Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور کچھ رات میں   اس کی پاکی بولو اور تاروں   کے پیٹھ دیتے ۔

یہاں   تسبیح سے  مراد فجر کی دو رکعتیں   ادا کرنا ہے،   اس کے بعد یہ پڑھے: (نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ سَخَطِكَ)   ([1])  اور پھر یہ آیتِ مبارکہ پڑھے:

شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۙ-وَ الْمَلٰٓىٕكَةُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآىٕمًۢا بِالْقِسْطِؕ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُؕ (۱۸)  (پ۳،   اٰل عمران:  ۱۸)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اللہنے گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں   اور فرشتوں  نے اور عالموں نے انصاف سے  قائم ہو کر اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں   عزت والا حکمت والا۔

            اس کے بعد یہ دعا مانگے:  (اَنَا اَشْہَدُ بِمَا شَہِدَ اللّٰہُ بِہٖ لِنَفْسِہٖ وَشَہِدَتْ بِہِ مَلٰٓـئِكَتُہٗ وَاُولُو الْعِلْمِ مِنْ خَلْقِہٖ،   وَاسْتَوْدِ عُ اللّٰہَ الْعَظِیْمَ ھٰذِہِ الشَّہَادَۃَ وَھِیَ لِیْ عِنْدَ اللّٰہِ وَدِیْعَۃٌ حَتّٰی یُؤَدِّیْہَا وَاَسْاَلُہٗ حِفْظَہَا حَتّٰی یَتَوَفَّانِیَ اللّٰہُ عَلَیْہَا۔ اَللّٰھُمَّ احْطُطْ بِہَا عَنِّیْ وِزْرًا،   وَاجْعَلْ لِّیْ بِہَا عِنْدَكَ ذُخْرًا،   وَاحْفَظْنِیْ بِہَا وَاحْفَظْہَا عَلَیَّ،   وَتَوَفَّنِیْ عَلَیْہَا حَتّٰۤی اَلْقَاكَ بِہَا غَیْرَ مُبَدَّلٍ تَبْدِیْلًا)

تر جمعہ : میں   گواہی دیتا ہوں   اس بات کی جس کی گواہی اللّٰه عَزَّ وَجَلَّ نے بذاتِ خود دی اور اس کے فرشتوں  نے اور اس کی مخلوق میں   سے  صاحبِ علم لوگوں  نے دی ہے،   میں   اس گواہی کو اللّٰه عَزَّ وَجَلَّ  جو عظمتوں   والا ہے کی بارگاہ میں   بطورِ امانت پیش کرتا ہوں   کہ یہ گواہی اس کی بارگاہ میں   میری امانت ہو یہاں   تک کہ وہ اسے  ادا کر دے اور میں   اس سے  اس گواہی کی حفاظت کا سوال کرتا ہوں   یہاں   تک کہ وہ مجھے اسی گواہی پر موت عطا فرمائے۔ اے اللّٰه عَزَّ وَجَلَّ  ! اس گواہی کی وجہ سے  میرے گناہوں   کا بوجھ مجھ سے  دور فرما دے،   اسے  میرے لئے اپنی بارگاہ میں   ذخیرہ بنا،   اس کی اور اس کے صدقے میری حفاظت فرما اور مجھے اسی گواہی پر موت عطا فرما یہاں   تک کہ میں   تجھ سے  اس حالت میں   ملاقات کروں   کہ اس میں   کوئی تبدیلی نہ ہو ئی ہو۔

            رات اور دن کے وظائف میں   سے  سب سے  افضل کام اپنے ذمہ واجب الادا فرائض کی بجا آوری اور اپنے کسی مومن بھائی کی ضرورت پوری کرنا ہے،   نماز قرآنِ کریم میں   غورو فکر کرنے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ   کا مشاہدہ کرنے میں   بندے کی معاون ہوتی ہےکیونکہ یہ جملہ عبادات کا مجموعہ ہے۔

