Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

سنّت فجر کی ادا اور قضا کا وقت:

سنت ِ فجر کی ادائیگی کا وقت طلوعِ صبح صادق ہے۔ مستحب یہ ہے کہ نمازی فجر کی دوسنتیں   اپنے گھر میں   اور فرضوں   سے  پہلے ادا کرے،   ان میں   چھوٹی سورتیں   پڑھنا مسنون ہے۔ اگر کوئی فجر کے فرض ادا کر لے اور اسنے ابھی تک سنتیں   ادا نہ کی ہوں   تو ان کی ادائیگی کا وقت تو ختم ہو گیا مگر قضا کا وقت باقی ہے،   پس وہ ٹھہرا رہے یہاں   تک کہ سورج طلوع ہو جائے اور نماز پڑھنا جائز ہو جائے کیونکہ نمازِ اشراق سے  لے کر نمازِ ظہر تک کا وقت سنت ِ فجر کی قضا کا ہے۔ اگر کسینے ظہر کی نماز ادا کر لی لیکن ابھی تک سنت ِ فجر ادا نہ کی تھیں   تو اب ان کی قضا کا وقت بھی ختم ہو گیا۔ ([1])

وظیفہ کی قضا: 

            جس کا کوئی وظیفہ رہ جائے تو مستحب یہ ہے کہ یاد آنے پر اسی کی مثل کوئی ورد اسی وقت یا اس کے بعد والے وقت میں   ادا کر لے مگر یاد رکھے کہ یہ قضا نہ ہو گی کیونکہ قضا صرف فرائض کی ہوتی ہے اور ان وظائف کی ادائیگی کا سبب عبادت اور وظیفہ رہ جانے کے نقصان کی تلافی کرنا ہے تا کہ بندے کے پختہ عزم کی وجہ سے  نفس تاخیر اور گنجائش کا عادی نہ ہو جائے اور اس لئے بھی کہ سرکارِ دو جہان،   رحمتِ عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ ہدایت نشان ہے: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک افضل اعمال وہ ہیں جن پر ہمیشگی اختیار کی جائے اگرچہ وہ کم ہی کیوں   نہ ہوں ۔ ‘‘   ([2])

معمولات میں   سستی پر وعید:

            ام المومنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا   عبادت ترک کر دینے کے متعلق روایت فرماتی ہیں   کہ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ ہدایت نشان ہے:  ’’جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کرتا ہو پھر سستی کے باعث اسے  ترک کر دے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے  ناراض ہو جاتا ہے۔ ‘‘   ([3])

            مزید ارشاد فرماتی ہیں   کہ رسولِ بے مثال،   بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب نیند یا کسی مرض کے عارضے کی وجہ سے  رات کو عبادت نہ کر سکتے تو دن کے وقت بارہ رکعت ادا فرما لیا کرتے۔ ([4])

تَحِیَّۃُ الْمَسْجِد: 

            جو شخص نمازِ فجر کے لئے مسجد میں   داخل ہو اور اسنے سنت ِ فجر گھر میں   ادا نہ کی ہوں   تو اب ادا کر لے،   یہ سنتیں   اس کے لئے تَحِیَّۃُ الْمَسْجِد کے قائم مقام ہو جائیں   گی اور جو شخص انہیں   گھر میں   ادا کر کے آئے تو اس کا مسئلہ محلِ نظر ہے۔ مثلاً اگر وہ مسجد میں   داخل ہوا جبکہ فجر طلوع ہونے والی ہی تھی اور ستارے آپس میں   گڈ مڈ تھے تو تَحِیَّۃُ الْمَسْجِد ادا کر لے اور اگر اس کے داخل ہونے کے وقت ستارے ختم ہو چکے تھے اور اقامت کا وقت ہو چکا ہو تو

اب بیٹھ جائے اور تَحِیَّۃُ الْمَسْجِد ادا نہ کرے تا کہ وہ نمازِ فجر اور نمازِ تہجد کے درمیان کوئی اور دوسری نماز پڑھنے والا نہ بن جائے۔ ([5])

            طلوعِ صبح صادق کے بعد سوائے سنت ِ فجر کے کوئی نماز نہیں   اور جس نے ابھی تک سنت ِ فجر ادا نہ کی ہوں   تو اگر اقامت سے  قبل وقت ہو تو انہیں   ادا کر لے اور اگر وقت ِ اقامت ہو چکا ہو اور امام نماز شروع کر چکا ہو تو اب انہیں   ادا نہ کرے بلکہ فرض نماز ادا کرے کیونکہ یہی افضل ہے اور دوسرا اس لئے بھی کہ ایسا کرنے سے  منع کیا گیا ہے۔ چنانچہ،   

            مروی ہے کہ سرکارِ والا تَبار،   شفیعِ روزِ شُمار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ خوشبودار ہے:  ’’جب جماعت کھڑی ہو جائے تو اس وقت سوائے فرض نماز کے کوئی نماز نہیں    ([6] )۔‘‘  ([7])

 



