ادا کرتا ہے حالانکہ ابتدائی وقت اس کے لئے دنیا و مافیہا سے  بہتر ہے۔  ([9])

 



[1]     ارشاد الساری، کتاب مواقيت الصلاة، باب وقت الظهر عند الزوال، تحت الحديث: ۵۴۰، ج۲، ص۲۱۸ خمسين الف فرسخ بدله مسيرة خمس مائة عام    

[2]     اتحاف السادة المتقين، کتاب اسرار الصلاة، الباب السابع، القسم الاول، ج۳، ص۵۸۲

[3]     عشا میں  تہائی رات تک تاخیر مستحب ہے اور آدھی رات تک تاخیر مباح یعنی جب کہ آدھی رات ہونے سے پہلے فرض پڑھ چکے اور اتنی تاخیر کہ رات ڈھل گئی مکروہ ہے ،کہ باعثِ تقلیل جماعت ہے۔ نماز عشا سے پہلے سونا اور بعد نماز عشا دنیا کی باتیں  کرنا، قصے کہانی کہنا سننا مکروہ ہے، ضروری باتیں  اور تلاوت قرآن مجید اور ذکر اور دینی مسائل اور صالحین کے قصے اور مہمان سے بات چیت کرنے میں  حرج نہیں ۔ (بہارِ شریعت، ج۱، ص ۴۵۳)

[4]     سننِ ابي داود، کتاب الصلاة، باب وقت العشاء الاخرة، الحديث: ۴۱۹، ص ۱۲۵۴  دون قوله ليلة

[5]     فجر میں  تاخیر مستحب ہے، یعنی اسفار میں  (جب خوب اجالا ہو یعنی زمین روشن ہو جائے) شروع کرے مگر ایسا وقت ہونا مستحب ہے، کہ چالیس سے ساٹھ آیت تک ترتیل کے ساتھ پڑھ سکے پھرسلام پھیرنے کہ بعد اتنا وقت باقی رہے ،کہ اگر نماز میں  فساد ظاہر ہو تو طہارت کرکے ترتیل کے ساتھ چالیس سے ساٹھ آیت تک دوبارہ پڑھ سکے اور اتنی تاخیر مکروہ ہے کہ طلوع آفتاب کا شک ہو جائے۔  (بہارِ شریعت، ج۱، ص ۴۵۱)

[6]     مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الامَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان’’مراٰۃ المناجیح‘‘ جلد 3 صفحہ 288 پر فرماتے ہیں  کہ قرآن کریم کی تقسیم یوں  ہے کہ اوّل قرآن کا نام مثانی ہے اس کے بعد مئین ، پھر تواں  یا توابع پھر مفصّل، سورہ حجرات سے آخر قرآن کا نام مفصل ہے مثانی سورت فاتحہ کا نام بھی ہے اور سارے قرآن کریم کا بھی اور اس کی اگلی سات سورتوں  کا بھی۔

[7]     حجرات سے آخر تک قرآن مجید کی سورتوں  کو مفصل کہتے ہیں ، اس کے یہ تین حصّے ہیں ، سورۂ حجرات سے بروج تک طوال مفصل اور بروج سے لم یکن تک اوساط مفصل اور لم یکن سے آخر تک قصار مفصل۔ (بہارِ شریعت، ج۱، ص ۵۴۶)

[8]     اخبار اصبهان لابی نعيم، باب العين من اسمه علی، الحديث: ۴۰۰۸۰، ج۵، ص۳۸۷

[9]     سنن دار قطني، کتاب الصلاة، باب النهی عن الصلاة     الخ، الحديث: ۹۶۸، ج۱، ص ۳۴۱ مفهوماً



Total Pages: 332

Go To