اس کے بعد حاضر دماغی اور دل سے  ہر چیز کو نکال کر قرآنِ کریم کی تلاوت کرے۔ پھر اس کے بعد ذکر و فکر میں   سے  جس کی بھی توفیق ہو تو خشوع و خضوع اور مشاہدۂ غیب کے ساتھ کرے،   کیونکہ یہ تمام اعمال سے  افضل ہے۔

٭ ٭ ٭

فصل: 9

سُنَّتِ فَجْر اور وِتْر کی اَدا و قَضا کے اَحْکام

            اس فصل میں   نمازِ فجر کا وقت،   اس کی سنتوں   کے ادا و قضا اور وتر اور اس کی ادا و قضا کا حکم بیان کیا گیا ہے۔

وقتِ فجر کی پہچان: 

            ماہِ قمری میں   دو راتیں   ایسی ہیں   جن میں   وقت ِ فجر  ([2])   معلوم ہو سکتا ہے:

٭ جس رات چاند صبح کاذب کے وقت طلوع ہوتا ہے،   یہ مہینے کی چھبیسویں   رات ہے۔

٭ اور جس رات چاند صبح صادق کے وقت غائب ہوتا ہے،   یہ مہینہ کی بارہویں   رات ہوتی ہے۔

نمازِ وِتر کی ادا اور قضا کا وقت: 

            نمازِ وتر کی ادائیگی کا وقت نمازِ عشا کے بعد سے  لے کر صبح صادق کے طلوع ہونے تک ہے۔ صبح صادق کے طلوع ہونے کے بعد وتر کی ادائیگی کا وقت ختم ہو جاتا ہے مگر قضا کا وقت اب بھی باقی ہے،   جس نے ابھی تک وتر ادا نہ کئے ہوں   اسے  چاہئے کہ نمازِ فجر سے  پہلے پہلے ادا کر لے کہ اگر اسنے صبح کی نماز یعنی نمازِ فجر پڑھ لی تو وتروں   کی قضا کا وقت بھی نہ رہے گا۔ ([3])

 



[1]     ترجمہ:ہم اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ مانگتے ہیں   اس کی ناراضی سے۔