[1]     عندالاحناف: فجر کی نماز قضا ہو گئی اور زوال سے پہلے پڑھ لی تو سنتیں  بھی پڑھے ورنہ نہیں  علاوہ فجر کے اور سنتیں  قضا ہو گئیں  تو انکی قضا نہیں ۔ فجر کی سنت قضا ہو گئی اور فرض پڑھ لئے تو اب سنتوں  کی قضا نہیں ۔ البتہ امام محمد رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں  کہ طلوعِ آفتاب کے بعد پڑھ لے تو بہتر ہے۔ (غنیہ) اور طلوع سے پیشتر بالاتفاق ممنوع ہے۔ آج کل اکثر عوام بعد فرض فوراً پڑھ لیا کرتے ہیں  یہ ناجائز ہے، پڑھنا ہو تو آفتاب بلند ہونے کے بعد زوال سے پہلے پڑھیں ۔ قبل طلوعِ آفتاب سنتِ فجر قضا پڑھنے کیلئے یہ حیلہ کرنا کہ شروع کر کے توڑ دے پھر ادا کرے یہ ناجائز ہے۔ سنتِ فجر پڑھ لی اور فرض قضا ہو گئے قضا پڑھنے میں  سنت کا اعادہ نہ کرے۔  (بہارِ شریعت، ج۱، ص۶۶۴)

[2]     صحيح البخاری، کتاب الرقاق، باب القصد والمداومة علی العمل، الحديث: ۶۴۶۴، ص۵۴۳

[3]     طبقات الشافعية الکبریٰ، الطبقة الخامسة، ج۶، ص۲۸۹

[4]     صحيح مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب جامع صلاة الليل، الحديث: ۱۷۳۴، ص۷۹۵

[5]     ایسے وقت مسجد میں  آیا جس میں  نَفْل نماز مکروہ ہے مثلاً بعد طلوع فجر یا بعد نماز عصر وہ تحیۃ المسجد نہ پڑھے بلکہ تسبیح و تہلیل و درود شریف میں  مشغول ہو حق مسجد ادا ہو جائے گا۔ فرض یا سنت یا کوئی نماز مسجد میں  پڑھ لی تحیۃ المسجد ادا ہوگئی اگرچہ تحیۃ المسجد کی نیت نہ کی ہو۔ اس نماز کا حکم اسکے لیے ہے جو بہ نیت نماز نہ گیا بلکہ درس و ذکر وغیرہ کے لیے گیا ہو۔ اگر فرض یا اقتدا کی نیت سے مسجد میں  گیا تو یہی قائم مقام تحیۃ المسجد ہے بشرطیکہ داخل ہونے کے بعد ہی پڑھے اور اگر عرصہ کے بعد پڑھے گا تو تحیۃ المسجد پڑھے۔ بہتر یہ ہے کہ بیٹھنے سے پہلے تحیۃ المسجد پڑھ لے اور بغیر پڑھے بیٹھ گیا توساقط نہ ہوئی اب پڑھے۔ ہر روز ایک بار تحیۃ المسجد کافی ہے ہر بار ضرورت نہیں ۔ (بہارِ شریعت، ج ۱، ص ۶۷۴)

[6]     جماعت قائم ہونے کے بعد کسی نَفْل کا شروع کرنا جائز نہیں  سوا سنت فجر کے کہ اگر یہ جانے کہ سنت پڑھنے کے بعد جماعت مل جائے گی، اگرچہ قعدہ ہی میں  شامل ہو گا تو سنت پڑھ لے مگر صف کے برابر پڑھنا جائز نہیں  ،بلکہ اپنے گھر پڑھے یا بیرون مسجد کوئی جگہ قابل نماز ہو تو وہاں  پڑھے اور یہ ممکن نہ ہو تو اگر اندر کے حصہ میں  جماعت ہوتی ہو تو باہر کے حصہ میں  پڑھے ،باہر کے حصہ میں  ہو تو اندر اور اگر اس مسجد میں  اندر باہر دو درجے نہ ہوں  تو ستون یا پیڑ کی آڑ میں  پڑھے کہ اس میں  اور صف میں  حائل ہو جائے اور صف کے پیچھے پڑھنا بھی ممنوع ہے اگرچہ صف میں  پڑھنا زیادہ بُرا ہے۔ آج کل اکثر عوام اس کا بالکل خیال نہیں کرتے اور اسی صف میں  گھس کر شروع کر دیتے ہیں  یہ ناجائز ہے اور اگر ہنوز جماعت شروع نہ ہوئی تو جہاں  چاہے سنتیں  شروع کرے خواہ کوئی سنت ہو۔ مگر جانتا ہو کہ جماعت جلد قائم ہونے والی ہے اور یہ اُس وقت تک سنتوں  سے فارغ نہ ہوگا تو ایسی جگہ نہ پڑھے کہ اس کے سبب صف قطع ہو۔ امام کو رکوع میں  پایا اور یہ نہیں  معلوم کہ پہلی رکعت کا رکوع ہے یا دوسری کا تو سنت ترک کرے اور مل جائے۔   (بہارِ شریعت، ج ۱، ص ۶۷۴ )

[7]     صحيح مسلم، کتاب الصلاة، باب کراهية الشروع فی نافلة، الحديث: ۱۶۴۴، ص۷۸۹



Total Pages: 332

Go To