Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

میں   اپنی حاجات میری بارگاہ میں   پیش کیا کرو۔ ‘‘   ([1])

رات کا چوتھا وظیفہ: 

            رات کے چوتھے وظیفے کا وقت دو صبحوں   کے درمیان ہے،   ایک صبح سے  مراد صبح کاذب ہے کہ جب سورج کی کرنوں   کے آثار ظاہر ہوتے ہیں   اور سفیدی آسمان کے وسط میں   پھیل جاتی ہے،   یہ سفیدی صبح کاذب کے طلوع ہونے کی مقدار تک اپنا سفر طے کرنے کے بعد غروب ہو جاتی ہے۔ پس اس وقت وہ سفیدی نہ صرف ختم ہو جاتی ہے بلکہ رات کی تاریکی دوبارہ لوٹ آتی ہے ۔یہ رات کی تیسری تہائی ہے۔ اسی وقت کے متعلق مروی ہے کہ عرش حرکت کرتا ہے،   جنّت عدن سے  ہوائیں   چلتی ہیں  ،   جبار عَزَّ وَجَلَّ  آسمانِ دنیا پر تجلی فرماتا ہے۔

            اسی وقت کے متعلق ایک روایت میں   ہے کہ جب محبوب ربِّ داور،   شفیعِ روزِ مَحشر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  دریافت کیا گیا کہ رات کا کون سا حصہ افضل ہے؟ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”رات کا بقیہ آدھا حصہ۔“ ([2])

رات کا پانچواں   وظیفہ: 

            اس کا وقت صبح صادق سے  کچھ دیر پہلے ہے کہ جس میں   سحری کرنا مستحب ہے۔ جس نے صبح کاذب میں   سحری نہکی تو اس پر صبح صادق اچانک کسی لمحہ بھی طلوع ہو سکتی ہے،   اس وقت کی مقدار قرآنِ کریم کا ایک پارہ پڑھنے کے برابر ہے۔ اس پانچویں   وظیفے میں   استغفار اور تلاوتِ قرآنِ کریم مستحب ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس کا تذکرہ یوں   فرمایا ہے:

وَ قُرْاٰنَ الْفَجْرِؕ-اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًا (۷۸)  (پ۱۵،  بنی اسرآءیل:  ۷۸)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور صبح کا قرآن بیشک صبح کے قرآن میں   فرشتے حاضر ہوتے ہیں  ۔

            منقول ہے کہ اس وقت رات اور دن کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں  ۔ یہی وجہ ہے کہ جس صلاۃ الوسطیٰ کی محافظت کی تلقین اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے فرمائی ہے،   اس کی عظمت وشرافت کا اعتبار کرتے ہوئے اہلِ حجاز اس سے  نمازِ فجر مراد لیتے ہیں   کیونکہ یہ وقت رات کے اختتام اور دن کی ابتدا کی حیثیت رکھتا ہے۔

            یہ وظیفہ رات کے وظائف میں   انتہائی مختصر لیکن بہت زیادہ فضیلت والا ہے،   اس کا وقت صبح کاذب کے بعد صبح صادق کے طلوع ہونے سے  کچھ دیر پہلے کا ہے۔ البتہ! رات کی عبادت میں   نصف رات کی نماز سے  بہتر کوئی شے نہیں   جو کہ رات کے وظائف میں   تیسرا وظیفہ ہے۔ جو شخص رات کے اس حصے میں   بیدار ہو تو اس کے لئے نماز پڑھنا بہتر ہے کہ اس میں   نماز پڑھنا فضل وشرف ہے جو رات کی ابتدا میں   مغرب اور عشا کے درمیان نماز پڑھنے کے مشابہ ہے۔

