Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

            اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پہلے دن اسی وقت نماز ادا فرمائی اور دوسرے دن ظہر اس وقت ادا فرمائی جب ہر شے کا سایہ اس کی مثل ہو گیا،    ([1]) جس سے  معلوم ہوا کہ یہ وقت ظہر کی انتہا اور عصر کی ابتدا کا ہے،   پھر اس کے بعد نمازِ عصر اس وقت ادا فرمائی جب ہر شے کا سایہ دو مثل ہو گیا اور ارشاد فرمایا کہ ان نمازوں   کے اوقات ان دونوں   وقتوں   کے درمیان ہیں۔ ([2])  

            زوال کی مکمل معلومات حاصل کرنا فرض نہیں   بلکہ جب سورج کے زوال کا یقین ہو جائے تو نماز ظہر فرض ہو جاتی ہے پس اب آپ نمازِ ظہر اس وقت تک ادا کر سکتے ہیں   جب تک کہ ہر شے کا سایہ اس کی مثل نہ ہو جائے،   کہ یہ ظہر کا آخری اور عصر کا ابتدائی وقت ہے ،   اس کے بعد نمازِ عصر ادا کریں   یہاں   تک کہ ہر شے کا سایہ اس کے سایہ کا دو مثل ہو جائے،   پس یہ عصر کا آخری مستحب وقت ہے،   اس کے بعد بھی عصر کا وقت رہتا ہے یہاں   تک کہ سورج زردی مائل ہو جائے اور غروب کے لئے جھک جائے،   یہ وقت ضروریات ہے جس میں   نماز ادا کرنا مریض یا معذور شخص کے علاوہ سب کے لئے مکروہ ہے۔ چنانچہ ، 

            سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  مروی ہے کہ جس نے سورج کے غروب ہونے سے  قبل عصر کی ایک رکعت بھی پا لی اسنے نماز پا لی اور جس نے نمازِ فجر کی ایک رکعت سورج کے طلوع ہونے سے  قبل پا لی  ([3]) اسنے نماز پا لی۔  ([4])

فرائض کی قبولیت میں   یقین ضروری ہے: 

            فرائض صرف یقین کی وجہ سے  قبول ہوتے ہیں   پس وقت شروع ہونے کا یقین ہو جانے پر نماز کی ادائیگی اس بات سے  افضل ہے کہ اسے  مشکوک وقت میں   ادا کیا جائے۔ کیا آپ نے صاحب ِجُودو نوال،   رسولِ بے مثال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ فرمانِ عالیشان نہیں   سنا:  ’’اگر تم پر بادل چھائے ہوئے ہوں   تو شعبان کے 30 دن پورے کرو۔ ‘‘   ([5])

            پس جو شخص نماز ادا کرے اور اس کا یہ خیال ہوکہ وہ وقت میں   ادا کر رہا ہے یا پھر اسنے قبلہ مجہول ہونے کی صورت میں   کسی طرف کو قبلہ جان کر نماز ادا کی ،   بعد میں   واضح ہوا کہ اسنے وقت سے  پہلے یا قبلہ سے  ہٹ کر نماز ادا کی تھی تو ایسے  شخص کو چاہئے کہ ذرا غور کر لے  (کیونکہ وقت سے  پہلے پڑھی گئی نماز ہوتی ہی نہیں   اور)  اگر وقت ابھی باقی ہو یا اسے  گزرے ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی ہو تو احتیاطاً دوبارہ ادا کر لے اور اگر وقت کافی گزر چکا ہو تو اب اس پر کچھ بھی لازم نہیں   بلکہ اسکی خطا معاف ہے،   البتہ! بہتر یہ ہے کہ جب بھی یہ نماز یاد آجائے تو دُہرا لے۔ ([6])

سورج کے سات زوال: 

        سورج کے سات زوال ہیں  ۔ ان میں   تین ایسے  ہیں   جنہیں   کوئی انسان نہیں   جانتا:

 (۱) … سورج کے پہلے زوال کا وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی نہیں   جانتا۔

 (۲) … دوسرے زوال کا وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مخلوق میں   سے  صرف وہ فرشتے جانتے ہیں   جو سورج کے نگہبان ہیں  ۔

 (۳) … تیسرے زوال کے وقت کو زمین کے فرشتے جانتے ہیں  ۔

 



