Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

کی فضیلت مروی ہے اور بعض اس وقت سوتے جب نیند کے غلبہ کی بنا پر نماز اور ذکر سے  عاجز آ جاتے۔ البتہ! سنت یہ ہے کہ اس وقت سویا جائے جب کچھ سمجھ میں   نہ آئے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ حضرت سیِّدُنا ابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا بیٹھ کر سونے کو ناپسند فرمایا کرتے تھے۔ ([1])

            ایک مرتبہ سرکارِ نامدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ”رات کو مشقت میں   مبتلا نہ ہوا کرو ([2])         ایک بار رسولِ اَکرم،   شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  عرض کی گئی کہ فلاں   عورت رات کے وقت نماز پڑھتی رہتی ہے اور جب اس پر نیند غالب آتی ہے تو خود کو رسی سے  باندھ لیتی ہے۔ پس آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایسا کرنے سے  منع فرمایا اور ارشاد فرمایا:  ’’رات کے وقت تم میں   سے  ہر ایک کو اپنی طاقت کے مطابق نماز پڑھنی چاہئے اور جب اس پر نیند غالب آ رہی ہو تو اسے  چاہئے کہ سو جائے۔ ‘‘  ([3])

            نیز سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اتنا ہی بوجھ اٹھایا کرو جتنی تم طاقت رکھتے ہو،   کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ   اپنا فضل نہیں   روکتا جب تک کہ تم اکتا نہ جاؤ۔ ([4])

            ایک بار حضورنبی ٔپاک،   صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  عرض کی گئی کہ فلاں   شخص بغیر سوئے رات بھر نماز پڑھتا رہتا ہے اور ہمیشہ روزے سے  رہتا ہے کبھی بغیر روزہ نہیں   رہتا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’اِس دین کی سب سے  اچھی بات وہ ہے جو سب سے  آسان ہو۔ ‘‘  پھر ارشاد فرمایا:  ’’میں   نماز بھی پڑھتا ہوں   اور سوتا بھی ہوں  ،   روزہ بھی رکھتا ہوں   اور بغیر روزہ بھی رہتا ہوں  ،   پس یہی میری سنت ہے ۔ جس نے میری سنت کو ترک کیا وہ مجھ سے  نہیں  ۔ ‘‘   ([5])   ایک مرتبہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’اس دین میں   سختی مت پیدا کرو،   یہ پختہ و پائیدار ہے،   لہٰذا جو اس میں   سختی کرے گا یہ اس پر غالب آ جائے گا،   نیز خود کو اللہ

عَزَّ وَجَلَّ  کی عبادت سے  متنفر نہ کرو۔ ‘‘   ([6])

رات کا تیسرا وظیفہ: 

            تیسرے وظیفے کا وقت لوگوں   کے سو کر اٹھنے کے بعد ہے یعنی تہجد کا وقت،   اس کا تذکرہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے اس فرمانِ عالیشان میں   کیا ہے:

وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ ﳓ (پ۱۵،  بنی اسرآءیل:  ۷۹)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور رات کے کچھ حصہ میں   تہجد کرو یہ خاص تمہارے لئے زیادہ ہے ۔

            تہجد کا وقت نیند کے بعد ہی ہوتا ہے اور اس نیند سے  مراد وہی ہجوع ہے جس کا تذکرہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے رات کے اوقات میں   نماز پڑھنے والوں   کے متعلق ان الفاظ میں   کیا :

كَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ الَّیْلِ مَا یَهْجَعُوْنَ (۱۷)  (پ۲۶،  الذاريات:  ۱۷)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: وہ رات میں   کم سویا کرتے۔

            یہ وظیفہ رات کے تمام وظائف میں   وسط کی حیثیت رکھتا ہے جس طرح دن کے وظائف میں   درمیانی وظیفہ سب سے  افضل ہے اسی طرح یہ بھی رات کے وظائف میں   سب سے  افضل ہے۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس وقت کی قسم یاد کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

وَ الَّیْلِ اِذَا سَجٰىۙ (۲)  (پ۳۰،  الضحی:  ۲)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور رات کی  (قسم)  جب پردہ ڈالے۔

            ایک قول کے مطابق رات کے پردہ ڈالنے سے  مراد اس کا ٹھہر جانا ہے یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کے سوا باقی ہر شے رات کے وقت سو جاتی اور غافل ہو جاتی ہے،   کیونکہ وہ پَرْوَرْدگار ایسا زندہ ہے کہ اسے  اونگھ آتی ہے نہ نیند۔

قبولیت دعا کا وقت: 

                نبیوں   کے تاجور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے  عرض کی گئی کہ رات کے کس حصے میں   دعا زیادہ سنی جاتی ہے؟ توآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ رات کے درمیانی  (یعنی آدھی رات کے بعد والے)  حصے میں  ۔ ‘‘   ([7])    حضرت سیِّدُنا داود عَلَیْہِ السَّلَام کے متعلق مروی ہے کہ انہوں  نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ  سے  عرض کی: ’’اے میرے پَرْوَرْدگار! مجھے تیری عبادت پسند ہے،   تو کس وقت قبول فرماتا ہے؟ ‘‘  تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کی طرف وحی فرمائی: ’’اے داود! رات کے ابتدائی حصے میں   عبادت کرو نہ آخری حصے میں  ،   کیونکہ جو رات کی ابتدا میں   سو جائے وہ آخر میں   بھی سویا رہے گا اور جو آخری حصے میں   قیام کرے وہ ابتدائی حصے میں   قیام نہ کرے گا،   بلکہ رات کے درمیانی حصے میں   قیام کیا کرو یہاں   تک کہ تم خلوت



[1]     تفسير روح البيان، پ۲۹، المزمل، تحت الاية۲۰، ج۱۰، ص۲۲۰

[2]     الفردوس بماثور الخطاب، الحديث: ۷۴۶۰، ج۵، ص۶۰

[3]     صحيح البخاری، کتاب التهجد، باب مايکره من التشديد فی العبادة، الحديث: ۱۱۵۰، ص۸۹ مفهوماً

[4]     سنن ابی داود، کتاب التطوع، باب مايومر به من القصد فی الصلاة، الحديث: ۱۳۶۸، ص۵۱۳۲

[5]     صحيح البخاری، کتاب النکاح، باب الترغيب فی النکاح، الحديث: ۵۰۶۳، ص۴۳۸                       المسند للامام احمد بن حنبل، حديث محجن بن الادرح، الحديث: ۱۸۹۹۸، ج۷، ص۱۴

[6]     شعب الايمان للبیھقی، باب فی الصيام،القصد فی العبادة،الحديث: ۳۸۸۲،۳۸۸۵، ج۳، ص۴۰۱    صحيح البخاری،کتاب الايمان،باب الدين،الحديث:۳۹،ص۵

[7]     سنن ابی داود، کتاب التطوع، باب من رخص فيهما     الخ، الحديث: ۱۲۷۷، ص۱۳۱۸ المسند للامام احمد بن حنبل، حديث ابی ذر الغفاری، الحديث:۲۱۶۱۱، ج۸، ص۱۳۳



Total Pages: 332

Go To