            ایک طویل روایت میں   ہے کہ حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے بھائی حضرت سیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  جس رات ملاقات کی تو انہیں   اِسی وقت میں   نماز پڑھنے کا حکم دیا تھا۔ چنانچہ اس روایت کے آخر میں   ہے کہ جب رات کے وقت حضرت سیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نماز کے لئے جانے لگے تو حضرت سیِّدُنا سلمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: ’’سوئے رہیں  ۔ ‘‘  وہ سو گئے اور جب دوبارہ جانے لگے تو پھر ارشاد فرمایا: ’’سوئے رہیں  ۔ ‘‘  وہ پھر سو گئے اور جب صبح کا وقت قریب ہوا تو حضرت سیِّدُنا سلمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا کہ اب اٹھ جائیں  ،   پھر دونوں  نے نماز پڑھی،   اس کے بعد حضرت سیِّدُنا سلمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: ’’اے ابو درداء! یقیناً آپ پر آپ کے نفس کا،   آپ کی بیوی کا،   آپ کے ربّ کا اور آپ کے مہمان کا یعنی سب کا حق لازم ہے،   پس ہر ایک حقدار کا حق اسے  دیا کریں  ۔ ‘‘  اس کا سبب یہ تھا کہ حضرت سیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی زوجۂ محترمہنے حضرت سیِّدُناسلمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بتایا تھا کہ وہ رات بھر آرام نہیں   فرماتے۔ راوی فرماتے ہیں   کہ صبح دونوں   تاجدارِ رِسالت صَلَّی اللہُ

تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہِ بے کس پناہ میں   حاضر ہوئے اور سارا ماجرا عرض کیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا کہ سلماننے سچ کہا ہے۔ ([3])

            پانچواں   وظیفہ یعنی صبح صادق سے  قبل کا یہ وقت فضیلت میں   غروبِ آفتاب سے  قبل دن کے ساتویں   وظیفے سے  مشابہ ہے اور صبح صادق  ([4]) سے  مراد سورج کی اس سفید روشنی کا ظاہر ہونا ہے جس کے بعد سرخی ہوتی ہے اور اسے  شفق ثانی بھی کہا جاتا ہے۔ پس یہ وقت رات کے پانچویں   وظیفے کے اختتام کا ہے۔ اس وَقت وِتر ادا کرنے چاہئیں  ۔ جب فجر طلوع ہو جائے تو رات کے پانچوں   وظائف کا وقت ختم ہو کر دن کے وظائف کا آغاز ہو جاتا ہے۔

محاسبۂ نفس: 

            اے بندۂ مسکین! ذرا غور تو کر کہ جب رات آئی تو تیرا شمار عابدین میں   ہوا یا رات گزر جانے پر پھر غافلین میں   شامل ہو گیا اور فکر کر کہ تونے اس رات میں   کیسا لباس زیبِ تن کیا؟ کیونکہ رات کو بھی ایک لباس بنایا گیا ہے،   تو کیا تونے اس میں   بیدار رہ کر نورانی لباس پہنا کہ جس سے  تجھے کبھی ختم نہ ہونے والا نفع حاصل ہوتا؟ یا پھر تجھے اس راتنے تاریکی کا لباس پہنا دیا ہے؟ اگر ایسا ہے تو تیری غفلت کی وجہ سے  تیرا شمار ان لوگوں   میں   ہونے لگا ہے جن کے جسم مردہ ہونے کی وجہ سے  دل بھی مردہ ہو چکے ہیں  ۔

 رات کے وظائف ختم ہونے کے بعد کا وقت: 

            بندے کو چاہئے کہ رات کے وظائف ختم ہونے کے بعد دو رکعت نمازِ فجر ادا کرے اور یہی مفہوم اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کے اس فرمانِ عالیشان میں   بیان کیا گیا ہے:

وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اِدْبَارَ النُّجُوْمِ۠ (۴۹)  (پ۲۷،  الطور:  ۴۹)

 



[1]     اتحاف السادة المتقين، کتاب ترتيب الاوراد، بيان اوراد الليل، ج۵، ص۶۸۲

[2]     المسند للامام احمد بن حنبل، حديث ابی ذر الغفاری، الحديث: ۲۱۶۱۱، ج۸، ص۱۳۳

[3]     جامع الترمذی، ابواب الزهد، باب فی اعطاء حق النفس، الحديث: ۲۴۱۳، ص۱۸۹۴

[4]     دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1250 صَفحات پر مشتمل کتاب، ’’بہارِ شریعت‘‘ جلد اوّل صَفْحَه 55 پر ہے: صبح صادق ایک روشنی ہےکہ مشرق کی جانب جہاں   سے آج آفتاب طلوع ہونے والا ہے اس کے اوپر آسمان کے کنارے میں   جنوباً شمالاً دکھائی دیتی ہے اور بڑھتی جاتی ہے ، یہاں   تک  کہ تمام آسمان پر پھیل جاتی ہے اور زمین پر اجالا ہو جاتا ہے۔



Total Pages: 332

Go To