[1]     سنن ابی داود، کتاب الصلاة، باب فی المواقيت، الحديث:۳۹۳، ص۱۲۵۲

[2]     دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1250 صَفحات پر مشتمل کتاب، ’’بہارِ شریعت‘‘ جلد اوّل صَفْحَہ 449 پر صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں : وقتِ ظہر آفتاب ڈھلنے سے اس وقت تک ہے، کہ ہر چیز کا سایہ علاوہ سایہ اصلی کے دو چند ہو جائے اور ہر دن کا سایہ اصلی وہ سایہ ہے، کہ اس دن آفتاب کے خط نصف النہار پر پہنچنے کے وقت ہوتا ہے اور وہ موسم اور بلاد کے مختلف ہونے سے مختلف ہوتا ہے، دن جتنا گھٹتا ہے، سایہ بڑھتا جاتا ہے اور دن جتنا بڑھتا ہے، سایہ کم ہوتا جاتا ہے، یعنی جاڑوں  میں  زیادہ ہوتا ہے اور گرمیوں  میں  کم اور ان شہروں  میں  کہ خطِ استوا کے قرب میں  واقع ہیں ،کم ہوتا ہے، بلکہ بعض جگہ بعض موسم میں  بالکل ہوتا ہی نہیں  جب آفتاب بالکل سمت راس پر ہوتا ہے، چنانچہ موسم سرما ماہِ دسمبر میں  ہمارے ملک کے عرض البلد پر کہ ۲۸ درجہ کے قریب پر واقع ہے، ساڑھے آٹھ قدم سے زائد یعنی سوائے کے قریب سایہ اصلی ہو جاتا ہے اور مکۂ معظمہ میں  جو ۰۲۱ (ساڑھے اکیس)درجہ پر واقع ہے، ان دنوں  میں  سات قدم سے کچھ ہی زائد ہوتا ہے، اس سے زائد پھر نہیں  ہوتا اسی طرح موسم گرما میں  مکۂ معظمہ میں  ۲۷ مئی سے ۳۰ مئی تک دوپہر کے وقت بالکل سایہ نہیں  ہوتا، اس کے بعد پھر وہ سایہ الٹا ظاہر ہوتا ہے، یعنی سایہ جو شمال کو پڑتا تھا، اب مکۂ معظمہ میں  جنوب کو ہوتا ہے اور ۲۲ جون تک پاؤ قدم تک بڑھ کر پھر گھٹتا ہے، یہاں  تک کہ پندرہ جولائی سے اٹھارہ جولائی تک پھر معدوم ہو جاتا ہے، اس کے بعد پھر شمال کی طرف ظاہر ہوتا ہے اور ہمارے ملک میں  نہ کبھی جنوب میں  پڑتا ہے، نہ کبھی معدوم ہوتا بلکہ سب سے کم سایہ ۲۲ جون کو نصف قدم باقی رہتا ہے۔ (از افاداتِ رضویہ) اور وقت ِ عصر بعد ختم ہونے وقت ظہر کے یعنی سوا سایہ اصلی کے دو مثل سایہ ہونے سے، آفتاب ڈوبنے تک ہے۔

[3]     مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الامَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان  فرماتے ہیں : ’’خیال رہے کہ اس بارے میں  احادیث متعارض ہیں اس حدیث سے تو معلوم ہوا کہ طلوع و غروب کے وقت نماز صحیح ہے مگر دوسری روایت میں  آیا کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان وقتوں  میں  نماز پڑھنے سے سخت منع فرمایا، لہٰذا قیاسِ شرعی کی ضرورت پڑی جو ان میں  سے ایک حدیث کو ترجیح دے، قیاسنے حکم دیا کہ اس صورت میں  عصر درست ہو گی اور فجر فاسد ہوجائے گی کیونکہ عصر میں  آفتاب ڈوبنے سے پہلے وقتِ مکروہ بھی آتا ہے یعنی سورج کا پیلا پڑنا، لہٰذا یہ شروع بھی ناقص ہوئی اور ختم بھی ناقص۔ لیکن فجر میں  آخر تک وقت کامل ہے، اس صورت میں  نماز شروع تو کامل ہوئی اور ختم ناقص۔ لہٰذا عصر میں  اس حدیث پر عمل ہے اور فجر میں  ممانعت کی حدیث پر، اس کی زیادہ تحقیق ہماری کتاب جاء الحق حصہ دوم میں  دیکھو غرضکہ سورج نکلتے وقت کوئی نماز درست نہیں  اور سورج ڈوبتے وقت اس دن کی عصر جائز ہے اگرچہ مکروہ ہے۔‘‘ (مراٰة المناجيح، کتاب الصلاة، باب تعجيل الصلاة، ج۱، ص ۳۸۳ تا ۳۸۴)

اور دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1250 صَفحات پر مشتمل کتاب، ’’بہارِ شریعت‘‘ جلد اوّل صَفحہ 701 پر صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : وقت میں  اگر تحریمہ باندھ لیا تو نماز قضا نہ ہوئی بلکہ ادا ہے۔ (درمختار) مگر نماز فجر و جمعہ و عیدین کہ ان میں  سلام سے پہلے بھی اگر وقت نکل گیا نماز جاتی رہی۔

[4]     صحيح مسلم، کتاب المساجد، باب من ادرک رکعة من    الخ، الحدیث: ۱۳۷۷، ص۷۷۲

[5]     صحيح البخاری، کتاب الصوم، باب قول النبی     الخ، الحدیث: ۱۹۰۷،۱۹۰۹، ص۹۴۱

[6]     دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1250 صَفحات پر مشتمل کتاب، ’’بہارِ شریعت‘‘ جلد اوّل صَفْحَہ 489 پر صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں : تحری کر کے نماز پڑھی، بعد کو معلوم ہوا کہ قبلہ کی طرف نماز نہیں  پڑھی، ہوگئی، اعادہ کی حاجت نہیں ۔



Total Pages: 332

Go To