[2]     دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1250 صَفحات پر مشتمل کتاب، ’’بہارِ شریعت‘‘ جلد اوّل صَفْحَه 447پر ہے: وقت فجر طلوع صبح صادق سے آفتاب کی کرن چمکنے تک ہے۔ صبح صادق ایک روشنی ہے کہ پورب (مشرق) کی جانب جہاں  سے آج آفتاب طلوع ہونے والا ہے اسکے اوپرآسمان کے کنارے میں  دکھائی دیتی ہے اور بڑھتی جاتی ہے، یہاں  تک کہ تمام آسمان پر پھیل جاتی اور زمین پر اجالا ہو جاتا ہے اور اس سے قبل بیچ آسمان میں  ایک دراز سپیدی ظاہر ہوتی ہے، جسکے نیچے سارا اُفق سیاہ ہوتا ہے، صبح صادق اسکے نیچے سے پھوٹ کر جنوباً شمالاً دونوں  پہلوؤں  پر پھیل کر اوپر بڑھتی ہے، یہ دراز سپیدی اس میں  غائب ہو جاتی ہے، اسکو صبح کاذب کہتے ہیں ، اس سے فجر کا وقت نہیں  ہوتا یہ جو بعضنے لکھا کہ صبح کاذب کی سپیدی جاکر بعد کو تاریکی ہو جاتی ہے، محض غلط ہے، صحیح وہ ہے جو ہمنے بیان کیا۔ مختار یہ ہے کہ نماز فجر میں  صبح صادق کی سپیدی چمک کر ذرا پھیلنی شروع ہو اس کا اعتبار کیا جائے اور عشا اور سحری کھانے میں  اس کے ابتدائے طلوع کا اعتبار ہو۔ صبح صادق چمکنے سے طلوع آفتاب تک ان بلاد (یعنی بریلی شریف) میں  کم از کم ایک گھنٹا اٹھارہ منٹ ہے اور زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹا پینتیس منٹ نہ اس سے کم ہو گا نہ اس سے زیادہ، اکیس مارچ کو ایک گھنٹا اٹھارہ منٹ ہوتا ہے، پھر بڑھتا رہتا ہے، یہاں  تک کہ ۲۲ جون کو پورا ایک گھنٹا ۳۵ منٹ ہوجاتا ہے پھر گھٹنا شروع ہوتا ہے، یہاں  تک کہ ۲۲ ستمبر کو ایک گھنٹا ۱۸ منٹ ہو جاتا ہے، پھر بڑھتا ہے، یہاں  تک کہ ۲۲ دسمبر کو ایک گھنٹا ۲۴ منٹ ہو تاہے، پھر کم ہوتا رہتا ہے یہاں  تک کہ ۲۱ مارچ کو وہی ایک گھنٹا اٹھارہ منٹ ہو جاتا ہے، جو شخص وقت صحیح نہ جانتا ہو اسے چاہيے کہ گرمیوں  میں  ایک گھنٹا ۴۰ منٹ باقی رہنے پر سحری چھوڑ دے خصوصاً جون جولائی میں  اور جاڑوں  میں  ڈیڑھ گھنٹا رہنے پر خصوصاً دسمبر جنوری میں  اورمارچ و ستمبر کے اواخرمیں  جب دن رات برابر ہوتا ہے، تو سحری ایک گھنٹا چوبيس منٹ پر چھوڑ ے اور سحری چھوڑنے کا جو وقت بیان کیا گیا اس کے آٹھ دس منٹ بعد اَذان کہی جائے تاکہ سحری اور اَذان دونوں  طرف احتیاط رہے، بعض ناواقف آفتاب نکلنے سے دو پونے دو گھنٹے پہلے اَذان کہہ دیتے ہیں  پھر اسی وقت سنت بلکہ فرض بھی بعض دفعہ پڑھ لیتے ہیں ، نہ یہ اَذان ہو نہ نماز، بعضوں نے رات کا ساتواں  حصہ وقتِ فجر سمجھ رکھا ہے یہ ہرگز صحیح نہیں  ماہِ جون و جولائی میں  جب کہ دن بڑا ہوتا ہے اور رات تقریباً دس گھنٹے کی ہوتی ہے، ان دنوں  تو البتہ وقت صبح رات کا ساتواں  حصہ یا اس سے چند منٹ پہلے ہو جاتا ہے، مگر دسمبر جنوری میں  جب کہ رات چودہ گھنٹے کی ہوتی ہے، اسوقت فجر کا وقت نواں  حصہ بلکہ اس سے بھی کم ہو جاتا ہے۔ ابتدائے وقت فجر کی شناخت دشوار ہے، خصوصاً جب کہ گرد و غبار ہو یا چاندنی رات ہو لہٰذا ہمیشہ طلوع آفتاب کا خیال رکھے کہ آج جس وقت طلوع ہوا دوسرے دن اسی حساب سے وقت متذکرۂ بالا کے اندر اندر اَذان و نماز فجر ادا کی جائے۔   (از افاداتِ رضویہ)

[3]     عندالاحناف: وتر کی نماز قضاء ہو گئی تو قضا پڑھنی واجب ہے اگرچہ کتنا ہی زمانہ ہو گیا ہو، قصداً قضا کی ہو یا بھولے سے قضا ہو گئی اور جب قضا پڑھے، تو اس میں  قنوت بھی پڑھے۔ البتہ قضا میں  تکبیر قنوت کے لئے ہاتھ نہ اٹھائے جب کہ لوگوں  کے سامنے پڑھتا ہو کہ لوگ اس کی تقصیر پر مطلع ہوں  گے۔

 (بہارِ شریعت، ج ۱، ص ۶۵۷)



Total Pages: 332

Go To